’دنیا کا تیز ترین جوتا‘: میراتھن ورلڈ ریکارڈ میں اس کا کیا کردار ہے؟
’دنیا کا تیز ترین جوتا‘: میراتھن ورلڈ ریکارڈ میں اس کا کیا کردار ہے؟
پیر 4 مئی 2026 13:44
سباسچیئن ساوے نے دو گھنٹے سے کم وقت میں لندن میراتھن مکمل کر کے عالمی ریکارڈ بنا دیا۔فوٹو: ایڈیڈاس
عالمی ایتھلیٹکس کی دنیا میں ایک تاریخی لمحہ اُس وقت سامنے آیا جب کینیا کے رنر سباسچیئن ساوے نے لندن میراتھن میں دو گھنٹے سے کم وقت میں دوڑ مکمل کرکے نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔
امریکی بزنس و ٹیکنالوجی میگزین فاسٹ کمپنی کے مطابق اس شاندار کامیابی کے پیچھے ایک غیر معمولی جوتا بھی مرکزِ نگاہ بن گیا ہے جو ایڈیڈاس کا تیارکردہ ہے۔
سباسچیئن ساوے نے ایک گھنٹہ 59 منٹ 30 سیکنڈ میں میراتھن مکمل کی اور اختتامی لائن عبور کرتے ہی ایڈیڈاس کے اہلکار نے اُن کے جوتے محفوظ کر لیے۔
بعدازاں اس جوتے، جسے ’ایڈی زیرو ایڈیوس پرو ایوو 3‘ کہا جاتا ہے، کو جرمنی میں کمپنی کے آرکائیو میں محفوظ کر دیا گیا۔
یہ جوتا دنیا کا تیز ترین ریسنگ شوز قرار دیا جا رہا ہے، جسے دیگر ایتھلیٹس نے بھی شاندار کارکردگی کے لیے استعمال کیا۔
حیرت انگیز طور پر سباسچیئن ساوے کے ساتھ ایتھوپیا کے یومِف کیجیلچا نے بھی 1:59.41 کے وقت کے ساتھ دوسری پوزیشن حاصل کی، جبکہ خواتین کے مقابلے میں، ایتھوپیا کی ٹگسٹ آسیفا نے اپنے ہی عالمی ریکارڈ کو نو سیکنڈ بہتر بنایا اور دوڑ 2:15:41 وقت کے ساتھ مکمل کی۔
مقابلے کے دوران توجہ اس بات پر مرکوز رہی کہ برطانوی دارالحکومت میں یہ تینوں کھلاڑی کیسے کامیاب ہوئے۔
بہت سے لوگوں کے نزدیک اس کا جواب جوتے میں پوشیدہ ہے۔
ایڈیڈاس کے مطابق، ایوو 3 اُن کا اب تک کا سب سے ہلکا اور تیز ترین جوتا ہے۔فوٹو: ایڈیڈاس
ایڈیڈاس کے مطابق ایوو تھری اُن کا اب تک کا سب سے ہلکا اور تیز ترین جوتا ہے، جس کا وزن صرف 97 گرام ہے یعنی ایک صابن کی ٹکیہ یا تاش کے پتے جتنا۔
کمپنی نے اس جوتے کو تیار کرنے کے لیے تین سال تک تحقیق اور تجربات کیے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جوتے کے وزن میں 100 گرام کمی سے دوڑنے کی کارکردگی میں ایک فیصد بہتری آتی ہے، جو میراتھن میں تقریباً ایک منٹ تک کا فرق ڈال سکتی ہے۔
اس جوتے کی نمایاں خصوصیت اس کا جدید فوم (لائٹ سٹرائیک) ہے، جو پہلے کے مقابلے میں 50 فیصد ہلکا اور 11 فیصد زیادہ توانائی واپس دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس کے علاوہ جوتے میں کاربن فائبر سے تیار کردہ ایک منفرد ساخت بھی شامل کی گئی ہے، جو دوڑ کے دوران استحکام فراہم کرتی ہے۔
ایوو تھری کے اوپری حصے کے لیے روایتی میٹریل کے بجائے کائٹ سرفنگ سے متاثر ہو کر انتہائی ہلکے مگر مضبوط کپڑے کا استعمال کیا گیا ہے، جبکہ اضافی سلائی اور وزن کو کم سے کم رکھنے کے لیے ڈیزائن کو انتہائی سادہ رکھا گیا ہے۔
ٹگسٹ آسیفا نے اپنا عالمی ریکارڈ بہتر کرتے ہوئے 2:15:41 میں دوڑ مکمل کی۔فوٹو: ایڈیڈاس
ایڈیڈاس نے اس جوتے کی محدود تعداد مارکیٹ میں متعارف کروائی جو چند منٹوں میں فروخت ہو گئی اور اب اس کی قیمت ثانوی مارکیٹ میں ہزاروں ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔
ماہرین کے مطابق جدید ’سپر شوز‘ کی یہ دوڑ اب مختلف عالمی برانڈز کے درمیان ایک سخت مقابلہ بن چکی ہے، جس میں ہر کمپنی بہتر کارکردگی اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے سبقت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ایڈیڈاس کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو مستقبل میں دیگر مصنوعات میں بھی شامل کیا جائے گا اور وہ اس کامیابی کے ذریعے خود کو ایک جدید اور جدت پسند سپورٹس برانڈ کے طور پر منوانا چاہتا ہے۔