ٹی20 ورلڈ کپ: ’انڈیا کے خلاف میچ نہ کھیلنے سے پاکستان پہلے مرحلے میں بھی باہر ہو سکتا ہے‘
پاکستان کی ٹی20 ٹیم سپن بولرز کی کارکردگی کی بدولت ورلڈ کپ سے قبل عمدہ فارم میں ہے، تاہم انڈیا کے خلاف اپنا اہم گروپ میچ نہ کھیلنے کا متنازع فیصلہ ایک بار پھر ٹیم کو ایونٹ کے پہلے مرحلے سے باہر کرنے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق بنگلہ دیش نے سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر انڈیا میں کھیلنے سے انکار کیا ہے جس کے بعد پاکستان بھی بنگلہ دیش کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے ٹی20 ورلڈ کپ سے دستبردار ہونے کے قریب تھا۔
بالآخر حکومتِ پاکستان نے ٹیم کو ٹورنامنٹ میں شرکت کی اجازت دے دی، تاہم 15 فروری کو کولمبو میں شیڈول انڈیا کے خلاف ہائی پروفائل میچ کھیلنے سے روک دیا۔
چونکہ میچ میں کامیابی پر ہر ٹیم کو دو پوائنٹس ملتے ہیں، اس لیے اس میچ سے دستبردار ہونے سے پاکستان اپنے دو قیمتی پوائنٹس کھو دے گا۔
اس طرح گروپ اے کی پانچ ٹیموں میں سے ’ٹاپ ٹُو‘ میں جگہ بنانے اور اگلے مرحلے تک رسائی کے لیے پاکستان کے پاس غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہو گی۔
لہٰذا اس صورت حال میں پاکستان کو ایونٹ میں رہنے کے لیے سنیچر کے روز کولمبو میں نیدرلینڈز کے خلاف اپنا پہلا میچ جیتنا ہوگا اور تین دن بعد امریکہ کو بھی لازمی ہرانا ہوگا۔
پاکستان اپنے گروپ کا آخری میچ 18 فروری کو نمیبیا کے خلاف کھیلے گا۔
پاکستان کی ٹی20 ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا کا کہنا ہے کہ ’انڈیا کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا فیصلہ ٹیم کے اختیار میں نہیں تھا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ ہمارا فیصلہ نہیں ہے۔ ہمیں وہی کرنا ہوتا ہے جو فیصلہ ہماری حکومت کرتی ہے۔‘
حکومتِ پاکستان نے یہ واضح نہیں کیا کہ اگر ٹیم سیمی فائنل یا فائنل میں دوبارہ انڈیا کے مدِمقابل آئی تو اُس وقت اُس کا کیا موقف ہوگا۔
تاہم سلمان علی آغا اس بارے میں نہیں سوچ رہے، ان کا کہنا ہے کہ ’ہمارا کام جیتنا ہے اور ہم ایسا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘
پاکستان اس مرتبہ 2024 میں کھیلے گئے ٹی20 ورلڈ کپ کی تارٰیخ دہرانے سے بچنا چاہے گا، جہاں ٹورنامنٹ کے شریک میزبان امریکہ نے اسے سُپر اوور میں حیران کُن طور پر شکست دے کر گروپ مرحلے سے ہی باہر کر دیا تھا۔
اس کے بعد سے پاکستان کی ٹیم کو ماڈرن ٹی20 کرکٹ کے تقاضوں کے مطابق نہ کھیلنے پر شدید تنقید کا سامنا ہے، خاص طور پر کھلاڑیوں کی بیٹنگ پر سوالات اٹھے ہیں، اور بابر اعظم کی سُست رفتار بیٹنگ پر بھی تنقید کی جاتی ہے۔
یہ تنقید اس وقت مزید بڑھ گئی جب یہ اعداوشمار سامنے آئے کہ گذشتہ برس پاکستان نے 34 ٹی20 میچوں میں کامیابی حاصل کی جن میں سے 21 میچز اپنے سے کم رینکنگ والی ٹیموں کے خلاف جیتے۔
