پاکستانی سپنر عثمان طارق کا سیلز مین سے ورلڈ کپ سٹار بننے کا سفر کیسے ممکن ہوا؟
پاکستانی سپنر عثمان طارق کا سیلز مین سے ورلڈ کپ سٹار بننے کا سفر کیسے ممکن ہوا؟
جمعہ 13 فروری 2026 19:14
سوشل ڈیسک -اردو نیوز
عثمان طارق کو پاکستانی تیم کا ٹرمپ کارڈ سمجھا جا رہا ہے (فوٹو: گیٹی)
پاکستان کے مشہور سپنر عثمان طارق پر ایک وقت ایسا بھی تھا جب انہوں نے کرکٹ کے خواب پیچھے چھوڑ کر دبئی میں سیلز مین کی نوکری شروع کر دی تھی مگر بالی وُڈ فلم ’ایم ایس دونی: دی ان ٹولڈ سٹوری‘ نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق انڈیا کے ورلڈ کپ جیتنے والے کپتان مہندر سنگھ دھونی کی زندگی پر مبنی اس فلم نے عثمان طارق کو یہ یقین دلایا کہ خواب پورا کرنے کے لیے کبھی بھی دیر نہیں ہوتی۔
28 سالہ سپنر نے ملازمت ترک کی، دبئی چھوڑا اور دنیا بھر میں کھیل کر خود کو ’مسٹری سپنر‘ کے طور پر منوایا۔
دوہری جوڑ (ڈبل جوائنٹڈ) کہلانے والے عثمان طارق کا غیر معمولی بولنگ ایکشن ان کے پہلے ٹی20 ورلڈ کپ میں خاصا موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔
وہ گیند پھینکنے سے پہلے غیرمعمولی انداز میں رکتے ہیں اور پھر سلنگ شاٹ کی طرز پر گیند چھوڑتے ہیں جس سے بلے باز کنفیوژن کا شکار ہو جاتے ہیں۔
انڈیا کے خلاف بڑے مقابلے سے قبل پاکستانی کپتان سلمان علی آغا نے انہیں ٹیم کا ’ایکس فیکٹر‘ اور اہم ہتھیار قرار دیا ہے۔
شاندار کارکردگی
صرف تین ماہ قبل انٹرنیشنل ڈیبیو کرنے والے عثمان طارق چار ٹی20 میچز میں 11 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں، جن میں راولپنڈی میں زمبابوے کے خلاف ہیٹ ٹرک بھی شامل ہے۔
ورلڈ کپ کے پہلے میچ میں انہوں نے امریکہ کے خلاف 27 رنز دے کر تین وکٹیں حاصل کیں اور میچ کا پانسہ پلٹ دیا۔
گزشتہ برس کیریبین پریمیئر لیگ میں 20 وکٹیں لے کر انہوں نے پاکستان کی قومی ٹیم میں جگہ بنائی۔
متنازع ایکشن پر وضاحت
ان کے بولنگ ایکشن پر گزشتہ دو برس میں دو مرتبہ اعتراض اٹھایا گیا تاہم انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی لیبارٹری نے انہیں کلیئر قرار دیا ہے۔
عثمان طارق کے بولنگ ایکشن کو کلیئر قرار دیا گیا ہے (فوٹو: گیٹی)
انگلینڈ کے ٹام بینٹن اور آسٹریلیا کے کیمرون گرین نے بھی ان کے ایکشن پر سوال اٹھائے لیکن انڈیا کے آف سپنر روی چندرن ایشون اور امپائر انیل چوہدری نے اسے قوانین کے مطابق قرار دیا۔
عثمان طارق کا کہنا ہے کہ ان کے بازو کی ساخت منفرد ہے اور وہ دو بار کلیئر ہو چکے ہیں، اس لیے انہیں کسی شک کی پروا نہیں۔
قسمت کا ساتھ اور نئی شروعات
دبئی چھوڑنے کے بعد ایک دوست نے انہیں پاکستان کے اوپنر فخر زمان سے ملوایا جنہوں نے انہیں خیبر پختونخوا میں کوچ وجاہت اللہ واسطی کے پاس بھیجا۔ کوچ نے ان کے ٹیلنٹ کو نکھارا اور آج وہ عالمی سطح پر پہچان بنا چکے ہیں۔
عثمان طارق نے بتایا کہ ’قومی ٹیم میں سلیکشن کی خبر مجھے اپنی شادی کے دوران ملی، جسے پہلے میں مذاق سمجھا، مگر بعد میں معلوم ہوا کہ یہ حقیقت ہے۔‘ ان کے مطابق شاید ان کی اہلیہ ان کیلئے خوش قسمت ثابت ہوئیں۔
دبئی کے سیلز مین سے انڈیا کے خلاف ممکنہ ٹرمپ کارڈ تک، عثمان طارق کی کہانی ابھی مکمل نہیں ہوئی بلکہ اصل سفر تو اب شروع ہوا ہے۔