Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’وژن 2030 اصلاحات کی عکاسی‘، سعودی عرب کا کوالٹی آف لائف انڈیکس کا اعلان

سعودی وزارت سیاحت احمد الخطیب نے کہا ہے کہ سعودی عرب ایک نیا کوالٹی لائف انڈیکس شروع کرنے جا رہا ہے جو اقوام متحدہ کے ادارے یو این ہیبیٹیٹ کے تعاون سے تیار کیا گیا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق امریکہ کے لیے سعودی عرب کی سفیر شہزادی ریما بنت بندر نے اسے ’دنیا کے لیے سعودی تحفہ‘ قرار دیا۔
ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم میں ایک پینل سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ سیاحت احمد الخطيب نے کہا کہ یہ انڈیکس اس طریقے سے تیار کیا گیا ہے جس کا مقصد لوگوں، شہروں اور حکومتوں کو یہ بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دینا ہے کہ شہری زندگی کو کیسے بہتر بنانا ہے۔
شہزادی ریما نے اس انڈیکس کو سعودی عرب کی وسیع تر وژن 2030 اصلاحات کی عکاسی قرار دیا اور اسے ایک ایسا ٹول قرار دیا جو سعودی عرب سے باہر لوگوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’کوالٹی آف لائف انڈیکس صرف سعودی انیشیٹیو نہیں بلکہ یہ اقوام متحدہ کا انیشیٹیو بھی ہے۔ اس کے ڈیٹا اور مواد کی ملکیت وہاں ہے۔ ہم اسے بھر رہے ہیں اور دنیا کو پیش کر رہے ہیں اور یہی بات میرے لیے سب سے زیادہ دلچسپ ہے۔‘
یہ انڈیکس جو تین سال سے سعودی عرب میں وسیع معیارِ زندگی پروگرام کے تحت تیار کیا جا رہا ہے، اس کا مقصد یہ ہے کہ شہری زندگی کے مختلف پہلوؤں کا جامع اور ہیومن سینٹرڈ جائزہ فراہم کیا جائے۔ یہ جائزہ صحت، تعلیم، نقل و حمل، حفاظت، ثقافت، تفریح اور سرسبز مقامات جیسے روزمرہ زندگی کے تمام عوامل کو مدنظر رکھ کر شہروں کی کارکردگی کو جانچتا ہے۔
الخطيب کے مطابق یہ انیشیٹیو ایک سادہ مگر پیچیدہ سوال کے بعد سامنے آیا کہ  لوگ واقعی کس شہر میں رہنا چاہتے ہیں؟
وزیر نے کہا کہ ’جب ہم نے 2017 میں معیارِ زندگی پروگرام شروع کیا تو ہم نے سب سے پہلے یہ سوال کیا کہ ہم کس قسم کے شہر میں رہنا چاہتے ہیں۔
الخطيب نے کہا کہ ’یہ سوال پیچیدہ ہے کیونکہ نوجوان نسل کی ضروریات پرانی نسل سے مختلف ہیں اور آج کے شہروں کو دونوں اور آنے والے مہمانوں کی خدمت کرنی چاہیے۔

شہزادی ریما نے کوالٹی لائف انڈیکس کو سعودی عرب میں جاری سماجی تبدیلیوں سے جوڑا (فوٹو: عرب نیوز)

یہ انڈیکس دنیا بھر کے شہروں کو اجازت دے گا کہ وہ رضاکارانہ طور پر رجسٹر ہوں، ڈیٹا جمع کروائیں اور ان معیارات کے مطابق ان کا جائزہ لیا جائے۔ الخطيب کے مطابق اس وقت تک 120 سے زائد شہر رجسٹر ہو چکے ہیں جن میں سے 20 سے زیادہ کو جانچ کر اہل قرار دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقصد یہ ہے کہ لوگوں اور خاندانوں کو عملی معلومات فراہم کی جائیں تاکہ وہ زندگی کے اہم فیصلے بہتر طور پر کر سکیں، چاہے وہ رہائش، کام، ریٹائرمنٹ یا سفر کے لیے جگہ کا انتخاب ہو، اور ساتھ ہی شہر کے رہنماؤں کو یہ واضح تصویر ملے کہ کہاں سرمایہ کاری اور اصلاحات کی ضرورت ہے۔
شہزادی ریما نے اس انڈیکس کو براہِ راست سعودی عرب میں جاری سماجی تبدیلیوں سے جوڑا، خاص طور پر خواتین کے لیے شراکت، مواقع اور مساوات کے حوالے سے۔
الخطيب کے ساتھ اس پروگرام پر کام کرنے کے تجربے کو بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ اصلاحات اس لیے کامیاب ہوئیں کیونکہ انہیں صرف اعداد و شمار پر نہیں بلکہ لوگوں کے گرد ترتیب دیا گیا تھا۔
الخطیب کا کہنا تھا نے کہ کامیابی کا اصل اندازہ نوجوانوں میں دکھائی دینے والے نتائج سے لگایا جا سکتا ہے۔ معیارِ زندگی اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ کون سے انتخاب کر سکتے ہیں۔
الخطیب نے کہا کہ ’آپ وہ نہیں بن سکتے جو آپ دیکھ نہیں سکتے۔ میں جو مواقع لوگوں کے پاس دیکھتی ہوں، چاہے وہ فنکار ہوں، کھلاڑی، فلم ساز یا موسیقار، یہی معیارِ زندگی کی اصل پیمائش ہے۔‘
سعودی عرب توقع کرتا ہے کہ اس کے اپنے شہر ان رینکنگ میں شامل ہوں گے، لیکن شہزادی ریما نے زور دیا کہ یہ انڈیکس کسی مقابلے کے لیے نہیں بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم اس لیے مقابلہ کر رہے ہیں کہ خود کو بہتر بنائیں۔۔۔ ان کے لیے جن کی ہم خدمت کرتے ہیں اور اس جگہ کے لیے جہاں ہم ہیں۔ اگر اس سے ہم نمبر ون  بن جائیں تو بہت زبردست، لیکن اصل مقصد بہتری ہے۔‘

پینل کا اہتمام سعودی ہاؤس میں ہوا (فوٹو: عرب نیوز)

شہزادی ریما نے مزید کہا کہ ٹیکنالوجی کو مقصد کے طور پر نہیں بلکہ انسانی فلاح و بہبود کو سہارا دینے کے لیے ایک آلے کے طور پر دیکھنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ انسانی مرکزیت یا ہیومن سینٹرک اصل مقصد ہے۔ ٹیکنالوجی صرف ایک ٹول ہے۔‘
پینل کے بعد عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے نورہ الیوسف جو  معیارِ زندگی پروگرام کی سینئر مشیر ہیں،  نے کہا کہ اس انڈیکس کو تیار کرنے میں چار سال لگے اور یہ دنیا بھر کے ماہرین کی مشاورت سے بنایا گیا، تاکہ یہ لوگوں اور حکومتوں دونوں کے لیے فائدہ مند ہو۔

شیئر: