’دفعہ 144 کی خلاف ورزی‘: بسنت کے دنوں میں بائیک پر حفاظتی راڈ نہ لگانے پر مقدمہ
لاہور میں بسنت کے دنوں میں موٹر سائیکل پر حفاظتی راڈ نہ لگوانے پر ایک شخص کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
پولیس کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ پکڑے گئے شخص کا نام حمزہ جمیل ہے اور وہ فردوس مارکیٹ کا رہائشی ہے۔
متن کے مطابق نصیر آباد کے علاقے میں گشت کے دوران ایک حمزہ جمیل نامی شخص کو بغیر حفاظتی اینٹیا کے موٹر سائیکل چلاتے ہوئے دیکھ کر روکا گیا جو کہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی تھی، جس کے بعد اس کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔
تھانہ نصیر آباد میں تعینات سب انسپکٹر خالد محمود نے اردو نیوز کو بتایا کہ موٹر سائیکل پر سیفٹی راڈ نہ لگانے والے کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ حفاظتی انٹینا یا راڈ نہ لگانے والوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔
خیال رہے اس وقت پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں بسنت کی تیاریاں جاری ہیں جس کے لیے ایک باقاعدہ لائحہ عمل ترتیب دیا گیا ہے۔
اور اسی کے تحت ہی شہر میں دفعہ 144 نافذ کی گئی، جس کے مطابق موٹر سائیکل پر حفاظتی راڈ لگوانا ضروری ہے اور بڑی تعداد میں اس وقت لوگ اپنی بائیکس پر راڈ لگوا بھی چکے ہیں۔
حکام کی جانب سے پتنگیں اور ڈور فروخت کرنے کے حوالے سے مختلف ضوابط وضع کیے گئے اور سامان کی فروخت کے لیے باقاعدہ لائسنس جاری کیے گئے ہیں۔
حکام کی جانب سے پتنگوں پر مذہبی یا سیاسی شخصیات کی تصاویر لگانے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔
لاہور میں بسنت کا انعقاد تقریباً دو دہائیوں کے بعد دیکھنے میں آ رہا ہے کیونکہ گلے پر ڈور پھرنے کے واقعات سے ہلاکتوں کے بعد اس پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔
اس پر بعض حلقوں کی جانب سے تنقید بھی کی جاتی رہی اور مطالبہ کیا جاتا رہا کہ حفاظتی انتظامات کے تحت اس کا انعقاد ہونا چاہیے۔
موجودہ صوبائی حکومت نے اس ضمن میں ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے بسنت کے انعقاد کا اعلان کیا تھا جس میں چند روز ہی باقی ہیں۔
صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اہتمام لوگوں کی تفریح کے لیے کیا جا رہا ہے اس لیے ضروری ہے تمام لوگ بسنت کے حوالے سے وضع کیے گئے ضوابط کی پابندی کریں۔