Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’جین زی کے انقلاب‘ کے بعد بنگلہ دیش میں پہلا الیکشن، ووٹنگ آج

بنگلہ دیش میں آج عام انتخاب ہو رہے ہیں جو جو جین زی کی جانب سے چلائی گئی اس احتجاجی لہر کے بعد منعقد ہو رہے ہیں جس کے نتیجے میں انڈیا کی اتحادی شیخ حسینہ واجد کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا تھا۔
 اگست 2024 میں اسی احتجاجی لہر کے بعد وہ پڑوسی ملک انڈیا چلی گئی تھیں اور اب بھی وہیں موجود ہیں، جس پر دونوں پڑوسی ملکوں کے تعلقات میں سخت تناؤ بھی پایا جاتا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ساڑھے 17 کروڑ کی آبادی رکھنے والے ملک کے استحکام کے لیے ضروری ہے کہ کسی پارٹی کی واضح برتری سامنے آئے کیونکہ شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خلاف چلنے والی احتجاجی لہر کے اثرات سے ملک ابھی تک پوری نہیں نکل پایا ہے اور اس کا اثر ملک کی معیشت اور انڈسٹری پر بھی پڑا جس میں گارمنٹس کی صنعت بھی شامل ہے جس کے لیے اسے دنیا کا دوسرا بڑا برآمد کنندہ سمجھا جاتا ہے۔
30 برس سے کم عمر افراد جن کو جین زی کہا جاتا ہے، کی قیادت میں اٹھنے والی فیصلہ لہر کے نتیجے میں آنے والے انقلاب کے بعد یہ دنیا کا پہلا الیکشن بھی ہے۔
اس کے کچھ عرصہ بعد نیپال میں بھی نوجوانوں نے ایک زبردست احتجاجی تحریک چلائی تھی اور وہاں بھی اگلے ماہ انتخابات ہونے والے ہیں۔
 بنگلہ دیش کے الیکشن کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ اصل مقابلہ ماضی کے اتحادیوں بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) اور جماعت اسلامی کے درمیان ہے جبکہ عوامی رائے کے پولز کے مطابق بی این پی کو برتری حاصل ہے۔
سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی پارٹی پر پابندی لگا دی گئی ہے جبکہ وہ خود اس وقت خودساختہ جلاوطنی کے تحت انڈیا میں ہیں۔
وہ انڈیا کی اتحادی تھیں تاہم ان کے جانے کے بعد چین کو جنوبی ایشیا کے اہم ملک میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کا موقع ملا اور بیجنگ نے ڈھاکہ کے ساتھ کچھ عرصہ پیشتر ایک دفاعی معاہدہ بھی کیا، جس پر امریکہ نے تشویش کا اظہار بھی کیا تھا۔
ماضی میں بنگلہ دیش انتخابات کے موقع پر اپوزیشن بائیکاٹ کرتی رہی ہے جبکہ سیاسی جوڑ توڑ اور دھمکیوں کی وجہ سے الیکشن متاثر ہوتا رہا ہے تاہم اس بار صورت حال ماضی سے کافی مختلف دکھائی دے رہی ہے۔
اس وقت قومی اسمبلی کی 300 نشستوں کے لیے دو ہزار سے زیادہ امیدوار میدان میں ہیں، جن میں کافی تعداد میں آزاد امیدوار بھی ہیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق ایک امیدوار کے انتقال کے باعث ایک حلقے پر ووٹنگ ملتوی کر دی گئی ہے۔
اس وقت کم سے کم 50 جماعتیں الیکشن میں حصہ لینے کے لیے میدان میں اتری ہیں جو کہ ملکی سطح پر ایک ریکارڈ ہے۔

شیئر: