سعودی عرب کی نایاب شہد جو کڑوے ذائقے والے پودے سے حاصل کی جاتی ہے
جمعرات 12 فروری 2026 8:32
العیدابی گورنریٹ میں جازان کے شہد کی گیارہویں نمائش لوگوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے جہاں عسلِ المجری یا المجری شہد نے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا رکھا ہے۔
المجری شہد کی مقبولیت کی ایک وجہ اس کا علاقے کے پہاڑی منظر نامے سے مخصوص تعلق بھی بتایا جاتا ہے۔
اس قسم کے شہد کو ’النادغ‘ نامی پھول سے حاصل کیا جاتا ہے جو پہاڑوں پر اُگنے والی ایک ایسی جھاڑی پر کھِلتا ہے جس کی جڑوں اور پتوں کی کڑواہٹ زباں زدِ عام ہے اور اسی کڑواہٹ کی وجہ سے جانور اس کو نہیں چرتے۔
لیکن جب اس پودے پر پھولوں کی بہار آتی ہے تو ان میں نایاب قسم کا شہد ہوتا ہے جس کی رنگت برف کی طرح سفید، کثافت میں گاڑھا لیکن ذائقے میں میٹھا ہوتا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی ایس پی اے کے مطابق شہد کی یہ کمیاب قِسم، محدود مقامات پر ہی پیدا ہوتی ہے جن میں اونچے نیچے پہاڑی علاقوں کا ماحول خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔ یہ شہد اس علاقے سے حاصل کی جانے والی شہد کی دیگر تمام مقامی اقسام کو پیچھے چھوڑ دیتا ہے اور مقبولیت میں سب سے نمایاں ہے۔
مُہال پرور یا شہد کے چھتے پالنے والے احمد الفیفی بتاتے ہیں کہ عسلِ المجری، شہد کی ان قسموں میں شمار ہے جو مملکت میں صرف کہیں کہیں ہی ملتی ہیں۔

اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ جس پودے کے پھولوں پر یہ شہد پیدا ہوتا ہے وہ بہت زیادہ بلندی پر واقع ہوتے ہیں اور وہاں کا راستہ انتہائی دشوار گزار ہوتا ہے جہاں تک رسائی کسی چیلنج سے کم نہیں ہوتی۔
الفیفی کا کہنا تھا کہ المجری شہد تک پہنچنے میں جو مشکلات در پیش ہوتی ہیں وہی شاید اسے دوسروں سے ممتاز بھی کرتی ہیں اور اس کے کم یاب ہونے کی ایک بڑی وجہ بھی ہیں۔