Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

حدود الشمالیہ میں موسم بہار، صحرائی علاقہ رنگین پھولوں سے ڈھک گیا

حشرات الارض بھی ماحولیاتی نظام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔(فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب کے حدودِ شمالیہ ریجن میں موسمِ بہار اپنی آب و تاب کے ساتھ لوٹ آیا ہے اور اس کے ہم رکاب، رنگ و بُو کا ایک دلنشیں قافلہ بھی ہے جو صحرا کے منظروں کو پھولوں سے رنگین بنا رہا ہے۔
اِس قافلے کے جلو میں وہ حشرات الارض بھی ہیں جو مملکت کے ماحولیاتی نظام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق، بہار کی آمد کی نوید کا سب سے بڑا اشارہ، رفحا میں موسمی سختیوں کو آسانی سے جھیل لینے والے ایک سدا بہار پودے کے پھول صحرا کی ریت کو بنفشی اور نیلے رنگوں سے ڈھانپ دینا ہے۔
اِس پودے کا قد کاٹھ ستر سینٹی میٹر تک ہے اور اِس کے انگ انگ سے ملنے والا پیغام یہ ہے کہ زمین کی تولیدی صلاحیت بہتر ہو گئی ہے اور ماحول میں پائیداری رچ بس چکی ہے۔
صحرائی ریت پر اِس کا نمودار ہونا ظاہر کرتا ہے کہ مملکت کا شمالی حصہ ماحولیاتی فوائد سے فراواں ہے۔ تحفظ کی کوششوں کے باعث خرابی کا شکار ہونے والی زمین کو بحال کیا گیا ہے اور اس کے بنجر ہونے پر روک لگا دی گئی ہے۔
مقامی بولی میں اِس پودے کو الاہلان کہتے ہیں اور یہ صحرا کی سختیوں سے خوب واقف ہے اور اِس میں رہتے ہوئے خود کو بچائے رکھتا ہے۔ اِس کے پتوں پر وہ ریشے ہوتے ہیں جو پانی کی زیادہ کمی نہیں ہونے دیتے۔

یہ پودا ماحولیات نظام میں اہم ترین کردار کا حامل ہے۔ اِس کی بدولت مویشیوں کو چارہ ملتا ہے، شہد کی مکھیاں اِس کے پھولوں سے پولن اڑا لے جاتی ہیں اور صحرا کے مختلف چھوٹے جانداروں کے لیے یہ پودا، سائبان کا کام کرتا ہے اور غذا کے قدرتی سلسلے کو تقویت دیتا ہے۔
حدودِ شمالیہ میں حشرات کی واپسی موسمی تغیر کی اہمیت کو مذید اجاگر کرتی ہے۔ قرمزی یا ارغوانی نشانوں والے پروانوں کو بھی ریجن کے کُھلے منظر ناموں میں ہوا کے دوش پر تیرتے دیکھا گیا ہے۔
اپنے سفید پروں سے جن پر شوخ اور خِیرہ کُن سُرخ و سیاہ دھبے، اِس کی فوری شناخت کی علامت ہیں۔ نقل مکانی کرتے ہوئے یہاں پہنچنے والے یہ پتنگے، خشک ماحول میں خوش رہتے ہیں اور انڈوں سے نکلتے ہی جنگی پودوں سے خوراک حاصل کرے سبزے کے توازن کو برقرار رکھنے کا کام کرتے ہیں۔

اِن پتنگوں کے علاوہ ایک اور جاندار جو توجہ کے قابل ہے وہ ہوا میں منڈلانے والی مکھی یا بھڑ کی قِسم کی مخلوق ’ہوور فلائی‘ ہے جس کی آنکھوں میں دھاری دار نقطے پائے جاتے ہیں۔ اِسے بھی کئی قدرتی مقامات پر دیکھا گیا ہے۔
اپنی آنکھوں پر خاص قسم کے نمونوں اور اِس کی مستقل منڈلانے کی صلاحیت کی وجہ سے یہ حشرہ، پولینیٹر کا کام کرتے ہوئے ایک پھول سے پولن چنتا ہے اور دوسرے تک منتقل کر دیتا ہے جس سے اِن پودوں میں افزائش نسل ہوتی ہے۔
ماہرین ’ہوور فلائی‘ کو ماحولیاتی صحت کا معیار جاننے کا کلیدی اشارہ کہتے ہیں کیونکہ یہ حشرے سبزے کی فراوانی اور صاف ستھرے مسکن پر بہت انحصار کرتے ہیں۔

مشکل حالات میں ڈگمگانے اور پھر سنبھلنے کی صلاحیت سے لیس یہ انواع اور پھولوں میں تولید بڑھانے کے لیے نقل مکانی کرنے کے اِس مقام پر آنے والے حشرات ظاہر کرتے ہیں کہ حدودِ شمالیہ میں افزائشِ نسل کے موسم کی نازک مگر بامعانی بحالی شروع ہوگئی ہے۔
 جوں جوں بہار رنگ و خوشبو سے اپنی پہچان کراتی رہی گی، حیاتیاتی تنوع کی علامتیں ہمیں اُس ماحولیاتی توازن کی طرف متوجہ کرتی رہیں گی جو صحرا کے دامن میں جنم لے رہا ہے۔ جہاں چھوٹے سے چھوٹا جاندار بھی زندگی کی بقا میں اپنے ذمہ لگے ہوئے کردار کو ادا کیے جا رہا ہے۔

 

شیئر: