برطانیہ کی گوانتانامو بے کے قیدی کو امریکی تشدد پر ’خطیر‘ معاوضے کی ادائیگی
برطانیہ کے سابق اٹارنی جنرل ڈومینک گریو نے معاوضے کو ’غیر معمولی‘ قرار دیا (فوٹو: اے ایف پی)
برطانوی حکومت نے ابو زبیدہ نامی سعودی نژاد فلسطینی کو ’خطیر‘ معاوضے کی ادائیگی کی ہے۔ ابو زبیدہ کو 2002 میں پاکستان سے گرفتار کرنے کے بعد تقریباً 20 سال سے کیوبا کے گوانتانامو بے جیل میں رکھا گیا ہے۔
عرب نیوز نے بی بی سی کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس دوران سی آئی اے نے ان پر ’تفتیش‘ کے نام پر سخت تشدد کیا، جس میں واٹر بورڈنگ، تابوت نما ڈبے میں قید اور جسمانی حملے شامل تھے۔
ابتدا میں ان پر الزام لگایا گیا کہ وہ القاعدہ کے سینیئر رکن ہیں، لیکن بعد میں یہ الزامات واپس لے لیے گئے۔ اس کے باوجود وہ اب بھی بغیر مقدمے کے حراست میں ہیں۔
معاوضہ اس انکشاف کے بعد دیا گیا کہ برطانوی خفیہ اداروں نے امریکی حکام کو ابو زبیدہ سے پوچھے جانے والے سوالات فراہم کیے، حالانکہ انہیں اس کے ساتھ ہونے والے تشدد کا علم تھا۔ ابو زبیدہ نے الزام لگایا کہ ایم آئی 5 اور ایم آئی 6 ’تشدد میں شریک‘ تھے جس پر قانونی کارروائی ہوئی۔
برطانیہ کے سابق اٹارنی جنرل ڈومینک گریو نے معاوضے کو ’غیر معمولی‘ قرار دیا، لیکن کہا کہ ابو زبیدہ کے ساتھ سلوک ’واضح طور پر غلط‘ تھا۔ ان کے مطابق برطانوی اداروں کو امریکی رویے پر اعتراض اٹھانا چاہیے تھا لیکن وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے۔
ابو زبیدہ کے وکیل پروفیسر ہیلن ڈفی نے کہا کہ معاوضہ اہم ہے مگر ناکافی ہے اور ان کی رہائی کے لیے مزید اقدامات ضروری ہیں۔ ابو زبیدہ چھ مختلف سی آئی اے ’بلیک سائٹس‘ پر بھی رکھا گیا، جن میں لیتھوانیا اور پولینڈ شامل ہیں۔ وہ ان 15 افراد میں سے ایک ہیں جو اب بھی گوانتانامو میں قید ہیں، جن میں سے کئی پر کوئی الزام نہیں۔
