Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

خیبر پختونخوا حکومت کے مفادات ٹی ٹی پی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں: خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ کے پی حکومت اپنی ناکامیوں کا سارا ملبہ فوج پر یا ایسے آپریشن پر ڈالنا چاہتی ہے جس کا کوئی وجود ہی نہیں۔
منگل کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’صوبائی حکومت کے لوگوں کے مفادات ٹی ٹی پی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور وہ اپنے مفادات کے لیے کام کررہے ہیں۔ کالعدم ٹی ٹی پی اپنے خاندان کے ساتھ وہاں رہتے ہیں۔‘
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ’تیراہ فی ایکٹر 35 لاکھ کی بھنگ کاشت ہوتی ہے اور یہی اصل جھگڑا ہے کہ یہ آپریشن کے خلاف بات کرتے ہیں۔‘
’وادی تیراہ کا پراجیکٹ صوبائی حکومت نے پیسے کھانے کے لیے بنایا، علاقے کو خالی کروا کے کوئی آپریشن نہیں ہو رہا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’تیراہ میں خفیہ معلومات کی بنیاد پر آپریشن ہو رہا ہے، کوئی باقاعدہ آپریشن نہیں ہو رہا۔ تیراہ میں کوئی بحران نہیں ہے۔ یہ کرائسز نہیں ہے لیکن اسے کرائسز کی شکل دی جا رہی ہے، یہ روٹین کا کام ہے۔ لوگ سردی میں دوسرے علاقوں میں جاتے ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ کے پی حکومت لوگوں کی توقعات پر پوری نہیں اتر رہی۔ تیراہ میں کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوئے۔  وادی تیراہ میں کوئی تھانہ، ہسپتال یا سکول نہیں۔
انہوں نے کہا کہ چار ارب کا صوبائی پیکج کن لوگوں کی جیبوں میں گیا ان کے تفتیش ہونی چاہیے۔

 

شیئر: