Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

خواجہ آصف کے افتتاح پر انڈیا میں شور: پاکستان میں دو پیزا ہٹ آؤٹ لیٹ آمنے سامنے، اصل مالک کون؟

خواجہ آصف کو حال ہی میں سیالکوٹ کی پیزا ہٹ برانچ کا افتتاح کرتے دیکھا گیا جس پر پیزا ہٹ پاکستان نے برانچ سے متعلق وضاحتی بیان جاری کیا۔ (فوٹو: سوشل میڈیا)
حالیہ دنوں پاکستان کے وزیرِ دفاع  خواجہ محمد آصف کو سیالکوٹ میں ایک پیزا ہٹ آؤٹ لیٹ کا افتتاح کرتے ہوئے دیکھا گیا، جس کے بعد یہ معاملہ سوشل میڈیا اور بالخصوص انڈین میڈیا میں خاصی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
افتتاح کے فوراً بعد پیزا ہٹ پاکستان کی جانب سے ایک باقاعدہ عوامی نوٹس جاری کیا گیا، جس میں سیالکوٹ کینٹونمنٹ میں قائم اس آؤٹ لیٹ سے خود کو لاتعلق قرار دیا گیا۔
پیزا ہٹ پاکستان نے عوامی نوٹس میں لکھا 'پیزا ہٹ پاکستان اپنے معزز صارفین کو آگاہ کرتا ہے کہ سیالکوٹ کینٹونمنٹ میں حال ہی میں ایک غیر مجاز آؤٹ لیٹ کھولا گیا ہے جو پیزا ہٹ کے نام اور برانڈنگ کا غلط استعمال کر رہا ہے۔
یہ آؤٹ لیٹ نہ تو پیزا ہٹ پاکستان سے وابستہ ہے اور نہ ہی یم برینڈ سے۔ یہ پیزا ہٹ انٹرنیشنل کی ریسیپی، معیار، فوڈ سیفٹی اور آپریشنل اصولوں پر عمل نہیں کرتا۔
ہم نے متعلقہ حکام کو باقاعدہ شکایت درج کروا دی ہے تاکہ ہمارے ٹریڈ مارک کے غلط استعمال کو روکا جا سکے اور فوری کارروائی عمل میں لائی جائے۔

پیزا ہٹ پاکستان نے کہا کہ اس وقت پیزا ہٹ پاکستان ملک بھر میں کل 16 آؤٹ لیٹس چلا رہا ہے، جن میں 14 لاہور اور 2 اسلام آباد میں واقع ہیں۔ پاکستان میں موجود تمام مستند پیزا ہٹ آؤٹ لیٹس کی تصدیق کے لیے ہماری ویب سائٹ ملاحظہ کریں۔
اس بیان کے بعد معاملہ اس وقت مزید دلچسپ رخ اختیار کر گیا جب سیالکوٹ میں قائم مذکورہ برانچ نے اپنے سوشل میڈیا پر بیان جاری کیا جس میں سیالکوٹ برانچ کا مؤقف جاری کیا گیا۔
وائرل ہونے والے اس پوسٹر میں لکھا گیا تھا کہ سیالکوٹ میں پیزا ہٹ کی افتتاحی تقریب کو جعلی قرار دینے کا دعویٰ مکمل طور پر غلط ہے۔
گوگل پر  پاکستان میں پیزا ہٹ کی ملکیت تلاش کریں تاکہ اس بات کی تصدیق ہو سکے کہ پاکستان میں پیزا ہٹ کی سرکاری ملکیت ماکس انٹرنیشنل کے پاس ہے۔

اس وائرل ہوتے بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ہم تمام انفلوئنسرز، فوڈ بلاگرز اور میڈیا سے گزارش کرتے ہیں کہ اس حوالے سے پھیلائی جانے والی جعلی خبروں کو ہٹا دیا جائے۔
اسی تناظر میں فیس بک کے معروف فوڈ کمیونٹی گروپFoodies R Us میں ایک صارف کی جانب سے ایک تفصیلی پوسٹ شیئر کی گئی، جس میں اس معاملے پر کئی سوالات اٹھائے گئے۔
صارف نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ کیا کوئی اس معاملے پر وضاحت کر سکتا ہے؟ میں ذاتی طور پر پیزا ہٹ پاکستان کے مؤقف کو سیالکوٹ برانچ کے مقابلے میں زیادہ قابلِ اعتماد سمجھتا ہوں، خاص طور پر اس انداز کو دیکھتے ہوئے جس میں دونوں جانب سے پیغامات دیے گئے ہیں۔
دوسری بات یہ کہ جب کوئی بین الاقوامی فرنچائز پاکستان میں دوبارہ یا نئے سرے سے آغاز کرتی ہے تو عموماً اس کی پہلی برانچ کراچی، لاہور یا اسلام آباد میں کھلتی ہے۔
تیسری بات یہ کہ خواجہ آصف کسی غیر سرکاری یا غیر مجاز پیزا ہٹ آؤٹ لیٹ کے مہمانِ خصوصی کیوں ہوں گے؟
چوتھی بات یہ کہ سیالکوٹ کی انسٹاگرام پوسٹ میں یہ کہنا درست ہے کہ پیزا ہٹ کے حقوق اس وقت Maak International کے پاس ہیں، جو اسلام آباد میں قائم ایک گروپ ہے، لیکن پھر سوال یہ ہے کہ ان کی پہلی برانچ سیالکوٹ میں کیوں کھلی؟ اگر واقعی یہ Maak  کی برانچ ہے تو پھر لاہور اور اسلام آباد میں موجود آؤٹ لیٹس کس کی ملکیت ہیں؟
پانچویں بات یہ کہ  پاکستانی میڈیا کی حالی ہی میں کی گئی خبروں کے مطابق اب پیزا ہٹ کے آفیشل فرنچائز حقوق  رستم فوڈز کے پاس ہیں، اور لاہور و اسلام آباد کی برانچز انہی کی ملکیت ہیں۔ اگر ایسا ہے تو پھر Maak International کا اس پورے معاملے میں کیا کردار رہ جاتا ہے؟'

اس پوسٹ پر گروپ کے ایڈمن اور فوڈ انڈسٹری سے وابستہ شخصیت اسد شیخ نے تبصرہ کرتے ہوئے معاملے کو سمیٹنے کی کوشش کی۔
اسد شیخ نے وضاحتی بیان میں لکھا 'میں اس معاملے کا جواب دینا اور اس تھریڈ کو بند کرنا چاہتا ہوں، کیونکہ میں خود دبئی میں اس تقریب میں موجود تھا جہاں Yum Groupجو کہ پیزا ہٹ اور کے ایف سی کی پیرنٹ کمپنی ہے، نے پیزا ہٹ کے حقوق رستم فوڈز کو سائن کیے۔

اسد شیخ نے کہا کہ سیالکوٹ برانچ کا دعویٰ درست نہیں۔ Yum کے حکام حال ہی میں پاکستان آئے تھے تاکہ سابق مالکان کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکے، جو اب بھی چند آؤٹ لیٹس چلا رہے ہیں اور ایسے افراد کو فرنچائزز فروخت کر رہے ہیں جو اس تبدیلی سے لاعلم ہیں۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ پیزا ہٹ کچھ عرصہ قبل پاکستان میں اپنی سرگرمیاں ختم کر چکا تھا، تاہم اس دوران چند آؤٹ لیٹس پیزا ہٹ کے نام سے بدستور کام کرتے رہے۔ حالیہ عرصے میں پیزا ہٹ کو عالمی سطح پر چلانے والی سرکاری کمپنی نے پاکستان میں دوبارہ باضابطہ واپسی کی ہے۔
اسی تناظر میں اسد شیخ کے مؤقف کا ایک بار پھر حوالہ دیا جا سکتا ہے، جن کے مطابق یم گروپ کی جانب سے پیزا ہٹ کے فرنچائز حقوق باقاعدہ طور پر رستم فوڈ کو منتقل کیے جا چکے ہیں، اور اس وقت پاکستان میں سرکاری طور پر یہی ادارہ پیزا ہٹ کے آپریشنز دیکھ رہا ہے۔

شیئر: