ترکیہ کی پارلیمنٹ میں لڑائی، اپوزیشن و حکومتی ارکان گُتھم گُتھا
ترکیہ کی پارلیمنٹ میں لڑائی، اپوزیشن و حکومتی ارکان گُتھم گُتھا
جمعرات 12 فروری 2026 8:52
حال ہی میں صدر طیب اردوغان کی جانب سے مختلف وزارتوں میں اہم تقرریاں کی ہیں (فوٹو: اے پی)
ترکیہ کی پارلیمان میں حکومتی اور اپوزیشن وزیر انصاف کی تقرری کے معاملے پر شدید لفظی لڑائی کے بعد دست و گریبان ہو گئے۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق بدھ کے روز ہونے والے واقعے کی ویڈیوز بھی منظرعام پر آئی ہیں جن میں ارکان کو ایک دوسرے کے خلاف لاتوں اور گھونسوں کا آزادانہ استعمال کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق تنازع کی وجہ آکن گرلک کی بطور وزیر قانونی تعیناتی ہے، جن کو صدر طیب اردوغان کی جانب سے مقرر کیا گیا ہے اور وہ استنبول کے چیف پراسیکیوٹر بھی رہ چکے ہیں۔
جب وہ پارلیمان میں حلف لینے کے لیے آگے بڑھے تو حزب اختلاف کے ارکان نے اٹھ کر ان کا راستہ روکنے کی کوشش کی اور ان کی تعیناتی کو متنازع قرار دیا جس پر حکومتی ارکان بھی کھڑے ہو گئے۔
کچھ دیر سخت جملوں کے تبادلے کے بعد ارکان ایک دوسرے سے الجھ گئے اور ایک دوسرے مکے اور لاتیں مارنے کی کوشش کرتے رہے۔
آکن گرلک استنبول کے چیف پراسیکیوٹر کی حیثیت سے حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعمت ریپبلکن پیپلز پارٹی اور دوسری جماعتوں کے ارکان کے خلاف مقدمات کو آگے بڑھا چکے ہیں۔
ان مقدمات کے حوالے سے اپوزیشن ارکان مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ وہ سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے اور ان کی مذمت بھی کر چکے ہیں۔
اپوزیشن ارکان نے استنبول کے سابق پراسیکیوٹر آکن گرلک کی تقرری کو متنازع قرار دیا ہے (فوٹو: ٹرکش منٹ)
رپورٹ کے مطابق حکومتی ارکان سابق پرسیکیوٹر کو اپوزیشن ارکان کے بیچ میں نکالنے میں کامیاب ہوئے اور بعدازاں وہ ان کے درمیان حلف اٹھاتے ہوئے بھی دیکھے گئے۔
صدر طیب اردوغان نے صوبہ ایرزورم کے گورنر مصطفیٰ سیفتسی کو وزیر داخلہ بھی نامزد کیا گیا ہے۔
اس سے قبل سی ایچ پی کے زیرانتظام چلنے والی میونسپیلیٹیز میں کام کرنے والے سینکڑوں اہلکاروں کو کرپشن کے الزامات میں گرفتار کیا گیا جن میں اسنتبول کے میئر اکرم امام اوغلو بھی شامل تھے۔
ان کو طیب اردوغان کے ایک بڑے حریف کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ان کو پچھلے برس گرفتار کیا گیا تھا۔
اپوزیشن کی جانب سے ان کارروائیوں کا الزام حکومت پر لگایا جاتا رہا ہے تاہم دوسری جانب حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ عدلیہ آزادانہ طور پر اپنے معاملات دیکھ رہی ہے۔
وزارتوں میں بدھ کو ہونے والی تبدیلیوں کی سرکاری طور پر کوئی خاص وجہ نہیں بتائی گئی ہے اور سبکدوش ہونے والے وزرا کے بارے میں بارے میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے خود اس کی درخواست کی تھی۔