جنریشن زی سے انسپائرڈ دنیا کا پہلا الیکشن: بنگلہ دیش میں بی این پی اور جماعت اسلامی میں سخت مقابلہ
سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ کے طویل دورِ حکومت میں بنگلہ دیش کی اپوزیشن جماعتیں انتخابات کے دوران سڑکوں پر شاذ و نادر ہی نظر آتی تھیں۔ یا تو وہ انتخابات کا بائیکاٹ کرتی تھیں یا پھر ان کے سینئر رہنماؤں کو بڑے پیمانے پر گرفتار کر کے سیاسی طور پر الگ تھلگ کر دیا جاتا تھا۔ تاہم، جمعرات کو ہونے والے انتخابات سے قبل حالات بالکل الٹ ہو چکے ہیں۔
شیخ حسینہ کی عوامی لیگ پر پابندی عائد ہے، جبکہ 2024 کی عوامی بغاوت میں ان کی حکومت کا تختہ الٹنے والے بہت سے نوجوانوں کا کہنا ہے کہ آنے والا انتخاب 2009 کے بعد پہلا حقیقی مقابلے والا انتخاب ہوگا، جب حسینہ نے 15 سالہ حکمرانی کا آغاز کیا تھا۔
بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے جیتنے کی توقع کی جا رہی ہے، تاہم اسلامی جماعت جماعتِ اسلامی کی قیادت میں بننے والا اتحاد بھی سخت مقابلہ کر رہا ہے۔
30 سال سے کم عمر جنریشن زی کارکنوں کی قیادت میں بننے والی ایک نئی جماعت جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد کر چکی ہے۔
بی این پی کے سربراہ طارق رحمان نے روئٹرز کو بتایا کہ ان کی جماعت، جو 300 میں سے 292 پارلیمانی نشستوں پر انتخاب لڑ رہی ہے، کو اتنی نشستیں ملنے کا یقین ہے کہ وہ حکومت تشکیل دے سکے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق 12 فروری کے انتخابات میں واضح نتیجہ آنا نہایت اہم ہے، کیونکہ منقسم پارلیمان کی صورت میں 175 ملین آبادی والے اس ملک میں استحکام بحال کرنا مشکل ہو جائے گا۔ حسینہ کی معزولی کے بعد کئی ماہ تک بدامنی رہی جس سے گارمنٹس سمیت اہم صنعتیں متاثر ہوئیں، اور بنگلہ دیش دنیا کا دوسرا بڑا ملبوسات برآمد کرنے والا ملک ہے۔
یہ انتخاب جنوبی ایشیا کے اس ملک میں چین اور انڈیا جیسے علاقائی حریفوں کے کردار پر بھی اثر انداز ہوگا۔
ڈھاکہ کے سینٹر فار گورننس سٹڈیز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پرویز کریم عباسی کے مطابق، ’رائے عامہ کے جائزے ظاہر کرتے ہیں کہ بی این پی کو برتری حاصل ہے، لیکن ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ووٹروں کی ایک بڑی تعداد ابھی تک فیصلہ نہیں کیا ہے۔‘
نتائج پر کئی عوامل اثر انداز ہوں گے، جن میں جنریشن زی کا ووٹ بھی شامل ہے، جو کل ووٹرز کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ ہے، اور ان کا فیصلہ خاصا اہم ہوگا۔
پورے بنگلہ دیش میں بی این پی کے انتخابی نشان ’دھان کی بالی‘ اور جماعت اسلامی کے ’ترازو‘ والے سیاہ و سفید پوسٹر اور بینرز کھمبوں، درختوں اور دیواروں پر آویزاں ہیں، جبکہ آزاد امیدواروں کے پوسٹر بھی نظر آتے ہیں۔ سڑکوں کے کنارے پارٹی کیمپوں سے انتخابی گانے گونج رہے ہیں۔
یہ منظر ماضی کے انتخابات سے بالکل مختلف ہے، جب عوامی لیگ کا ’کشتی‘کا نشان ہر طرف چھایا ہوتا تھا۔
رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق، ایک زمانے میں پابندی کا شکار جماعت اسلامی اس بار اپنی بہترین انتخابی کارکردگی دکھا سکتی ہے، چاہے وہ جیت نہ بھی سکے۔
چین کا اثر و رسوخ بڑھ رہا، انڈیا کا کم ہو رہ
تجزیہ کاروں کے مطابق، انتخابی نتیجہ آئندہ برسوں میں بنگلہ دیش میں چین اور انڈیا کے کردار کو بھی متاثر کرے گا۔
شیخ حسینہ کو انڈیا نواز سمجھا جاتا تھا اور معزولی کے بعد وہ نئی دہلی چلی گئیں، جہاں وہ اب بھی مقیم ہیں۔ اس کے بعد چین کا اثر و رسوخ بڑھا ہے۔
اگرچہ انڈیا کا اثر کمزور پڑ رہا ہے، تاہم بعض تجزیہ کاروں کے مطابق بی این پی، جماعت اسلامی کے مقابلے میں انڈیا کے ساتھ نسبتاً بہتر تعلقات رکھ سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی کی قیادت میں بننے والی حکومت پاکستان کے قریب جا سکتی ہے، جو ایک مسلمان اکثریتی ملک اور انڈیا کا دیرینہ حریف ہے۔ اس کے علاوہ، جماعت کی جنریشن زی اتحادی جماعت نے ’نئی دہلی کی بالادستی‘ کو بنگلہ دیش میں اپنے اہم خدشات میں شمار کیا ہے، اور حال ہی میں اس کے رہنماؤں نے چینی سفارت کاروں سے ملاقات بھی کی ہے۔
اسلامی اصولوں پر مبنی معاشرے کی داعی جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ وہ کسی خاص ملک کی طرف جھکاؤ نہیں رکھتی۔
بی این پی کے طارق رحمان نے کہا ہے کہ اگر ان کی جماعت حکومت بناتی ہے تو وہ ہر اس ملک کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھے گی جو ’میرے عوام اور میرے ملک کے لیے موزوں پیشکش کرے۔‘
دنیا کے گنجان آباد ترین ممالک میں شامل بنگلہ دیش، جہاں انتہائی غربت کی شرح بھی بلند ہے، بلند افراطِ زر، زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور سرمایہ کاری میں سست روی کا شکار ہے۔ ان حالات نے 2022 سے ملک کو بڑے پیمانے پر بیرونی مالی امداد حاصل کرنے پر مجبور کیا، جس میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک سے اربوں ڈالر شامل ہیں۔
ڈھاکہ میں قائم تھنک ٹینکس ’کمیونیکیشن اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن‘ اور ’بنگلہ دیش الیکشن اینڈ پبلک اوپینین سٹڈیز‘ کے سروے کے مطابق، 128 ملین ووٹروں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بدعنوانی ہے، اس کے بعد مہنگائی کا نمبر آتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی کی صاف شفاف امیج اس کے حق میں ایک بڑا عنصر ہے، جو اس کے اسلامی نظریات سے کہیں زیادہ مؤثر ثابت ہو رہی ہے۔
سروے کے مطابق ووٹرز میں ووٹ ڈالنے کا رجحان بلند ہے، وہ مذہبی یا علامتی مسائل کے بجائے بدعنوانی اور معیشت کو ترجیح دے رہے ہیں، اور ایسے رہنماؤں کی توقع رکھتے ہیں جو سنجیدگی، اہلیت اور جواب دہی کا مظاہرہ کریں۔
اس کے باوجود، سابق وزیرِاعظم خالدہ ضیا کے بیٹے طارق رحمان کو اگلی حکومت کی قیادت کے لیے مضبوط امیدوار سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم، اگر جماعت اسلامی کی قیادت میں اتحاد آگے نکلتا ہے تو اس کے سربراہ شفیق الرحمان اعلیٰ عہدے کے لیے امیدوار ہو سکتے ہیں۔
اکیس سالہ محمد راکب، جو پہلی بار ووٹ ڈالنے جا رہے ہیں، نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ آنے والی حکومت لوگوں کو اپنی رائے کے آزادانہ اظہار اور آزادانہ ووٹ کے حق کو یقینی بنائے گی۔
انہوں نے کہا ’ہر کوئی (حسینہ کی) عوامی لیگ سے تنگ آ چکا تھا۔ لوگ قومی انتخابات میں ووٹ بھی نہیں ڈال سکتے تھے۔ لوگوں کی کوئی آواز نہیں تھی۔ میں امید کرتا ہوں کہ آنے والی حکومت، چاہے کوئی بھی اقتدار میں آئے، اظہارِ رائے کی اس آزادی کو یقینی بنائے گی۔‘