متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ جمعہ کی صبح ملک کے فضائی دفاعی نظام نے میزائل اور ڈرون حملے کو روکنے کے لیے ’فعال طور پر کارروائی‘ کی، جبکہ ایران جنگ میں جاری نازک جنگ بندی پر دوبارہ دباؤ بڑھ گیا ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق وزارت نے شہریوں کو ہدایت کی کہ وہ فضائی دفاعی کارروائی کے نتیجے میں گرنے والے کسی بھی ملبے یا ٹکڑوں کے قریب نہ جائیں، نہ ان کی تصاویر بنائیں اور نہ ہی انہیں ہاتھ لگائیں۔
یہ تازہ حملہ ایک ایسے وقت پر ہوا ہے جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے، اگرچہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ 8 اپریل سے بڑی حد تک برقرار ہے۔
مزید پڑھیں
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی فوج نے بتایا تھا کہ ’اس نے جمعرات کی رات آبنائے ہرمز میں امریکی بحریہ کے تین جہازوں پر ہونے والے ایرانی حملوں کو ناکام بنایا اور ان حملوں کے جواب میں ایران کی فوجی تنصیبات پر کارروائی بھی کی، جنہیں امریکی افواج کے خلاف حملوں سے جوڑا گیا تھا۔‘
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا کہ امریکی افواج نے ’بلا اشتعال ایرانی حملوں‘ کو روکا اور اپنے حقِ دفاع کے طور پر جوابی کارروائی کی۔
امریکی فوج نے واضح کیا کہ کسی بھی جہاز کو نقصان نہیں پہنچا اور اس بات پر زور دیا کہ اس کا مقصد کشیدگی بڑھانا نہیں، تاہم وہ ’امریکی افواج کے دفاع کے لیے ہمہ وقت تیار اور موجود ہے۔‘

واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ تازہ تشدد کے باوجود جنگ بندی اب بھی برقرار ہے۔
متحدہ عرب امارات کو 28 فروری کو شروع ہونے والی ایران کے ساتھ امریکہ اسرائیل جنگ کے ابتدائی چھ ہفتوں کے دوران شدید حملوں کا سامنا رہا، جب امریکہ اور اسرائیل نے ایرانی اہداف پر کارروائیاں شروع کی تھیں۔
ابوظہبی میں حکام نے اس ہفتے ایران پر الزام عائد کیا کہ اس نے دوبارہ ڈرون اور میزائل حملے شروع کر دیے ہیں، جن میں پیر اور منگل کو ہونے والے حملے 8 اپریل کی جنگ بندی کے بعد پہلے حملے تھے۔
اماراتی حکام کے مطابق، تنازع کے آغاز سے اب تک ملک پر ایران کی جانب سے 2 ہزار سے زائد ڈرون، سینکڑوں بیلسٹک میزائل اور درجنوں کروز میزائل داغے گئے ہیں۔ اگرچہ زیادہ تر حملے ناکام بنا دیے گئے، تاہم ان میں کم از کم 13 افراد جاں بحق اور 200 سے زائد زخمی ہوئے، جبکہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور اہم عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔
دیگر خلیجی عرب ممالک کو بھی اس دوران بار بار حملوں کا سامنا رہا، اگرچہ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وہ ایران کے خلاف امریکہ اسرائیل فوجی مہم میں شامل نہیں ہیں۔

جمعرات کو متحدہ عرب امارات نے ایک قومی کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا جس کا مقصد ایران کے حملوں اور ان کے نتیجے میں ہونے والے انسانی، معاشی اور مادی نقصان کو دستاویزی شکل دینا ہے، تاکہ ایران کے خلاف ممکنہ قانونی کارروائی کی تیاری کی جا سکے۔
اس کمیٹی کی سربراہی امارات کے اٹارنی جنرل کر رہے ہیں، جو ان کارروائیوں کے شواہد یکجا کرے گی جنہیں حکام نے ’ایران کی جارحیت‘ اور بین الاقوامی جرائم قرار دیا ہے، جو امارات، اس کے شہریوں، رہائشیوں اور مہمانوں کے خلاف کیے گئے۔
سرکاری خبر رساں ادارے وام کے مطابق، یہ ادارہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ قانونی اور تکنیکی معیار کے مطابق خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دے گا تاکہ ملک انصاف، جوابدہی اور ہرجانے کے حصول کے لیے اپنا مؤقف مضبوط بنا سکے۔
یہ اعلان اس واقعے کے ایک روز بعد سامنے آیا جب امارات نے تہران کے ان بیانات کی مذمت کی جن میں ابوظہبی پر امریکہ کے ساتھ تعاون کو ایران کی سلامتی اور قومی مفادات کے لیے خطرہ قرار دیا گیا تھا۔
اماراتی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ اس کی دفاعی شراکت داری اور بین الاقوامی تعلقات مکمل طور پر ایک خودمختار معاملہ ہیں۔
گزشتہ ماہ پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات جنگ کے خاتمے کے لیے کسی وسیع معاہدے تک نہیں پہنچ سکے تھے۔












