Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کراچی میں مفت اشتہاری بورڈز کا خاتمہ، ’اب انتظامیہ سے اجازت لینا ہوگی‘

بل بورڈز کے حوالے سے نئے اقدام پر شہری مخلف ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں (فائل فوٹو: اے پی پی)
پاکستان کے شہر کراچی میں انتظامیہ نے مفت بورڈز اور بینرز لگانے پر پابندی لگاتے ہوئے بغیر ٹیکس ادا کیے اشتہاری مہم چلانے والوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا ہے۔
بلدیہ عظمیٰ کراچی کے مطابق اب شہر بھر میں مفت اشتہاری بورڈز یا بینرز لگانے کی کسی کو اجازت نہیں ہوگی۔ میئر کراچی کی ہدایات پر بلدیہ عظمیٰ کراچی نے شہر بھر کارروائی کا آغاز کیا جس میں ایسے تمام اشتہارات ہٹائے جا رہے ہیں جو قانونی اجازت یا بلدیاتی ٹیکس کے بغیر لگائے گئے تھے۔
انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ اب کوئی بھی اشتہار بغیر اجازت اور ٹیکس کے نہیں لگ سکے گا۔
کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ترجمان نے اردو نیوز کو بتایا کہ شہر کے مختلف کمرشل اور رہائشی علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں اور اس کا دائرہ کار مرکزی شاہراہوں، مارکیٹوں تک بڑھایا جا رہا ہے۔

مفت اشتہار دینے والے اور چھوٹے کاروبار متاثر

کراچی میں کئی چھوٹے دکاندار اور کاروباری افراد اپنی مصنوعات یا خدمات کے لیے چھوٹے بورڈ یا بینر مفت لگاتے تھے تاکہ کم خرچ میں گاہکوں کو متوجہ کر سکیں۔ اب یہ آپشن ختم ہو گیا ہے، اور ایسے کاروباری افراد کو اجازت نامہ حاصل کرنا پڑے گا اور ممکنہ طور پر ٹیکس بھی ادا کرنا ہوگا۔
لیاقت آباد کے ایک چھوٹے دکاندار نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم اپنے بینر خود پرنٹ کرکے فٹ پاتھ یا دکان کے سامنے لگاتے تھے، اب ایسا نہیں کر سکتے۔ یہ ہمارے لیے ایک چھوٹا سا چیلنج ہے کیونکہ ہر اضافی اجازت یا فیس ہمارے محدود بجٹ میں اضافہ کرے گی۔‘
ایک اشتہاری کمپنی کے نمائندے نے اردو نیوز کو بتایا کہ چھوٹے کاروبار اب غیر رسمی طریقے سے اشتہارات نہیں دے سکیں گے، اور اس کے لیے انہیں باضابطہ اجازت اور ممکنہ اخراجات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بڑے اشتہارات رکھنے والے کاروباری ادارے یا برانڈز زیادہ تر اس تبدیلی سے متاثر نہیں ہوں گے کیونکہ ان کے پاس قانونی طریقے سے اجازت لینے اور فیس ادا کرنے کی سہولت موجود ہے۔

بعض لوگ خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اس اقدام سے چھوٹے کاروبار متاثر ہو سکتے ہیں (فائل فوٹو: اے پی پی)

شہریوں کا ردعمل

کراچی کے شہری بھی اس اقدام پر مختلف ردعمل دے رہے ہیں۔ کچھ لوگ اسے خوش آئند قرار دے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ شہر کی سڑکیں، پل اور فلائی اوورز اب غیرضروری اور بے ترتیب اشتہارات سے محفوظ ہوں گے۔ صدر کے رہائشی ایک شہری شاہد حنیف نے کہا کہ صدر میں تشہیری نظام بہت بے ہنگم ہے، رہائشی اور کمرشمل عمارتوں پر اتنے اشتہاری بورڈز آویزاں ہیں کہ گھروں کی کھڑکیاں، روشن دان سب بورڈز کی زد میں آکر بند ہو گئے ہیں، مارکیٹ ایسوسی ایشنز اور بااثر افراد اپنی مرضی سے جہاں چاہتے ہیں وہاں بورڈز، بینرز اور تصاویر لگا دیتے ہیں، کوئی انہیں پوچھنے والا نہیں ہوتا۔
دوسری جانب کچھ شہری خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اس سے چھوٹے کاروبار متاثر ہو سکتے ہیں۔ ناظم آباد کی ایک پرنٹنگ دکان کے مالک شمس العارفین نے کہا کہ ’ہم بڑے اشتہاری بورڈ نہیں لگا سکتے، صرف چھوٹا سا بینر ہوتا تھا۔ اب اجازت لینا ضروری ہو گیا ہے اور ہمیں نہیں معلوم کہ اس کا خرچ کہاں سے پورا کریں۔‘

بین الاقوامی تناظر

کراچی انتظامیہ کا یہ اقدام عالمی شہروں میں آؤٹ ڈور اشتہارات کے نظم و نسق کے تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔ دُنیا کے برے شہروں جیسے لندن، نیویارک، سنگاپور اور استنبول میں ہر اشتہار کے لیے واضح اجازت نامہ، سائز کی حد اور حفاظتی معیار موجود ہیں۔ وہاں غیرقانونی اشتہارات کی فوری نشاندہی اور ہٹانے کے نظام قائم ہیں تاکہ شہری مناظر، ٹریفک سیفٹی اور عوامی مقامات کے استعمال میں توازن قائم رہے۔

آندھی کے دوران بڑے بل بورڈز کے گرنے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں (فائل فوٹو: اے پی پی)

ماہرین کے مطابق کراچی میں یہ قدم اسی عالمی اصول کے مطابق شہری مناظر، قانونی عملداری اور شہری تحفظ کے لیے ایک ابتدائی اقدام کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

عدالتی اور قانونی پس منظر

کراچی میں یہ مسئلہ نیا نہیں۔ سپریم کورٹ اور سندھ ہائیکورٹ پہلے ہی عوامی مقامات پر بڑے اشتہارات کو غیر قانونی قرار دے چکی ہیں اور بلدیاتی اداروں کو انہیں ہٹانے کی ہدایت جاری کر رکھی ہیں۔ تاہم ماضی میں عدالتی احکامات پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو سکا۔
شہری منصوبہ بندی کے ماہرین کے مطابق یہ اقدام قانونی اور شہری نظم کے نقطہ نظر سے اہم ہے کیونکہ بعض اوقات ایسے بڑے بل بورڈز ٹریفک حادثات اور انسانی حفاظت کے مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔

 

شیئر: