Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان بمقابلہ انڈیا: آج کے میچ کے چار کھلاڑی، جن کی کارکردگی میچ کا پانسہ پلٹ سکتی ہے

کیا  آج کولمبو میں ہونے ولا میچ 28 ستمبر 2025 جیسا ثابت ہوگا؟ اُس رات ایشیا کپ کے فائنل میں تلک ورما نے پاکستان کے خلاف آخری اوور میں انڈیا کو فتح دلانے میں مرکزی کردار ادا کیا تھا، اور اس سنسنی خیز مقابلے کے بیشتر کھلاڑی اتوار کو ٹی20 ورلڈ کپ کے ٹاکرے میں ایک بار پھر آمنے سامنے ہوں گے۔
کرک انفو نے پاکستان اور انڈیا کے میچ میں چند انفرادی مقابلوں کو ڈسکس کیا ہے جو میچ کا پانسہ پلٹ سکتے ہیں۔

بمراہ بمقابلہ فرحان: کیا یہ مقابلہ پھر وائرل ہوگا؟

ایشیا کپ کے دوران صاحبزادہ فرحان اُس وقت سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئے تھے جب انہوں نے وہ کارنامہ انجام دیا جو کسی بھی بلے باز نے ٹی20 انٹرنیشنلز میں جسپریت بمراہ کے خلاف نہیں کیا تھا۔ فرحان نے نہ صرف دنیا کے بہترین فاسٹ بولرز میں شمار ہونے والے بمراہ کو چھکا لگایا بلکہ تین مختلف میچوں میں اُن پر تین چھکے جڑے، جن میں فائنل بھی شامل تھا۔ بعد ازاں نیوزی لینڈ کے ڈیرل مچل نے بھی گذشتہ ماہ کی سیریز میں بمراہ کو تین چھکے رسید کیے۔
اب سوال یہ ہے کہ اتوار کو بمراہ کی حکمتِ عملی کیا ہوگی، اور فرحان کس انداز میں جواب دیں گے؟ تاہم امکان ہے کہ یہ مقابلہ زیادہ دیر نہ چلے، کیونکہ ایشیا کپ میں انڈیا نے بمراہ سے پاور پلے میں تین اوورز کرائے تھے، جبکہ اس کے بعد سے وہ عموماً ابتدائی چھ اوورز میں صرف ایک اوور کرتے ہیں۔

شاہین بمقابلہ ابھیشیک: پہلا اوور کس کے نام؟

شاہین شاہ آفریدی ٹی20 انٹرنیشنلز میں پہلے اوور میں سب سے زیادہ 25 وکٹیں لینے والے بولرز میں شامل ہیں (متحدہ عرب امارات کے جنید صدیق کے ہمراہ)۔ دوسری جانب ابھیشیک شرما نے اپنے ڈیبیو کے بعد سے پہلے اوور میں سب سے زیادہ 10 چھکے لگائے ہیں۔
ایشیا کپ میں یہ مقابلہ یکطرفہ رہا۔ ابھیشیک نے ابتدائی اوورز میں شاہین کی 13 گیندوں پر 24 رنز (دو چوکے، دو چھکے) بنائے، جبکہ مجموعی طور پر 19 گیندوں پر 36 رنز (تین چوکے، تین چھکے) سکور کیے اور آؤٹ بھی نہیں ہوئے۔
اتوار کو ابھیشیک معدے کی تکلیف سے صحتیاب ہونے کے بعد پہلا میچ کھیلیں گے، جس کی وجہ سے وہ نمیبیا کے خلاف نہیں کھیل سکے تھے۔ دیکھنا ہوگا کہ آیا یہ وقفہ اُن کی کارکردگی پر اثر انداز ہوتا ہے یا نہیں۔

صائم ایوب بمقابلہ ایشان کشن: پاور پلے میں سپن؟

ایشان کشن نے حالیہ دنوں میں ٹیم میں واپسی کے بعد شاندار فارم دکھائی ہے، چھ اننگز میں اوسط 49.33 اور سٹرائیک ریٹ 222.55 رہا ہے۔ تاہم سپن کے خلاف پاور پلے میں اُن کا ریکارڈ کمزور رہا ہے۔ اپنے ٹی20 کیریئر میں انہوں نے ابتدائی چھ اوورز میں سپن کے خلاف 77 گیندوں پر صرف 85 رنز بنائے (سٹرائیک ریٹ 110.38) اور چار بار آؤٹ ہوئے۔ حالیہ فارم میں بھی پاور پلے میں سپنرز نے انہیں نسبتاً قابو میں رکھا: 10 گیندوں پر 17 رنز، ایک وکٹ۔
پاکستان اکثر صائم ایوب کو پاور پلے میں پارٹ ٹائم آف سپن کے لیے استعمال کرتا رہا ہے، اگرچہ نیدرلینڈز کے خلاف ایسا نہیں کیا گیا۔ آر پریماداسا سٹیڈیم کی وکٹ سپنرز کے لیے سازگار سمجھی جا رہی ہے، اس لیے امکان ہے کہ صائم ایوب کو دوبارہ ابتدائی اوورز میں آزمایا جائے۔
ایوب آئی سی سی ٹی20 آل راؤنڈر رینکنگ میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ ایشیا کپ فائنل میں انہوں نے تین اوورز میں صرف 16 رنز دیے تھے۔ وہ ایک بار پھر اثرانداز ہونے کی کوشش کریں گے۔

ابرار بمقابلہ سوریہ کمار: مڈل اوورز کی جنگ

ابرار احمد پاکستان کے بہترین سپنر سمجھے جاتے ہیں اور انڈیا کے خلاف بولنگ سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ گزشتہ ٹی20 ورلڈ کپ کے بعد سے مڈل اوورز (7 تا 16) میں اُن کا اکانومی ریٹ 5.92 ہے، جو اس ٹورنامنٹ میں کم از کم 300 گیندیں کرانے والے بولرز میں تیسرا بہترین ہے، جبکہ وہ اس مرحلے میں 31 وکٹیں لے چکے ہیں۔
یہی وہ مرحلہ ہے جہاں سوریہ کمار یادیو زیادہ تر بیٹنگ کرتے ہیں۔ ایشیا کپ میں مشکلات کا شکار رہنے کے بعد وہ دوبارہ ردھم میں آ چکے ہیں۔ امریکہ کے خلاف انہوں نے 49 گیندوں پر ناقابلِ شکست 84 رنز بنا کر انڈیا کو 77/6 کی مشکل صورتحال سے نکالا۔
سویپ شاٹ اُن کا اہم ہتھیار ہے، خاص طور پر لیگ سپن کے خلاف۔ اپنے کیریئر میں انہوں نے مختلف انداز کے سویپس اور سکوپس کھیل کر 56 گیندوں پر 118 رنز (اسٹرائیک ریٹ 210.71) بنائے ہیں اور صرف تین بار آؤٹ ہوئے ہیں۔
اتوار کو سوال یہ ہوگا کہ کیا ابرار سوریہ کمار کی اس خطرناک سویپ رینج کو محدود کر پائیں گے؟ یہ مقابلہ میچ کا فیصلہ کن پہلو ثابت ہوسکتا ہے۔

 

شیئر: