تیراہ کی اقوام کا جرگہ بُلا کر بے دخلی کی وجہ پوچھیں گے: وزیراعلٰی سہیل آفریدی
وزیراعلٰی سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے لوگ لیبارٹری نہیں اور نہ ہی کیڑے مکوڑے ہیں، پورے ضلع خیبر میں بسنے والی اقوام کا جرگہ بلا کر پوچھیں گے کہ وہ اپنی مرضی سے بے دخل ہوئے یا زبردستی گھر چھوڑنے پڑے۔
منگل کی رات وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے وادی تیراہ میں آپریشن کے حوالے سے جاری کیے ویڈیو پیغام میں کہا کہ علاقے میں ایک بار پھر سخت ترین حالات مسلط کیے گئے ہیں۔
’رجیم چینج کے بعد جب دہشتگرد دوبارہ آباد ہو رہے تھے تو خیبر سے ہزارہ، ملاکنڈ سے لے کر ڈی آئی خان اور وزیرستان تک ہم نے جرگے اور امن پاسون منعقد کیے۔‘
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ’ہم نے خبردار کیا تھا کہ پختون قوم کے سروں کا سودا ہو رہا ہے اور ہم پر دہشتگردی دوبارہ مسلط کی جا رہی ہے، اس وقت پی ڈی ایم کی ناجائز حکومت کہتی تھی کہ ہم جھوٹا پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔‘
وزیراعلٰی نے دعوی کیا کہ اُس وقت پختون قوم بڑی تعداد میں باہر نکلی اور بند کمروں کے فیصلوں کو مسترد کیا، جن اضلاع میں عوام نے ان فیصلوں کو رد کیا وہاں آج بھی امن قائم ہے جبکہ بدقسمتی سے جن اضلاع میں اس خطرے کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا، وہ دوبارہ بدامنی کا شکار ہیں۔‘
سہیل آفریدی نے کہا کہ جب 22 بڑے اور 14 ہزار سے زائد انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز سے بدامنی ختم نہیں ہو سکی تو سمجھائیں کہ دوبارہ آپریشن کے فائدہ مند نتائج کیا ہوں گے؟
خیبر پختونخوا اسمبلی کی چھت تلے تمام مکاتب فکر اور صوبے کی تمام سیاسی جماعتوں کے جرگے نے متفقہ طور پر 15 نکاتی ایجنڈا منظور کیا، سب اس بات پر متفق تھے کہ ملٹری آپریشن مسئلے کا حل نہیں اور آپریشن سے دہشتگردی ختم نہیں ہو رہی۔
’کور کمانڈر اور آئی جی ایف سی کی سربراہی میں 24 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی، کمیٹی میں آفریدی قوم کے بڑوں کو کہا گیا کہ آپ لوگ گھروں کو خالی کریں، آفریدی قوم نے کمیٹی ممبران سے اتفاق نہیں کیا لیکن انہیں مجبور کیا گیا کہ برفباری کے موسم میں اپنے گھر بار خالی کریں۔‘
وزیراعلٰی کا کہنا تھا کہ اب نقل مکانی کرنے والے بوڑھوں، بچوں اور خواتین کو پوری دنیا دیکھ رہی ہے، اور برفباری کی وجہ سے آپریشن بھی نہیں ہو پا رہا۔‘
سہیل آفریدی نے کہا کہ ’یہ آپریشن صرف مجھے اپنے لوگوں میں بدنام کرنے اور میری حکومت کو ختم کرنے کے لیے شروع کیا گیا لیکن میں اپنے لوگوں کے درمیان گیا اور انہوں نے مجھے پیار اور عزت دی۔‘
