Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایرانی ٹینکرز پر امریکی حملہ، جوابی کارروائیوں سے جوہری معاہدہ خطرے میں

ایرانی حکام نے ٹینکروں پر حملوں کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے (فوٹو: روئٹرز )
امریکی جنگی طیارے نے جمعے کو ایران کے پرچم بردار دو آئل ٹینکروں کو ناکارہ بنا دیا جس کے نتیجے میں ایران نے جوابی حملہ کیا اور یوں ایک کمزور جنگ بندی خطرات سے دوچار ہو گئی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی تازہ تجویز پر ایران کے جواب کے منتظر ہیں۔
ایرانی حکام نے ٹینکروں پر حملوں کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے امریکہ پر الزام عائد کیا کہ وہ تنازع کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے بتایا کہ ایف/اے-18 سپر ہارنیٹ طیارے نے جمعہ کے روز خلیجِ عمان میں دو جہازوں کو درست نشانہ بنانے والے ہتھیاروں سے نشانہ بنایا تاکہ انہیں ایران کی جانب بڑھنے سے روکا جا سکے۔ یہ علاقہ آبنائے ہرمز کا داخلی راستہ ہے جو نہایت اہم سمندری گزرگاہ ہے۔
ایرانی فوجی عہدیدار نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ ملک کی بحریہ نے ’جنگ بندی کی خلاف ورزی اور امریکی دہشت گردی‘ کے جواب میں حملے کیے اور اب جھڑپیں ختم ہو چکی ہیں۔
اقوامِ متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایروانی نے ایرانی ٹینکروں پر حملوں کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور سلامتی کونسل کو خط لکھا ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی تازہ تجویز پر ایران کے جواب کے منتظر ہیں (فوٹو:  اے ایف پی)

اسی دوران سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوا ہے کہ ایران کے جزیرہ خارگ کے قریب سمندر میں تیل کا ایک بڑا دھبہ پھیل رہا ہے، جو اسلامی جمہوریہ کے لیے ایک اہم تیل برآمدی مرکز ہے۔
یہ ابھی تک واضح نہیں ہو سکا کہ اس رساؤ کی وجہ کیا ہے، تاہم عالمی نگرانی کے ادارے کے مطابق یہ دھبہ جزیرے کے مغربی ساحل کے قریب 20 مربع میل (52 مربع کلومیٹر) سے زیادہ رقبے پر پھیل چکا ہے۔
جزیرہ خارگ ایران کی تیل برآمدی صنعت کا مرکزی مقام ہے اور اس کی کمزور معیشت کے لیے نہایت اہم حیثیت رکھتا ہے۔ یہ خلیج میں واقع ہے اور آبنائے ہرمز کے شمال میں ہے۔
دوسری حزب اللہ نے کہا ہے کہ اس نے جمعہ کے روز اسرائیلی شہر نہاریا کے جنوب میں ایک فوجی اڈے کو میزائلوں سے نشانہ بنایا، جو بیروت کے جنوبی مضافات اور جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملوں کا جواب تھا۔
چند گھنٹوں بعد اس گروہ نے شمالی اسرائیل میں ایک اور فوجی اڈے پر ڈرونز سے حملہ کرنے کا اعلان کیا۔

ایران کے جزیرہ خارگ کے قریب سمندر میں تیل کا ایک بڑا دھبہ پھیل رہا ہے (فوٹو: نیویارک ٹائمز)

اسرائیل نے جنگ بندی کے باوجود حزب اللہ کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھی ہیں۔ لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق جنوبی علاقوں میں اسرائیلی حملوں میں جمعہ کے روز 10 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں دو بچے اور تین خواتین شامل ہیں۔ لبنان کے شہری دفاع کے ادارے نے بھی اپنے ایک اہلکار کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
یہ تازہ تشدد ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب لبنان اور اسرائیل اگلے ہفتے واشنگٹن میں براہِ راست مذاکرات کرنے والے ہیں، جن کی حزب اللہ سخت مخالفت کر رہی ہے۔

شیئر: