Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پانچ سبق جو پشاور زلمی کی جیت سے سیکھنے چاہییں، عامر خاکوانی کا بلاگ

پشاور زلمی ایک ایسی ٹیم چیمپین بنی جو ہر اعتبار سے ڈیزرو کرتی تھی (فوٹو: اے ایف پی)
پشاور زلمی کی جیت اس لحاظ سے زیادہ شاندار ہے کہ ایک ایسی ٹیم چیمپین بنی جو ہر اعتبار سے ڈیزرو کرتی تھی۔
زلمی نے پورے ٹورنامنٹ میں غیرمعمولی کھیل پیش کیا، صرف ایک لیگ میچ ہارا اور بیشتر میچز بڑے واضح مارجن سے جیتے۔
کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ اتنا اچھا کھیلنے والی کوئی ٹیم فائنل میں ’بیڈ ڈے سنڈروم‘ کا شکار ہو کر ہار جاتی ہے۔ اس بار ایسا نہیں ہوا، فائنل بھی زلمی نے اپنے پچھلے میچز کی طرح واضح اور بڑے مارجن سے جیتا۔
زلمی کی جیت کے پیچھے بہت سے فیکٹرز ہی، تاہم چند ایک چیزیں ایسی ہیں جو دیگر ٹیموں کو سیکھنا چاہئیں، بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ اس تجربے سے پاکستانی قومی ٹیم بھی فائدہ اٹھا سکتی ہے، اگر کرکٹ بورڈ اور سلیکٹرز نے اس پی ایس ایل کو غور سے دیکھا ہے۔
لیڈنگ فرام دا فرنٹ
پشاور زلمی کے کپتان بابر اعظم اس بار پی ایس ایل کے بہترین بلے باز تھے۔ انہوں نے ٹیم کو فرنٹ سے لیڈ کیا اور لگ بھگ ہر میچ میں بہت متاثرکن کھیل پیش کیا، کئی میچ وننگ اننگز کھیلیں اور اپنی ٹیم کو منزل مقصود تک لے گئے۔
یہ وہ چیز ہے جو سیکھنے کی ضرورت ہے۔
پاکستانی قومی ٹیم میں پچھلے دو تین برسوں کے دوران مختلف فارمیٹ کے ایسے کپتان بنائے جو نہ صرف بہت اچھی فارم میں نہیں تھے بلکہ بعض تو اس فارمیٹ کی ٹیم کے لیے کوالیفائی بھی نہیں کرتے تھے۔
جیسے سلمان علی آغا قومی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان نہیں ہونے چاہئیں، وہ بطور عام ممبر بھی اس کے لئے کوالیفائی نہیں کرتے۔
شاہین شاہ آفریدی کا بھی کم وبیش یہی حال ون ڈے ٹیم کے لیے ہوچکا ہے۔ ان کے انداز میں غیر ضروری جارحیت آ گئی ہے اور وہ ٹی20 فارمیٹ کے لیے تو کسی حد تک موزوں ہوں گے مگر ون ڈے کے لیے ترجیحی فہرست میں نہیں آتے۔
شان مسعود ٹیسٹ ٹیم کے کپتان ہیںمگر ان کی اپنی ٹیسٹ پرفارمنس زیادہ متاثرکن نہیں، اکا دکا اچھی اننگز ضرور ہیں، مگر لیڈنگ فرام دا فرنٹ والی بات نہیں کہی جا سکتی۔

بابراعظم نے افتخار کو اپنے فرنٹ لائن بولر کے طور پر استعمال کیا (فائل فوٹو: اے ایف پی)

اچھا ٹیم کمبی نیشن
زلمی کی جیت کی سب سے بڑی وجہ ان کا بہت اچھا اور مضبوط ٹیم کمبی نیشن رہا ہے۔ ان کی ٹاپ آرڈر مضبوط رہی ہے۔ بابر ایک بہت اچھے اینکر بلے باز ہیں، ان کے ساتھ جیمز وینس اور محمد حارث جیسے تیز جارحانہ بلے باز اوپننگ سٹارٹ کرتے رہے جبکہ کوشل مینڈس نے بھی بہت اچھے سٹرائیک ریٹ کے ساتھ بابر کے ساتھ پارٹنرشپس بنائیں۔
زلمی کی ٹاپ آرڈر کئی میچز میں اتنا اچھا کھیلی کہ بعد والوں کو زیادہ موقعہ ہی نہیں ملا مگر جب کبھی ٹاپ آرڈر کولیپس ہوئی جیسا کہ فائنل میں بھی ہوا، تب بھی ان کی مڈل اور لوئر مڈل آرڈر نے اچھا کلک کیا۔
ایرون ہارڈی نے فائنل میں اچھی نصف سنچری بنائی، ایک میچ میں بریسول نے لمبی اننگ کھیلی، عبدالصمد نے عمدہ اننگز کھیلیں، فائنل میں دباؤ میں کھیلی جانے والی اننگ قابل ذکر ہے۔
فرحان یوسف بھی اچھا کھیلا۔ ایسا ہی کرنا چاہیے۔ پاکستانی ٹیم میں اکثر ایسا ہوتا رہا کہ بابر کے آؤٹ ہوتے ہی پوری ٹیم کے ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں۔ یہ کمزوری کئی بار میچ ہراتی رہی۔
نوجوان کھلاڑیوں کا بھرپور استعمال
پشاور زلمی نے اس ٹورنامنٹ میں نوجوان کھلاڑیوں کو بہت اچھا استعمال کیا۔ اس کا کریڈٹ ٹیم مینجمنٹ کو بھی جاتا ہے جس نے ڈرافٹ میں اچھے کھلاڑی پِک کیے مگر بابر اعظم نے بطور کپتان بھی انہیں بہت اچھا استعمال کیا، اعمتاد دیا اور نتائج لیے۔
عبد الباسط بہاولپور کا نوجوان فاسٹ بولر ہے، یہ کھبا میڈیم پیسر بہاولپور کی جانب سے کھیلتا ہے۔ زلمی نے اسے سلیکٹ کیا اور بھرپور موقعہ دیا۔ باسط نے بہت عمدہ کارکردگی دکھائی، اہم مواقع پر وکٹیں لیں اور پاور پلے میں رنز بھی روکے۔ اس نوجوان بولر پر اتنا اعتماد کرنا اور اسے سپورٹ کرنا قابل تعریف ہے۔

بابر اوٹس گبسن کے شکرگزار ہیں کہ انہوں نے بابر پر اعتماد دیا، فری ہینڈ دیا (فائل فوٹو: اے ایف پی)

سفیان مقیم ایک بہتریم مسٹری سپنر ہے، افسوس کہ پاکستانی قومی ٹیم سلیکٹرز کی نظرکرم سفیان مقیم پر نہیں پڑ رہی، تاہم زلمی نے اسے موقعہ دیا اور سفیان مقیم نے کمال کر دکھایا۔ وہ ٹورنامنٹ کا بیسٹ بولر بنا اور ہر میچ میں اس کی بولنگ بہت اچھی رہی۔ درمیانے اوورز میں سفیان نے رنز روکے اور اہم وکٹیں لیں۔
علی رضا کو بھی اچھے مواقع دیے گئے، تاہم ابھی اس نوجوان فاسٹ بولر کو خاصا کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ بابراعظم نے اچھا کیا کہ آخری تین چار اہم میچز میں علی رضا کو ڈراپ کر کے ایرون ہارڈی کو کھلایا ۔
بیٹنگ میں انڈر19 ٹیم کے فرحان یوسف کو مواقع ملے، فرحان نے اچھی بیٹنگ کی اور ایک عمدہ نصف سنچری بنائی۔ عبدالصمد اچھے پاور ہٹر ہیں مگر قومی ٹیم میں اس غریب کو استعمال نہیں کیا گیا۔
بابراعظم اور زلمی مینجمنٹ نے عبدالصمد پر اعتماد کیا، اس نے حیران کن سٹرائیک ریٹ کے ساتھ موقعہ ملنے پر اچھی اننگز کھیلیں۔ فائنل میں عبدالصمد کی اننگ بہت اہم اور فیصلہ کن رہی، اس نے چار چھکے لگا کر دباو ختم کر دیا۔
آوٹ آف باکس تھنکنگ
بابر نے اس بار اچھی کپتانی کی، افتخار احمد کو عام طور سے بطور بلے باز ٹیم میں شامل کیا جاتا ہے جس سے کبھی کبھار اوور بھی کرا لیا جائے۔
بابراعظم نے افتخار کو اپنے فرنٹ لائن بولر کے طور پر استعمال کیا۔ تمام میچز میں اس سے بولنگ کرائی، نئی گیند سے پہلا اوور بھی کرایا اور افتخار احمد بھی بابر کے اعتماد پر پورا اترا، اس نے اہم بریک تھرو دیے، مناسب اکانومی ایوریج کے ساتھ بولنگ کرائی ۔
افتخار کو کئی میچز میں بیٹنگ ہی نہیں ملی، دراصل زلمی نے سوچ لیا تھا کہ افتخار اچھی بیٹنگ فارم میں نہیں ہے تو کوئی بات نہیں، اس سے بولنگ میں فائدہ اٹھانا چاہیے۔ یہ حکمت عملی کامیاب رہی۔ آؤٹ آف باکس سوچنا ہی کامیابی کی کلید ہے۔

بابر اعظم کو ٹی20 میں اگر آپ نمبر چار پر کھلائیں گے تو یہ ظلم ہی ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

بہت اچھی کوچنگ ٹیم
زلمی کے کوچنگ اس بار معروف ویسٹ انڈین کوچ اوٹس گبسن نے کی۔ انہیں انٹرنیشنل ٹیموں کے ساتھ کوچنگ کا اچھا تجربہ ہے۔ ان کے ساتھ مصباح الحق جیسا تجربہ کار اور پرسکون رہنے والا بیٹنگ کوچ تھا جبکہ اظہر محمود بولنگ کوچ تھے۔
کوچنگ ٹیم نے لگتا ہے زلمی کے ڈریسنگ روم کا ماحول بہت اچھا رکھا۔ نوجوانوں کو گروم کیا، سپورٹ کی۔ سب سے بڑھ کر بابر اعظم کو بھرپور سپورٹ دی۔
بابر اوٹس گبسن کے شکرگزار ہیں کہ انہوں نے بابر پر اعتماد دیا، فری ہینڈ دیا۔
یہ بات البتہ سمجھنا چاہیے کہ صرف کوچ کا فری ہینڈ دینا اور سپورٹ کرنا ہی کافی نہیں تھا، بابر اعظم نے اس بار خاصی محنت کی، اپنی تکنیک میں مثبت تبدیلیاں کیں، اپنے بیٹنگ سٹائل کو بھی مزید فائن بنایا اور جارحانہ شاٹس کھیلنے کی عادت ڈالی۔
انہوں نے اس بار ٹورنامنٹ میں 15 چھکے لگائے ، یہ بابراعظم کا سٹآئل ہی نہیں تھا۔ بابر اس بار مختلف انداز کا بلے باز لگا، جو پیچھے ہٹ کر پل شاٹ پر لمبے چھکے بھی لگا رہا ہے، سوئپ اور پیڈل سوئپ بھی کر رہا، لانگ لیگ، سکوئر لیگ پر فلک بھی کر رہا۔
بابر نے سٹریٹ بھی لمبے چھکے لگائے۔ مصباح نے بتایا کہ کیسے بابر کی تکنیک میں مزید بہتری آئی اور اس کا سٹانس بہتر ہوا، اس کا فرنٹ فٹ بہتر ہوا اور وہ کھبے سپنرز کو کراس کھیلتے ہوئے آوٹ ہونے سے بچا رہا وغیرہ۔
یہ چیزیں پاکستانی قومی ٹیم میں بھی درکار ہیں۔ کوچ کی سپورٹ بہت ضروری ہے۔

 پشاور زلمی کے کیس میں اس کے غیر ملکی کھلاڑیوں کا بہت اچھے طریقے سے کلک کرنا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

بابر اعظم کو ٹی20 میں اگر آپ نمبر چار پر کھلائیں گے تو یہ ظلم ہی ہے۔ اگر آؤٹ آف فارم صائم ایوب کو مسلسل اوپنر کھلایا جائے اور فخر زماں جیسے کھلاڑی کو اوپنر کے بجائے نمبر چار، پانچ پر بھیجیں اور سلمان علی آغا ٹیم کے بہترین بلے باز بابر اعظم سے پہلے آ جائے تو پھر ٹیم کو جیت بھول ہی جانا چاہیے ۔
لاسٹ بٹ ناٹ لیسٹ۔ دیانت داری کا تقاضا یہ ہے کہ آخر میں خوش قسمتی کے عنصر کا بھی ذکر کرنا چاہیے، ہر کامیابی میں کچھ نہ کچھ یہ ہوتا ہی ہے۔
 پشاور زلمی کے کیس میں اس کے غیر ملکی کھلاڑیوں کا بہت اچھے طریقے سے کلک کرنا ہے۔ کوشل مینڈس نے بہت اچھی غیر معمولی کارکردگی دکھائی، شاید ہی کوئی غیر ملکی بلے باز اتنے تسلسل سے اچھا کھیلا ہو۔ میسکویل جیسا مہنگا کھلاڑی بری طرح ناکام ہوا، کئی دیگر کھلاڑی بھی۔ مائیکل بریسویل نے بھی اچھی کارکردگی دکھائی، ناہید رانا نے ابتدائی میچز میں بہت عمدہ کفایتی بولنگ کرائی اور اہم وکٹیں لیں۔ فائنل میں بھی ناہید رانا متاثرکن رہے، ویسے تو فائنل کے لیے ان کا واپس لوٹ آنا بھی اہم رہا۔
ایرون ہارڈی تو حقیقی معنوں میں زلمی کا ایکس فیکٹر رہے۔ بہت اچھی آل راؤنڈر کارکردگی اس نے دکھائی، فائنل میں تو کمال ہی کر دکھایا۔
زلمی کے تمام غیر ملکی کھلاڑی اچھا کھیلے، بروقت انہوں نے پرفارم کیا، ٹیم کی جیت میں حصہ ڈالا اور انجریز بھی کم ہوئیں۔
کراچی کنگ کو ڈیوڈ وارنر کی انجری کا نقصان ہوا، اسی طرح بعض دیگر کھلاڑیوں کے بھی معاملات رہے۔
زلمی اس لحاظ سے خوش قسمت رہا۔ زلمی کی ٹیم سلیکشن، پلاننگ سب کچھ بہت اچھی تھی، غیرمعمولی کھیلے اور پھر خوش قسمتی بھی ان کے ساتھ ہو لی۔ یہی چاہیےہوتا ہے ایک چیمپین ٹیم کو!

شیئر: