Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انڈیا بمقابلہ پاکستان: کرکٹ کے سب سے مقبول میچ نے ٹی20 ورلڈ کپ کا جوش بڑھا دیا

35 ہزار تماشائیوں کی گنجائش رکھنے والا آر پریما داسا اسٹیڈیم مکمل طور پر فروخت ہو چکا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
پورے جنوبی ایشیا میں جمعے کو کرکٹ کے شائقین میں بےپناہ جوش نظر آیا جب پاکستان نے بالآخر اپنے مؤقف میں نرمی دکھاتے ہوئے ٹی20 ورلڈ کپ میں روایتی حریف انڈیا کے خلاف کھیلنے پر رضامندی ظاہر کر دی۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اس فیصلے نے کرکٹ کی دنیا کے سب سے زیادہ منافع بخش اور انتہائی انتظار کیے جانے والے مقابلے کو دوبارہ زندہ کر دیا۔
اتوار کی شام کولمبو میں کھیلے جانے والے اس میچ کی تصدیق اگرچہ پیر کی رات ہی ہوئی، لیکن اس کے باوجود ٹکٹیں حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ 35 ہزار تماشائیوں کی گنجائش رکھنے والا آر پریما داسا اسٹیڈیم مکمل طور پر فروخت ہو چکا ہے، جبکہ بلیک مارکیٹ میں ٹکٹیں اصل قیمت سے چار گنا زیادہ میں فروخت ہو رہی ہیں۔
میچ کو انڈیا، پاکستان اور دنیا بھر میں کروڑوں افراد ٹی وی سکرینز پر دیکھیں گے، جس نے ٹورنامنٹ کو ایک نئی جان بخشی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات کے باعث ہر گیند اور ہر شاٹ جذبات کی شدت میں اضافہ کرے گا۔
گروپ اے میں انڈیا اور پاکستان دونوں دو، دو فتوحات کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں، اس لیے یہ مقابلہ سپر ایٹ مرحلے میں جگہ بنانے کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ دونوں ٹیمیں اب صرف عالمی یا علاقائی ایونٹس میں اور وہ بھی غیرجانبدار مقامات پر ہی آمنے سامنے آتی ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان آخری ٹیسٹ میچ کو 18 سال سے زائد اور دوطرفہ سیریز کو 13 سال ہو چکے ہیں۔
گزشتہ سال دبئی میں ایشیا کپ ٹی20 کے دوران دونوں ٹیمیں تین بار آمنے سامنے آئیں، جن میں انڈیا نے ہر بار کامیابی حاصل کی۔ اس بار توقع کی جا رہی ہے کہ اتوار کو ہونے والا مقابلہ ٹی وی ناظرین کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دے گا۔ بعض تجزیہ کار ایک ارب سے زائد ناظرین کا دعویٰ کرتے ہیں، اگرچہ قابلِ تصدیق ریکارڈ کے مطابق سب سے زیادہ دیکھا جانے والا میچ 2011 ورلڈ کپ کا فائنل تھا، جسے 558 ملین افراد نے دیکھا۔

پاکستان نے احتجاجاً انڈیا کے خلاف نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا تھا جسے آٹھ دن بعد واپس لے لیا گیا (فوٹو: اے ایف پی)

اس میچ کے ذریعے اشتہارات، براڈ کاسٹ رائٹس، سپانسرشپ اور سیاحت سے کروڑوں ڈالر کی آمدنی متوقع ہے۔ لیکن اس بڑے مقابلے کو ممکن بنانے کے لیے گزشتہ ہفتے کافی سفارتی کوششیں بھی کی گئیں۔ بنگلہ دیش اور سری لنکا نے پاکستان سے رابطہ کرکے میچ کھیلنے پر آمادہ ہونے کی درخواست کی، جس کے بعد پاکستان نے اعلان کیا کہ وہ ’کرکٹ کی روح‘ کے تحفظ کے لیے ٹیم کو 15 فروری کو میدان میں اتارے گا۔
ٹورنامنٹ پہلے ہی سیاسی تنازعے کی وجہ سے دباؤ کی زد میں تھا۔ بنگلہ دیش نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر انڈیا میں کھیلنے سے انکار کیا، جس کے بعد اس کی جگہ سکاٹ لینڈ کو شامل کیا گیا۔ علاوہ ازیں پاکستان نے احتجاجاً انڈیا کے خلاف نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا تھا جسے آٹھ دن بعد واپس لے لیا گیا۔

 

شیئر: