معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کے قتل کی تحقیقات جاری ہیں: لیبیا
معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کے قتل کی تحقیقات جاری ہیں: لیبیا
بدھ 4 فروری 2026 14:44
سیف الاسلام کی موت پر لیبیا میں کسی بھی انتظامی رہنما نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
لیبیا میں سرکاری استغاثہ نے کہا ہے کہ وہ سابق مقتول حکمران معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کے قتل کی تحقیقات کر رہے ہیں جو گزشتہ روز زنتان شہر میں فائرنگ کے ایک واقعے میں مارے گئے تھے۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر نے بتایا کہ فرانزک ماہرین کو شمال مغربی لیبیا میں زنتان روانہ کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق سیف الاسلام کو گولیاں مار کر قتل کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ قتل میں ملوث مشتبہ افراد کی شناخت کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
استغاثہ کے دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ ’مقتول گولیاں لگنے سے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے تھے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ تفتیش کار عینی شاہدین اور کسی ایسے شخص سے بات کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو اس واقعے کے بارے میں کچھ بتا سکے۔
مقتول سیف الاسلام کے وکیل مارسیل سیکالڈی نے اے ایف پی کو بتایا کہ انہیں نامعلوم ’چار کمانڈوز‘ نے ہلاک کیا جنہوں نے منگل کو زنتان میں ان کے گھر پر دھاوا بولا تھا۔
لیبیا میں سنہ 2011 میں نیٹو کی حمایت سے کی گئی بغاوت سے معمر قذافی کے اقتدار کا تختہ الٹ دیا گیا تھا جس کے بعد سے ملک افراتفری کا شکار ہے۔
لیبیا اس وقت دو حصوں میں تقسیم ہے جہاں دارالحکومت طرابلس میں قائم انتظامیہ کو اقوام متحدہ نمائندہ حکومت تسلیم کرتا ہے۔ جبکہ مشرقی علاقوں میں جنرل خلیفہ حفتر کی حمایت یافتہ انتظامیہ موجود ہے۔
حکام کے مطابق سیف الاسلام کو گولیاں مار کر قتل کیا گیا۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
سیف الاسلام کی موت پر کسی بھی اتھارٹی نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
عوامی ردعمل صرف موسیٰ الکونی کی طرف سے آیا جو فیزان کے علاقے کی نمائندگی کرنے والی صدارتی کونسل کے نائب صدر تھے۔
انہوں نے ایکس پر لکھا کہ ’سیاسی قتل نامنظور، طاقت کے ذریعے مطالبات منوانا منظور نہیں، اور تشدد کے ذریعے رائے کا اظہار ناقابل قبول ہے۔‘