Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایپسٹین سے قریبی تعلقات رکھنے والے مینڈلسن کو سفیر لگانے پر ندامت ہے: برطانوی وزیراعظم

برطانوی پولیس نے اعلان کیا ہے کہ وہ مینڈلسن کے تعلقات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی
برطانیہ کے وزیراعظم کیئر سٹارمر نے پیٹر مینڈلسن کو امریکہ میں سفیر لگانے پر ندامت کا اظہار کیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق مینڈلسن کا نام ایپسٹین فائلز میں آنے کے بعد برطانوی وزیراعظم کو سخت تنقید کا سامنا ہے۔
کیئر سٹارمر نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ ’اُنہوں نے ہمارے ملک کو دھوکہ دیا، اُس (مینڈلسن) نے بار بار جھوٹ بولا، وہ دھوکہ دہی کا ذمہ دار ہے، لیکن یہ وقت صرف غصے کا نہیں بلکہ عمل کا تقاضا کرتا ہے۔‘
وزیراعظم نے کہا کہ وہ ایپسٹین کے ساتھ مینڈلسن کے تعلقات کے بارے میں جانتے تھے لیکن انہوں نے سابق وزیر اور یورپی یونین کے سابق تجارتی کمشنر پر الزام لگایا کہ وہ گزشتہ سال واشنگٹن میں سفیر لگائے جانے کے وقت کی گئی جانچ کے دوران اپنے تعلقات کی حد کو ظاہر کرنے میں بار بار ناکام رہے۔
برطانیہ کے وزیراعظم کا فیصلہ نئے الزامات کے بعد سکروٹنی کے مطالبات کے بعد آیا ہے۔ الزامات کے مطابق امریکہ میں ان کے سابق سفارتکار نے تقریباً دو دہائیاں قبل آنجہانی امریکی جنسی مجرم ایپسٹین کو خفیہ معلومات فراہم کی تھیں۔
برطانیہ کی پولیس نے اعلان کیا ہے کہ وہ اب ان معاملات کی تحقیقات کر رہے ہیں جو مینڈلسن اور ایپسٹین کے درمیان ای میل کے تبادلے سے سامنے آئے ہیں جس میں اُن کے گرمجوش تعلقات، مالی معاملات اور نجی تصاویر سامنے آئی ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ’مجھے مینڈلسن کے تقرر پر افسوس ہے۔‘ فوٹو: اے ایف پی

یہ وہ وقت تھا جب جیفری ایپسٹین فلوریڈا میں ایک نابالغ لڑکی سے درخواست کرنے پر 18 ماہ کی جیل کی سزا کاٹ رہے تھے جبکہ مینڈلسن اس وقت کے وزیراعظم گورڈن براؤن کی کابینہ میں وزیر تھے۔
کیئر سٹارمر نے پارلیمان میں سخت سوالات کے دوران ارکان کو بتایا کہ ’اس (مینڈلسن) نے میری ٹیم سے بار بار جھوٹ بولا جب اُن سے سفیر کی حیثیت سے اُن کے دور اور اس سے پہلے کے دور میں ایپسٹین کے ساتھ تعلقات کے بارے میں پوچھا گیا۔‘
وزیراعظم نے کہا کہ ’مجھے اُن کے تقرر پر افسوس ہے۔ اگر مجھے یہ سب پہلے معلوم ہوتا جو میں اب کیا جانتا ہوں تو وہ کبھی کسی حکومتی عہدے پر نہ ہوتا۔‘

 

شیئر: