Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’جعلی شناخت پر یورپ جانے کی کوشش‘، ایف آئی اے نے ایئرپورٹ سے ملزموں کو کیسے پکڑا؟

ایئر پورٹ پر ہی ابتدائی تفتیش کے دوران یہ واضح ہوا کہ دونوں افراد کا دعویٰ جھوٹا تھا (فوٹو: اے پی پی)
اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 23 جنوری کی شام معمول کے مطابق پروازوں کی آمد و رفت جاری تھی کہ اچانک دو مسافروں کے دعوے نے ایف آئی اے اور امیگریشن حکام کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی۔
عامر شہزاد اور محمد کامران نے خود کو ایف بی آر کے سرکاری وفد کا رکن قرار دے کر یورپ روانگی کی کوشش کی، مگر چند سوالات، ایک پروٹوکول کال اور دستاویزات کی کمی نے اس کہانی کو مشکوک بنا دیا۔ یہی شبہ آگے چل کر ایک بڑے سکینڈل کو بے نقاب کرنے کی وجہ بنا۔
عامر شہزاد اور محمد کامران نامی ان مسافروں نے امیگریشن اور ایف آئی اے حکام کو بتایا کہ ’وہ ایف بی آر کے سرکاری وفد کے طور پر یورپی پارلیمنٹ کے دورے پر جا رہے ہیں۔‘

 

مسافروں نے یہ دعویٰ تو کیا کہ وہ ایف بی آر کے سرکاری وفد کا حصہ  ہیں، تاہم وہ اِس حوالے سے کوئی سرکاری اجازت نامہ یا دستاویزات پیش نہ کر سکے۔
ایف آئی اے حکام نے مسافروں سے اس سفر کے حوالے سے مزید سوالات کیے، لیکن وہ تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہے، جس کے بعد ان پر شبہ مزید بڑھ گیا۔
ملزموں کی جانب سے سرکاری اجازت نامہ، ایف بی آر کی تصدیق یا وفد کی باضابطہ لسٹ فراہم نہ کی گئی، جس پر ایف آئی اے نے مسافروں کو ایئرپورٹ پر روک لیا۔
ایئر پورٹ پر ہی ابتدائی تفتیش کے دوران یہ واضح ہوا کہ دونوں افراد کا دعویٰ جھوٹا تھا اور انہوں نے ایف بی آر کی شناخت کا غلط استعمال کیا۔
ایف آئی اے کی مزید چھان بین کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ’یہ دونوں ملزم ایف بی آر کے ایک افسر کی مدد سے خود کو سرکاری وفد کا حصہ ظاہر کر کے جعلی شناخت کے ساتھ ملک سے باہر جانے کی کوشش کر رہے تھے۔‘
بعد ازاں ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد میں ملزموں کے خلاف مقدمہ درج کر کے دونوں ملزموں کو گرفتار کر کے مزید تفتیش کا آغاز کر دیا گیا۔

ملزمان کے واٹس ایپ پیغامات سے یہ انکشاف ہوا  کہ ایف بی آر کے افسر عتیق الرحمان چوہدری ملزموں کے ساتھ رابطے میں تھے (فوٹو: اے ایف پی)

اس کیس کا ایف بی آر سے کیا تعلق ہے؟
ایئرپورٹ پر دونوں ملزموں کے لیے ایف بی آر (پاکستان کسٹمز) کی طرف سے پروٹوکول کی کال موصول ہونے پر ایف آئی اے حکام کو کیس کے ایف بی آر سے تعلق پر شبہ ہوا۔
اردو نیوز کو ایف آئی اے کے متعلقہ تفتیشی افسروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ’ملزموں نے خود کو ایف بی آر کے وفد کا حصہ ظاہر کیا، جس پر ایف آئی اے حکام نے ان کے اس دعوے کی تصدیق کرنے کا فیصلہ کیا۔‘
ملزمان کے واٹس ایپ پیغامات سے یہ انکشاف ہوا  کہ ایف بی آر کے افسر عتیق الرحمان چوہدری ملزموں کے ساتھ رابطے میں تھے۔ دونوں ملزموں کی واٹس ایپ چیٹ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ عتیق الرحمان چوہدری ویزوں کے حصول میں سہولت کاری کر رہا تھا۔
علاوہ ازیں، ملزموں کے موبائل فون سے بینک ٹرانزیکشنز اور ادائیگیوں کے شواہد بھی برآمد ہوئے۔
اردو نیوز کو موصول ہونے والی معلومات کے مطابق، ملزموں نے بینک آف پنجاب اور میزان بینک کے اکاؤنٹس کے ذریعے ایف بی آر کے افسر سے لاکھوں روپے کا لین دین کیا۔
ایف آئی اے کے مطابق یہ رقم یورپ کے جعلی ویزوں کے حصول کے لیے دی گئی تھی اور عتیق الرحمان چوہدری نے ملزموں کو ایف بی آر کا سرکاری وفد ظاہر کرنے میں مدد فراہم کی۔

ایف آئی اے کے مطابق، ملزموں کا ایف بی آر کے افسر کی مدد سے یورپ میں غیرقانونی طور پر جانے اور سیاسی پناہ لینے کا منصوبہ تھا۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)

ملزم عتیق الرحمان نے دیگر ملزموں کو بھی ویزا کے حصول میں مدد کے لیے ایف بی آر کی آفیشل ای میل استعمال کرتے ہوئے مختلف ممالک کے سفارت خانوں سے رابطہ کیا۔
ایف آئی اے کی تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ’ایف بی آر کے افسر نے ملزموں سے 53  لاکھ روپے لیے اور انہیں یقین دلایا کہ وہ سرکاری وفد کے طور پر اسلام آباد سے یورپ روانہ ہوں گے۔‘
ایف آئی اے کے مطابق، ملزم نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے شہریوں کو سرکاری وفد کا حصہ ظاہر کر کے یورپ بھیجنے کی کوشش کی۔
ایف آئی اے نے اس حوالے سے مزید تفصیلات کے لیے ایف بی آر سے ریکارڈ بھی طلب کر لیا ہے، جب کہ ایف بی آر کے متعلقہ افسروں کو بھی طلب کر لیا گیا ہے۔ ’ملزم یورپ جا کر سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے تھے‘
ایف آئی اے کو یہ بھی معلوم ہوا کہ ’دونوں ملزم نہ صرف فرانس جانا چاہتے تھے بلکہ فرانس کے بعد سپین اور دیگر یورپی ممالک جانے کا بھی ارادہ رکھتے تھے۔‘
ایف آئی اے کے مطابق، ملزموں کا ایف بی آر کے افسر کی مدد سے یورپ میں غیرقانونی طور پر جانے اور سیاسی پناہ لینے کا منصوبہ تھا۔ ایف آئی اے نے ملزموں کے پاس سے تیار کردہ ٹریول پلان، پاسپورٹ اور ویزے اپنے قبضے میں لے لیے ہیں۔

ایف آئی اے کی دو رکنی تفتیشی ٹیم ملزموں کے ضبط شدہ موبائل فونز اور ڈیجیٹل شواہد کا فرانزک کروا رہی ہے (فوٹو:اے ایف پی)

اردو نیوز کو ایف آئی اے کی تفتیشی ٹیم نے مزید بتایا کہ اس کیس میں مزید سرکاری افراد کی ممکنہ شمولیت سامنے آ رہی ہے اور یہ سکینڈل وسیع ہو سکتا ہے۔
اس وقت ایف آئی اے کی دو رکنی تفتیشی ٹیم ملزموں کے ضبط شدہ موبائل فونز اور ڈیجیٹل شواہد کا فرانزک کروا رہی ہے اور کیس کا ہر پہلو سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ایف آئی اے کی جانب سے ملزموں عامر شہزاد اور محمد کامران کو گرفتار کیا جا چکا ہے جب کہ ایف بی آر کے افسر نے حفاظتی ضمانت لے رکھی ہے۔
اردو نیوز نے ایف بی آر سے اس حوالے سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی، مگر ادارے کی جانب سے ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ تاہم ملزم عتیق الرحمان سے متعلق یہ بات بھی سامنے آ رہی ہے کہ وہ حال ہی میں ایف بی آر سے ریٹائر ہوا ہے، لیکن اس حوالے سے ایف بی آر نے ابھی تک تصدیق نہیں کی۔

 

شیئر: