Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

آپریشن سندور کا ایک سال: ’انڈیا پاکستان کو شکست دینے میں ناکام رہا، انڈین سیاسی و دفاعی ماہرین

انڈین فوجی قیادت نے اپنے چھ طیارے مار گرائے جانے کا اعتراف بھی کئی ہفتوں بعد کیا (فائل فوٹو: اے پی)
ماہرین نے پاکستان اور انڈیا کے درمیان گذشتہ پانچ دہائیوں کی بدترین کشیدگی کی پہلی برسی پر جمعرات کو کہا کہ نئی دہلی کا فوجی ردِعمل ناکام ثابت ہوا اور اس نے ملک کو عالمی سطح پر تنہائی کا شکار کر دیا۔
گذشتہ مئی میں جوہری ہتھیاروں سے لیس دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان نصف صدی کا بدترین تصادم ہوا، جس کی شروعات اپریل میں انڈیا کے زیرِانتظام کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام کے قریب ایک ہولناک حملے سے ہوئی تھی، جس میں 26 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جن میں 25 انڈین اور ایک نیپالی شہری شامل تھا۔
انڈیا نے اس حملے کا الزام پاکستان پرعائد کیا تھا، جسے اسلام آباد نے سختی سے مسترد کر دیا۔ اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں جن میں فضائی حملے، ڈرون اور میزائل کارروائیاں، سرحد پر توپ خانے اور چھوٹے ہتھیاروں کا استعمال شامل تھا۔ 10 مئی 2025 کو امریکہ کی ثالثی میں بالآخر دونوں ممالک کی جانب سے جنگ بندی کا اعلان کیا گیا۔
انڈیا کے وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے جمعرات کو کہا کہ ’آپریشن سندور کے نام سے کی گئی ملک کی فوجی کارروائی پاکستان کی جانب سے سرحد پار دہشت گردی کے خلاف اپنے دفاع کے قومی عزم کا اظہار تھا۔‘
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’انڈیا نے اپنی فیصلہ کن کارروائیوں کے ذریعے دہشت گردی کے اقدامات کا احتساب یقینی بنایا اور یہ واضح کر دیا کہ امن و سلامتی کو درپیش اس طرح کے سنگین خطرات کا مؤثر جواب دیا جائے گا۔‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈیا عالمی تنہائی کا شکار ہوا جبکہ پاکستان سفارتی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا (فائل فوٹو: اے پی)

دوسری جانب انڈین وزیرِاعظم نریندر مودی نے کہا کہ ’ملک دہشت گردی کے خاتمے اور اس کے سہولت کار نظام کو تباہ کرنے کے اپنے عزم پر بدستور قائم ہے۔‘
تاہم سیاسی اور دفاعی ماہرین نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’حکومتی دعوؤں کے باوجود انڈیا کو اس فوجی کارروائی سے کوئی خاص فائدہ حاصل نہیں ہوا۔‘
خارجہ پالیسی کے ماہر این سائی بالاجی نے کہا کہ ’آپریشن سندور شروع کر کے انڈیا کو فوجی اور تذویراتی طور پر کچھ حاصل نہیں ہوا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’آج تمام تر الزام پاکستان پر ڈالا جا رہا ہے، مگر وہ لوگ کون تھے جو بندوقیں لے کر آئے اور پہلگام میں لوگوں کو قتل کیا؟ ان کے نام کیا ہیں؟ ہم نہیں جانتے۔‘

ماہرین کے مطابق حکومتی دعوؤں کے باوجود انڈیا کو اس فوجی کارروائی سے کوئی خاص فائدہ حاصل نہیں ہوا (فائل فوٹو: گیٹی)

میجر جنرل ریٹائرڈ اشوک کے مہتا نے بھی مئی میں پاکستان کے ساتھ جھڑپوں کے دوران انڈین فوجی نقصانات کی نشان دہی کی، جنہیں ان کے مطابق ’شفاف انداز میں تسلیم نہیں کیا گیا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’انڈیا یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے پاکستان کو شکست دی، جو درست نہیں۔ ہم نے پاکستان کو شکست نہیں دی بلکہ صرف وقتی طور پر اسے خاموش کیا ہے۔‘
ان کے مطابق انڈین نقطۂ نظر سے یہ ایک فوجی کامیابی تھی، مگر یہ اپنا اصل مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہی، جو پاکستان کو سرحد پار کارروائیوں سے روکنا تھا۔‘
دہلی میں مقیم مصنفہ اور صحافی نینیما باسو نے بھی کہا کہ ’دہشت گرد کیمپوں کے خاتمے‘ کا ہدف محدود نتائج ہی دے سکا، جبکہ انڈین فوج کے سربراہ جنرل اپیندر دویدی خود بھی ایسے گروہوں کی موجودگی کا اعتراف کر چکے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ گذشتہ مئی کی فوجی کارروائی کی تفصیلات ایک سال بعد بھی مکمل طور پر منظرِ عام پر نہیں آئیں۔
پاکستان کی جانب سے مثال کے طور پر جھڑپوں کے دوران انڈین فضائیہ کے چھ طیارے مار گرائے جانے کا اعتراف بھی انڈین فوجی قیادت نے کئی ہفتوں بعد کیا۔ اگرچہ چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل انیل چوہان نے اس کی تصدیق کی، تاہم انہوں نے طیاروں کی درست تعداد نہیں بتائی۔
اس تنازعے کے بعد انڈیا عالمی سطح پر اپنی پوزیشن سے محروم ہوا ، جبکہ پاکستان کو نمایاں سفارتی برتری حاصل ہوئی، خصوصاً اس وقت جب وہ امریکہ اور اسرائیل کے ایران کے ساتھ تنازع میں ایک اہم ثالث کے طور پر اُبھرا۔
نینیما باسو کے مطابق پاکستان کی یہ بڑی کامیابی ہے کہ وہ امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لایا، چاہے یہ مذاکرات نتیجہ خیز نہ بھی رہے ہوں، جو پاکستان کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو ظاہر کرتے ہیں۔‘

انڈین دفاعی ماہر میجرجنرل ریٹائرڈ اشوک کے مہتا نے کہا کہ ’انڈیا کا پاکستان کو شکست دینے کا دعویٰ درست نہیں‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

انہوں نے کہا کہ ‘بیانیے کی جنگ جیتنے میں انڈیا کی ناکامی نے پاکستان کو برتری دلائی ہے۔‘
ماہر این سائی بالاجی نے کہا کہ اڈیا ایک ’حاشیے پر کھڑی طاقت‘ بن چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’آج انڈیا دنیا کا سب سے زیادہ تنہا ملک نظر آتا ہے۔ سفارتی سطح پر ہم دنیا کو اپنے ساتھ لانے میں ناکام رہے، اور یہ بات واضح دکھائی دی۔ آپریشن سندور کے ذریعے پاکستان کو تنہا کرنے کا منصوبہ اپنا بنیادی ہدف حاصل کرنے میں ہی ناکام رہا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’انڈیا کو پاکستان کے ساتھ جنگ میں نہیں جانا چاہیے تھا۔‘
’ہمیں جنگ کی بجائے دیگر تمام ذرائع استعمال کرنے چاہیے تھے تاکہ دہشت گردی کا مالی اور تنظیمی ڈھانچہ ختم کیا جا سکتا جو انڈین عوام کی زندگیوں کو متاثر کر رہا ہے۔‘
این سائی بالاجی نے کہا کہ ‘آج بدقسمتی سے انڈیا کو کوئی مؤثر آواز نہیں سمجھتا، اور آپریشن سندور نے اس صورتِ حال کو بدلنے کی بجائے مزید خراب کیا اورانڈیا کو مزید حاشیے پر دھکیل دیا۔‘

شیئر: