Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسرائیلی جیل سے رہا ہونے والے فلسطینی ایتھلیٹ کے لیے ’فلسطین میراتھن‘ زندگی کا ایک نیا موڑ

سورج طلوع ہوتے وقت محمد العاصی بیت اللحم کی کنکریٹ کی دیوار کے نیچے دوڑ رہے تھے۔ ان کے نائیکی جوتے بجری پر زور سے پڑ رہے تھے، سرد ہوا میں ان کی سانس دھند بنا رہی تھی جبکہ دیواروں پر لکھی عبارتیں اور رنگوں کے چھینٹے ہر قدم کے ساتھ دھندلے ہوکر پیچھے رہ رہے تھے۔
اسرائیل اور مقبوضہ مغربی کنارے (ویسٹ بینک) کے درمیان قائم رکاوٹ کے ساتھ بنی سڑک میراتھن کے اُس راستے کا حصہ تھی جس پر جمعہ کے روز محمد العاصی سمیت ہزاروں افراد نے دوڑ لگائی۔ یہ ایونٹ دنیا کے دوسرے حصوں میں موجود اُن لوگوں کے لیے بھی کھلا تھا جو فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے طور پر دوڑ رہے تھے، جبکہ غزہ میں ایک مختصر ریس بھی منعقد کی گئی۔
اس دوڑ کو ’فلسطین میراتھن کہا جاتا ہے، جو تین برس بعد پہلی بار منعقد ہوئی اور اسرائیل، حماس جنگ کے آغاز کے بعد مغربی کنارے میں ہونے والے ابتدائی بڑے بین الاقوامی پروگراموں میں شامل تھی۔ غزہ کی جنگ اور اسرائیلی پابندیوں میں اضافے کے باعث وہ تہوار، کانفرنسیں اور تقریبات جو کبھی ہزاروں افراد کو اپنی طرف کھینچتی تھیں، محدود یا منسوخ کر دی گئی ہیں۔
یہ ایونٹ 27 سالہ العاصی کی زندگی میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا، جنہیں چھ ماہ قبل اسرائیلی حراست سے رہا کیا گیا تھا۔ اُس دن کی ویڈیو میں وہ کمزور، دھنسی ہوئی آنکھوں اور نحیف چہرے کے ساتھ دکھائی دیتے ہیں، جبکہ ڈھائی سال سے زائد قید کے بعد ان کی کبھی مضبوط رہنے والی ٹانگیں کمزور پڑ چکی تھیں۔
انہوں نے دسمبر میں دوبارہ تربیت شروع کی اور ہر ماہ اپنی دوڑ کی مسافت میں اضافہ کرتے گئے۔ ان کے مطابق، انہوں نے پہلے مہینے 100 کلومیٹر دوڑا، جبکہ اپریل میں یہ فاصلہ 217 کلومیٹر تک پہنچ گیا۔
وہ صبح کے وقت دوڑتے ہیں، جب ان کی والدہ انہیں دھیشہ پناہ گزین کیمپ میں واقع ان کے گھر میں جگاتی ہیں۔ یہ کیمپ تنگ گلیوں اور گرافیٹی سے ڈھکی اینٹوں کی عمارتوں پر مشتمل ہے۔
محمد العاصی نے کہا کہ ’ہمیں سب سے بڑی مشکلات سڑکوں پر گاڑیوں اور اُس راستے پر اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی موجودگی سے پیش آتی ہیں جہاں میں تربیت کرتا ہوں۔‘
انہوں نے بتایا کہ کیمپ میں فوجی کارروائیوں کے باعث انہیں کئی بار اپنی تربیت روکنا پڑی۔
انہوں نے کہا کہ ’میں مایوس ہو کر گھر واپس آتا تھا کیونکہ میں وہ نہیں کر پاتا تھا جو میں نے کرنے کا ارادہ کیا ہوتا تھا۔‘

ایسی جگہ دوڑ جہاں سڑکیں بند ہوں

مغربی کنارے میں دوڑنے والے افراد 42.2 کلومیٹر کا مکمل میراتھن راستہ کسی چیک پوسٹ یا فوجی گیٹ سے گزرے بغیر مکمل نہیں کر سکتے، اسی لیے جمعہ کی میراتھن کا راستہ ایک ہی سرکٹ کے دو چکروں پر مشتمل تھا۔
دوڑنے والے دو فلسطینی پناہ گزین کیمپوں کی تنگ گلیوں سے گزرے اور پھر بیت اللحم کے قریب ایک زرعی قصبے تک پہنچے، جہاں کھیت کنکریٹ کی دیوار، خار دار تاروں اور کیمروں سے تقسیم کیے گئے ہیں۔ بعد ازاں راستہ واپس مڑ کر بیت اللحم کے ’مینجر اسکوائر‘ پر ختم ہوا۔
منتظمین کے مطابق یہ ریس مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کو درپیش پابندیوں کو اجاگر کرتی ہے، جہاں چیک پوسٹیں روزمرہ سفر کو بھی متاثر کرتی ہیں، جبکہ کھلی زمینیں جو ہائیکنگ، سائیکلنگ اور دوڑ کے لیے استعمال ہوتی تھیں، اب بڑھتی ہوئی اسرائیلی بستیوں اور چوکیوں کی نذر ہو رہی ہیں۔
میراتھن کی ویب سائٹ پر لکھا گیا ہے کہ ’دنیا بھر میں میراتھن رنرز 42 کلومیٹر کی دوڑ مکمل کرتے ہوئے جسمانی اور ذہنی دباؤ کی دیوار سے ٹکرا سکتے ہیں۔‘
لیکن مغربی کنارے میں، منتظمین کے مطابق، دوڑنے والے حقیقتاً دیوار سے ٹکراتے ہیں۔
اس وقت جبکہ مغربی کنارے کی معیشت مشکلات کا شکار ہے اور غزہ میں نازک جنگ بندی اور سست رفتار تعمیرِ نو کے سائے موجود ہیں، بیت اللحم میں ماحول خوشی اور جشن کا تھا۔
’چرچ آف دی نیٹیوٹی کے قریب لوگ صبح سویرے دوڑ کے آغاز اور اختتام پر رنرز کی حوصلہ افزائی کے لیے جمع ہوئے۔ بیگ پائپس بج رہے تھے اور ڈھولچی روایتی دھنیں بجاتے ہوئے راستے کی گلیوں میں موجود تھے۔
مرکزی غزہ کے نصیرات میں ساحلی سڑک پر، جو تقریباً میراتھن جتنی لمبی ہے، 15 معذور افراد، جن میں اعضا سے محروم لوگ بھی شامل تھے، نے 2 کلومیٹر کی دوڑ میں حصہ لیا، جبکہ تقریباً دو ہزار افراد نے 5 کلومیٹر کی دوڑ لگائی۔
22 سالہ ہایا النجی، جنہوں نے 5 کلومیٹر کی دوڑ میں حصہ لیا، نے کہا کہ بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ غزہ کے فلسطینی تباہ کن جنگ کے باوجود جینے اور ثابت قدم رہنے کے لیے پُرعزم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’پورا غزہ کھیلوں سے محبت کرتا ہے۔‘

جسم اور حوصلے کی بحالی

محمد العاصی کو اپریل 2023 میں گرفتار کیا گیا تھا اور انتظامی حراست کے تحت قید رکھا گیا، جو اسرائیل کو بغیر فردِ جرم کے مہینوں تک لوگوں کو حراست میں رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔ اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیموں اور فلسطینی قیدیوں کی سوسائٹی کے مطابق، اس نظام کے تحت 3,000 سے 4,000 فلسطینی قید ہیں۔
اکتوبر 2023 میں العاصی کو مشتبہ اداروں کو رقم منتقل کرنے کے الزام میں سزا سنائی گئی، جس کی وہ تردید کرتے ہیں۔ اسرائیل مالی ترسیلات، خصوصاً غزہ جانے والی رقوم، پر سخت نگرانی رکھتا ہے کیونکہ اسے خدشہ ہوتا ہے کہ یہ رقوم عسکریت پسندوں تک پہنچ سکتی ہیں۔ تاہم فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ عطیات اور فلاحی چندے بھی اکثر اس کارروائی کی زد میں آ جاتے ہیں۔ اسرائیلی فوج، شن بیت اور جیل سروس نے العاصی کے الزامات سے متعلق سوالات کا جواب نہیں دیا۔
اسرائیلی جیلوں میں، جہاں قیدی اکثر ناکافی خوراک کی شکایت کرتے ہیں، العاصی کا کہنا ہے کہ تقریباً ہر شخص بھوک کا شکار رہتا ہے۔ ان کا وزن کم ہونے سے وہ برداشت اور طاقت بھی ختم ہو گئی جو انہوں نے دس سال کی تربیت سے حاصل کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ’میرے جسم میں چربی سے زیادہ پٹھے ہیں، اس لیے جب میرا وزن کم ہوا تو یہ کمی چربی کے بجائے پٹھوں میں ہوئی۔ اس کا میری جسمانی فٹنس پر بہت بڑا اثر پڑا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’اتنا طویل عرصہ جیل میں گزارنے کے بعد میں جذباتی طور پر ٹوٹ چکا تھا۔‘
جمعہ کے روز جب وہ مجموعی طور پر دوسری پوزیشن حاصل کی تو گھٹنوں کے بل گر پڑے، جھک کر خدا کا شکر ادا کیا، جبکہ حامیوں اور صحافیوں نے انہیں گھیر لیا۔ انہوں نے اپنی دوڑ اُن فلسطینیوں کے نام کی جو اب بھی اسرائیلی حراست میں ہیں۔
آنکھوں میں آنسو لیے، ہاتھ آسمان کی طرف اٹھاتے ہوئے انہوں نے آواز لگائی کہ ’ 32 ماہ جیل میں گزارنے کے بعد، محمد العاصی اپنی کلاس میں پہلے نمبر پر ہے۔‘

شیئر: