Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

وزیراعظم سے سہیل آفریدی کی ملاقات، ’صوبے کے مسائل اور حقوق پر بات کی‘

سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم سے صوبے کے مسائل اور حقوق پر بات کی (فوٹو: سکرین شاٹ)
خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات میں کوئی سیاسی بات نہیں ہوئی بلکہ صوبے کے مسائل اور حقوق پر بات کی ہے۔
پیر کو اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات کے بعد سہیل آفریدی نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ سب سے پہلے بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعے پر بات ہوئی اور اس کی مذمت بھی کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’دہشت گردی کا کوئی صوبہ، ملک اور مذہب نہیں ہوتا، پہلے بھی دہشت گردی کی مذمت کی ہے اور آگے بھی کریں گے۔‘
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تعاون کے علاوہ صوبے کے این ایف سی، این ایچ سی اور وفاق کے ذمے خیبر پختونخوا کے دوسرے بقایہ جات کے حوالے بے گفتگو ہوئی۔
ان کے مطابق وزیراعظم صوبے کے معاشی مسائل کے حوالے سے وفاقی وزیر احسن اقبال اور دوسرے حکام کو ہدایات جاری کیں۔
سہیل آفریدی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان سے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل کے بارے میں بھی بات ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت اپنی جیب سے 26 ارب روپے قبائل علاقوں پر خرچ کر چکی ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ بطور وزیراعلیٰ یہ ملاقات ان کے عہدے کا تقاضا تھی اور بطور سیاسی ورکر شاید وہ ایسا نہ کرتے۔
’خیبر پختونخوا کے عوام اور حقوق کے لیے یہ ملاقات ضروری تھی، دہشت گردی کے حوالے سے مزید ملاقاتیں بھی ہوں گی۔‘
انہوں نے چار ارب روپے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تیراہ، باجوڑ اور دوسرے قبائلی علاقوں کے لوگ جو قربانیاں دے رہے ہیں ان کے سامنے یہ کچھ بھی نہیں ہے۔
ان کے بقول یہ لوگ پاکستان کے لیے قربانی دے رہے ہیں ایسے بیانات سامنے نہیں آنے چاہییں جن سے ان کی دل ازاری ہو۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ بانی پاکستان تحریک انصاف سے ملاقات نہ ہونے دینے سے متعلق بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی۔

شیئر: