Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

یورپ کے لیے ڈنکی: لاپتہ 76 پاکستانیوں کا سراغ مل گیا، اس وقت کہاں ہیں؟

جنوری سے دسمبر 2025 کے دوران 26 ہزار 940 افراد کو وسطی بحیرہ روم میں روک کر لیبیا واپس بھیجا گیا۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
غیر قانونی طریقے سے لیبیا کے راستے یورپ جانے کی کوشش میں لاپتہ ہونے والے 76 پاکستانی شہریوں کا بالآخر سراغ مل گیا ہے۔
لیبیا کے حکام کے مطابق یہ تمام افراد اس وقت لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں واقع تاجورا (Tajora) ڈیٹینشن سینٹر میں تحویل میں موجود ہیں۔
لیبیا کی متعلقہ حکومتی اتھارٹیز نے زیرِ حراست پاکستانیوں کی مکمل تفصیلات، جن میں نام، ولدیت، پاسپورٹ یا ایمرجنسی ٹریول ڈاکومنٹ نمبر اور قومی شناختی کارڈ نمبر شامل ہیں، باضابطہ طور پر پاکستانی حکام کے حوالے کر دی ہیں، جس کے بعد ان افراد کی رہائی اور وطن واپسی کے لیے سفارتی اور انتظامی سطح پر اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔
 یہ تمام پاکستانی شہری مختلف اوقات میں انسانی سمگلروں کے ذریعے غیر قانونی طور پر لیبیا پہنچے تھے، جہاں یورپ جانے کی کوشش کے دوران انہیں گرفتار کر کے حراست میں لے لیا گیا۔ فراہم کردہ دستاویزات میں واضح کیا گیا ہے کہ ان تمام افراد کے کوائف پہلے ہی انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (IOM) کے لیبیا میں موجود دفتر کو فراہم کیے جا چکے ہیں، جس کے بعد پاکستانی سفارتخانے نے لیبیا حکام سے مسلسل رابطہ رکھا اور زیرِ حراست افراد کی موجودگی اور شناخت کی تصدیق کی گئی۔
حکام کے مطابق تاجورا ڈیٹینشن سینٹر میں موجود یہ افراد مختلف قومیتوں کے قیدیوں کے ساتھ رکھے گئے ہیں، تاہم پاکستانی شہریوں کی فہرست الگ سے مرتب کر کے پاکستان کو فراہم کی گئی ہے۔
دستاویزات کے مطابق زیرِ حراست 76 پاکستانی شہریوں کا تعلق ملک کے مختلف حصوں سے ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ غیر قانونی ہجرت کا رجحان صرف کسی ایک خطے تک محدود نہیں۔
فہرست کے مطابق سب سے زیادہ تعداد ضلع کرم سے تعلق رکھنے والے افراد کی ہے، جن کی تعداد تقریباً 18 بتائی جاتی ہے، جبکہ گوجرانوالہ سے 10، شیخوپورہ سے آٹھ، راولپنڈی سے چھ، پشاور سے چار اور گجرات سے چار افراد شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سیالکوٹ، منڈی بہاؤالدین، حافظ آباد، خیبر، ہری پور، فیصل آباد، نارووال، جہلم، چنیوٹ، سرگودھا، کوٹلی آزاد کشمیر اور بھمبر آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے افراد بھی اس فہرست میں شامل ہیں، جن میں زیادہ تر نوجوان اور درمیانی عمر کے افراد شامل ہیں جو بہتر روزگار اور روشن مستقبل کے خواب لیے گھر سے نکلے تھے۔

ترجمان ایف آئی اے نے کہا کہ حکومتِ پاکستان غیر قانونی امیگریشن میں ملوث مافیا کے خلاف بلاامتیاز سخت کارروائی جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

ان افراد کی گمشدگی نے ان کے اہلِ خانہ کو شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کر رکھا تھا۔ کئی خاندانوں نے حکام کو بتایا ہے کہ لیبیا پہنچنے کے بعد ان کے پیاروں سے آخری رابطہ مختصر فون کال یا پیغام کی صورت میں ہوا، جس کے بعد اچانک رابطہ منقطع ہو گیا۔
گوجرانوالہ، شیخوپورہ، ضلع کرم اور پشاور سے تعلق رکھنے والے متعدد خاندانوں نے ایف آئی اے، وزارتِ خارجہ اور اوورسیز پاکستانیوں سے متعلق اداروں کے دفاتر کے چکر لگائے، درخواستیں دیں اور سوشل میڈیا کے ذریعے بھی مدد کی اپیلیں کیں، تاہم کئی ماہ تک کوئی مصدقہ اطلاع سامنے نہ آ سکی۔ اب ان کی حراست کے بعد اہل خانہ سے رابطے کرکے ان کو آگاہ کیا جا رہا ہے۔
پاکستانی سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستانی سفارتخانہ طرابلس لیبیا کی وزارتِ داخلہ، آئی او ایم اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے تاکہ زیرِ حراست پاکستانیوں کی قانونی حیثیت کا تعین کیا جا سکے اور انہیں جلد از جلد وطن واپس لایا جا سکے۔
اس حوالے سے رابطہ کرنے پر ترجمان ایف آئی اے نے کہا کہ حکومتِ پاکستان غیر قانونی امیگریشن میں ملوث مافیا کے خلاف بلاامتیاز سخت کارروائی جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔

تاجورا ڈیٹینشن سینٹر میں موجود یہ افراد مختلف قومیتوں کے قیدیوں کے ساتھ رکھے گئے ہیں۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

 پیشہ ور سمگلروں، مافیا اور اُن کے سہولت کاروں کے خلاف مؤثر کریک ڈاؤن، ایئرپورٹس پر امیگریشن چیکنگ کے نظام کو مزید مضبوط اور سفری دستاویزات کی سخت سکریننگ کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
خیال رہے جنوری سے دسمبر 2025 کے دوران 26 ہزار 940 افراد کو وسطی بحیرہ روم میں روک کر لیبیا واپس بھیجا گیا۔ یہ محض ایک سال کا ڈیٹا نہیں بلکہ سختیوں کے باوجود بڑھتے ہوئے رجحان کی کڑی ہے۔ 2023 میں یہ تعداد 17 ہزار 190 تھی، جو 2024 میں بڑھ کر 21 ہزار 762 ہو گئی، اور 2025 میں اس نے ایک نئی حد چھو لی۔
 2025 میں پکڑے جانے والوں میں 23 ہزار 380 مرد، 2 ہزار 379 خواتین اور 973 بچے شامل تھے۔ آئی او ایم اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستانی شہری اس راستے پر سب سے نمایاں رہے۔ اندازوں کے مطابق 2025 میں واپس بھیجے گئے افراد میں 4 ہزار سے 6 ہزار پاکستانی شامل تھے۔ اس سے پہلے 2023 میں یہ تعداد تقریباً 3 ہزار 500 سے 4 ہزار اور 2024 میں 4 ہزار سے زائد رہی۔ یوں صرف تین برسوں میں کم از کم 12 سے 15 ہزار پاکستانی براہِ راست اس خطرناک راستے سے متاثر ہوئے۔

شیئر: