پاکستان کا ’فتح-4‘ کا کامیاب تجربہ: ’فتح‘ میزائل سیریز کیا ہے؟
پاکستان کا ’فتح-4‘ کا کامیاب تجربہ: ’فتح‘ میزائل سیریز کیا ہے؟
جمعرات 14 مئی 2026 13:12
پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے کہا ہے کہ پاکستان آرمی راکٹ فورس کمانڈ نے مقامی طور پر تیار کردہ ’فتح-4‘ گراؤنڈ لانچڈ کروز میزائل کا کامیاب تربیتی تجربہ کیا ہے۔
بدھ کو آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق جدید ایویانکس اور جدید ترین نیویگیشنل نظام سے لیس فتح-4 طویل فاصلے تک اہداف کو انتہائی درستگی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ اس تربیتی تجربے کا مقصد فوجی دستوں کی آپریشنل صلاحیت میں اضافہ اور میزائل نظام میں شامل مختلف ذیلی تکنیکی نظاموں کی جانچ کرنا تھا تاکہ بہتر درستگی اور دفاعی صلاحیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
اس موقعے پر پاکستان آرمی راکٹ فورس کمانڈ کے سینئر افسران کے علاوہ میزائل پروگرام سے وابستہ سائنس دانوں اور انجینیئرز نے بھی تجربے کا مشاہدہ کیا۔
صدر پاکستان، وزیرِ اعظم، چیف آف آرمی سٹاف، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، سربراہ پاک بحریہ اور سربراہ پاک فضائیہ نے فتح-4 کے کامیاب تجربے پر متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے اس منصوبے میں شامل ماہرین اور تکنیکی عملے کی صلاحیتوں، محنت اور عزم کو سراہا۔
’فتح‘ میزائل سیریز کیا ہے؟
پاکستان گزشتہ چند برسوں سے مقامی سطح پر ’فتح‘ میزائل سیریز کو جدید بنا رہا ہے، جسے روایتی جنگی حکمت عملی میں اہم پیش رفت قرار دیا جاتا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق فتح سیریز کے میزائل جدید گائیڈڈ راکٹ سسٹم پر مبنی ہیں جو دشمن کے حساس اہداف کو انتہائی درستگی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اس سے قبل پاکستان ’فتح-1‘، ’فتح-2‘ اور ’فتح-3‘ میزائلوں کے کامیاب تجربات بھی کر چکا ہے جنہیں خاص طور پر جدید جنگی ضروریات اور خطے میں بدلتی سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں اہم قرار دیا گیا تھا۔
فتح میزائل کی تیاری کا باقاعدہ آغاز سنہ 2021 میں ہوا تھا۔ اس وقت پاکستان نے پہلی بار ’فتح-1‘ کا کامیاب تجربہ کیا جو ایک محدود فاصلے تک مار کرنے والا میزائل تھا اور اس کا مقصد زمینی اہداف کو مؤثر انداز میں نشانہ بنانا تھا۔
بعد ازاں، اس ٹیکنالوجی میں مزید جدت لائی گئی اور اس کی مار اور درستگی میں خاطرخواہ اضافہ کیا گیا جس کے نتیجے میں ’فتح- 2‘ وجود میں آیا۔
دسمبر 2023 میں اس کا پہلا کامیاب تجربہ کیا گیا اور مارچ 2024 میں یومِ پاکستان کی فوجی پریڈ کے دوران اسے پہلی بار عوامی سطح پر نمائش کے لیے پیش کیا گیا۔
فتح میزائل کی سب سے بڑی خوبی اس کی رینج اور حیران کن درستگی ہے۔ یہ میزائل 120 کلومیٹر تک اپنے ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنا سکتا ہے اور اس کی انحراف کی شرح محض دس میٹر سے بھی کم ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ میزائل داغنے کے بعد یہ انتہائی باریکی کے ساتھ اپنے مطلوبہ ہدف پر جا لگتا ہے۔ اس کی رہنمائی کے لیے میزائل کے اندر جدر نیویگیشن نظام بھی نصب ہے جس کو سیٹلائٹ سے مربوط کیا گیا ہے تاکہ دورانِ پرواز میزائل کسی بھی سمت میں درستگی کے ساتھ راستہ اختیار کر سکے۔
اس میزائل کو دو عدد راکٹوں پر مشتمل ایک جدید لانچر پر نصب کیا گیا ہے جو چین کے تیار کردہ آٹھ پہیوں والی مخصوص فوجی گاڑیوں پر مشتمل ہے۔ اس جدید نظام کی مدد سے بیک وقت دو میزائل داغے جا سکتے ہیں جس سے دشمن کی دفاعی لائن میں دراڑ ڈالنے کا موقع ملتا ہے۔
یہ میزائل اپنے ہدف کی جانب سفر کے دوران مخصوص مرحلے پر سمت تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جسے فوجی اصطلاح میں ’مڈ کورس مینُوورنگ‘ کہا جاتا ہے۔ اس کا مقصد دشمن کے دفاعی نظام کو چکما دینا ہوتا ہے۔
پاکستان اور انڈیا کے درمیان حالیہ برسوں میں لائن آف کنٹرول، کشمیر اور علاقائی سکیورٹی کے معاملات پر کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ خاص طور پر گذشتہ برس مئی میں ہونے والی چار روزہ لڑائی میں دونوں جانب سے جدید ہتھیاروں اور میزائلوں کا استعمال بھی کیا گیا تھا۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق جنوبی ایشیا میں میزائل اور جدید ہتھیاروں کی دوڑ میں دونوں ممالک اپنی عسکری صلاحیتوں کو مسلسل اپ گریڈ کر رہے ہیں۔
حالیہ برسوں میں انڈیا نے بھی طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں، فضائی دفاعی نظام اور جدید ڈرون ٹیکنالوجی کے متعدد تجربات کیے ہیں جبکہ پاکستان کی جانب سے فتح سیریز سمیت مختلف دفاعی منصوبوں کو ملکی دفاعی حکمتِ عملی کا اہم حصہ قرار دیا جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید گائیڈڈ میزائل سسٹمز روایتی جنگی حکمت عملی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ ان کے ذریعے حساس اہداف کو کم وقت میں زیادہ درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔