انڈیا کا کھیلوں کے مقابلوں میں پاکستانی کھلاڑیوں کو شرکت کی اجازت دینے کا فیصلہ
پاکستان اور انڈیا کے درمیان ایک دہائی سے زائد عرصے سے دوطرفہ کرکٹ سیریز نہیں کھیلی گئی (فائل فوٹو: اے ایف پی)
انڈیا نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے ہاں منعقد ہونے والے کھیلوں کے کثیرملکی (ملٹی لیٹرل) مقابلوں میں پاکستانی ایتھلیٹس کو شرکت کی اجازت دے گا کیونکہ نئی دہلی خود کو سپورٹس کے ایک عالمی مرکز کے طور پر منوانا چاہتا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انڈیا کی وزارتِ امورِ نوجوانان و کھیل کی جانب سے جاری دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان کے ساتھ دوطرفہ کھیلوں کے مقابلے، بشمول کرکٹ، بدستور معطل رہیں گے۔‘
یاد رہے کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان گذشتہ برس کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان ایک دہائی سے زائد عرصے سے دوطرفہ کرکٹ سیریز نہیں کھیلی گئی۔
دونوں ممالک کے کھلاڑی صرف عالمی یا علاقائی ٹورنامنٹس میں ہی آمنے سامنے آتے ہیں۔
انڈیا 2030 میں ’کامن ویلتھ گیمز‘ کی میزبانی کرے گا اور اس کے ساتھ ساتھ 2036 ’اولمپکس‘ اور 2038 میں ’ایشین گیمز‘ کی میزبانی حاصل کرنے کی بھی بھرپور کوشش کر رہا ہے، تاکہ ایک ابھرتی ہوئی سپورٹس پاور کے طور پر اپنی ساکھ مضبوط بنا سکے۔
وزارتِ کھیل کے مطابق ’انڈیا کی ٹیمیں اور انفرادی کھلاڑی پاکستان کی شرکت والے بین الاقوامی مقابلوں میں عالمی اداروں کی پالیسی کے مطابق حصہ لیتے رہیں گے، کیونکہ یہ کھلاڑیوں کے مفاد میں ہے۔‘
دستاویز میں مزید کہا گیا ہے کہ ’پاکستان کے کھلاڑیوں، آفیشلز اور میڈیا نمائندگان کے لیے ویزا کے عمل کو بھی آسان بنایا جائے گا تاکہ انہیں کسی مشکل کا سامنا نہ ہو۔‘
واضح رہے کہ گزشتہ برسوں میں پاکستانی کھلاڑیوں کو ویزوں کے حصول میں تاخیر پر عالمی سپورٹس اداروں کی جانب سے انڈیا کو تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا۔
