Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بنگلہ دیش میں انتخابات: ’ڈراؤنے خواب کا خاتمہ اور نئے سپنے کا آغاز‘

بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے آج ہونے والے انتخابات کو ’ڈراؤنے خواب کا خاتمہ اور ایک نئی شروعات‘ قرار دیا ہے۔
بنگلہ دیش میں آج عام انتخاب ہو رہے ہیں جو جین زی کی جانب سے چلائی گئی اس احتجاجی لہر کے بعد پہلی بار ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں شیخ حسینہ واجد کی حکومت ختم ہو گئی تھی اور وہ انڈیا فرار ہو گئی تھیں۔
 فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق نوبیل انعام یافتہ 85 سالہ ڈاکٹر محمد یونس نے جمعرات کو ووٹ ڈالنے کے بعد کہا کہ ’یہ آزادی کا دن ہے، اس کے ذریعے ہم نے ڈراؤنے خواب کا خاتمہ کرتے ہوئے ایک نیا خواب شروع کیا ہے۔‘
محمد یونس تب سے ساڑھے کروڑ کی آبادی رکھنے والے جنوب ایشیائی ملک کی قیادت تب سے کر رہے ہیں جب سے شیخ حسینہ واجد کے 15 برس پر مشتمل دور حکومت کا خاتمہ ہوا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ انہیں انتظامیہ انتظامی اور انصاف کے لحاظ سے ایک ’مکمل طور پر ٹوٹا پھوٹا‘ نظام وراثت میں ملا اور اس کو ٹھیک کرنے کے ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
انہوں نے جمہوری طور پر تبدیلی کے لیے ایک اصلاحاتی چارٹر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ یک جماعتی آمریت کی واپسی روکنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔
 اس میں وزرائے اعظم کے لیے مدت کی حد، پارلیمنٹ کے ایوان بالا کی تشکیل، مضبوط صدارتی اختیارات اور عدالت کی آزادی کے حوالے سے تجاویز دی گئی ہیں۔

اگست 2024 میں شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کے بعد ملک میں پہلی بار انتخابات ہو رہے ہیں (فائل فوٹو: روئٹرز)

پارلیمانی انتخابات کے ساتھ ساتھ ووٹرز بھی اس چارٹر کی توثیق کرنے کے بارے میں ریفرنڈم میں حصہ لے رہے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ آج ہونے والے انتخابات کے ذریعے عام لوگ اس چارٹر کے حوالے سے ایک قسم کا ریفرنڈم بھی کر رہے ہیں کہ آیا وہ اس کو توثیق کرتے ہیں؟
محمد یونس جو اس الیکشن کے بعد اپنا عہدہ چھوڑ دیں گے، نے اس چارٹر کو اپنی نگران انتظامیہ کی میراث بھی قرار دیا۔
’یہاں سے ہم ایک نئے بنگلہ دیش کی جانب پیش قدمی شروع کریں گے۔‘
محمد نویس کے بقول ’ہم آپ سب پر زور دیتا ہوں کہ اس ریفرنڈم میں حصہ لیں، یہ نہ صرف رہنماؤں کے چناؤ کے لیے ضروری ہے بلکہ اس کے ذریعے آپ ایک ریفرنڈم کا حصہ بھی بن رہے ہیں۔‘
دوسری جانب پارٹیان لوگوں سے ان کے امیدواروں کو ووٹ دینے کا مطالبہ کر رہی ہیں اور عوام اپنا حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں، تاہم بہت سے ووٹرز کہتے ہیں کہ وہ تجاویز کے حوالے سے الجھن کا شکار ہیں۔
46 سالہ افروزہ بیگم کا کہنا تھا کہ ’یہ پہلا ریفرنڈم تھا جس میں حصہ لیا، میں نے تمام شقیں نہیں پڑھیں مگر ووٹ ڈالا۔‘
اسی طرح 60 سالہ سکول ٹیچر ریحانہ اختر نے کہا کہ وہ خود کو پرجوش محسوس کر رہی ہیں اور امید کرتی ہیں کہ حسینہ واجد کی سخت گیر حکومت کے بعد مثبت جمہوری تبدیلی عمل میں آئے گی۔
’مجھے امید ہے کہ ملک ایک بہتر سمت میں بڑھے گا کیونکہ اس سے قبل ہم بہت مسائل کا سامنا کر چکے ہیں۔‘

 

شیئر: