Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی شہری نے 20 لاکھ مربع میٹر صحرائی علاقے کو ریزرو میں تبدیل کردیا

ایک لاکھ سے زائد جنگلی درخت اور 10 لاکھ جھاڑیاں موجود ہیں (فوٹو: سبق)
سعودی عرب کے مشرقی ریجن کے قدیم علاقے ’عین دار‘ میں سعودی شہری عبداللہ بن راشد آل رسام نے تقریبا 20 لاکھ مربع میٹر رقبے پر پھیلے ہوئے بنجر صحرائی علاقے کو ایک ماحولیاتی ریزور میں تبدیل کردیا۔
سبق نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے آل رسام نے بتایا ’پودوں کے انتخاب کے لیے سائنسی طریقہ کار اختیار کیا، جس میں مقامی جنگلی پودوں کی کاشت کو ترجیح دی جو علاقے کے ماحول سے مطابقت رکھتے ہیں۔‘
 ’ایسے پودوں کا خاص طور پر انتخاب کیا جو سدا بہار ہوتے ہیں اور انہیں پانی کی ضرورت کم ہوتی ہے۔ اس کا مقصد صحرائی علاقے میں سبزے کا اضافہ کرنا تھا۔ یہ پودے معاشی فوائد بھی رکھتے ہیں۔‘
آل رسام نے بتایا’ منصوبے پر دو مراحل میں عمل درآمد کیا، پہلے مرحلے میں زمین کو زرخیز اور قابل بنانے کے لیے ریت کے پھیلاو کو روکنے پرکام کیا گیا۔ علاقے کی مخصوص جھاڑیاں جن میں ’ارطا’ اورغضا شامل ہیں، اگائی گئی۔‘
جبکہ دوسرے مرحلے میں غاف ، سدر اورطلع کے درخت لگائے گئے تاکہ ان کے ذریعے سائے کا بندوبست کیا جائے اور ماحولیاتی توازن کو بہتر بنایا جاسکے۔

سعودی شہری کا کہنا تھا’ آج رب کریم کے فضل سے اس ریزرو میں ایک لاکھ سے زائد جنگلی درخت اور 10 لاکھ کے قریب مختلف اقسام کی جھاڑیاں موجود ہیں، جس کے نتیجے میں پورے علاقے میں گھنا نباتاتی غلاف قائم ہو گیا ہے۔‘
’ اس بناتاتی غلاف نے ریت کے طوفانوں کے اثرات کو کم کرنے، مقامی آب و ہوا کو بہتر بنانے، حیاتیاتی تنوع کو فروغ  دینے اور مختلف جنگلی حیات کو متوجہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔‘

 عین دار کے علاقے میں سعودی شہری کا یہ ریزرو اس بات کی دلیل ہے کہ واضح وژن، عزم صمیم اور منظم کوششوں کے ذریعے ماحولیاتی چیلنجز کو پائیدار ترقی کے مواقع میں بدلا جاسکتا ہے۔
عبداللہ آل رسام نے منصوبے کا آغاز سال 2016 میں کیا ۔ ایسی زمین کی بحالی پر کام شروع کیا جو ریت کے  ٹیلوں پر مشتمل تھی جبکہ یہاں ماحول صحرا ’ربع الخالی‘ جیسا تھا۔
سعودی شہری نے اپنی محنت سے یہ ثابت کردیا کہ لگن سچی ہو تو کوئی کام مشکل نہیں ہوتا۔

 

شیئر: