Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان میں آن لائن سرمایہ کاری کا نیا سکینڈل، لوگوں کے ’اربوں‘ روپے ڈوب گئے

اسلام آباد میں ای کامرس کے نام پر ایک کمپنی قائم کی گئی جو کہ سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان اور فیڈرل بورڈ آف ریوینیو کے ساتھ باقاعدہ رجسٹرڈ تھی۔
کمپنی کا نام ’گولڈ باکس ای ٹریڈنگ پرائیویٹ لمیٹڈ‘ رکھا گیا۔
صارفین کی رسائی اور سہولت کے لیے گوگل پلے سٹور اور ایپل ایپ سٹور پر اپنی ایپلی کیشنز لانچ کرنے کے ساتھ ساتھ ایک فعال ویب سائٹ بھی بنائی گئی۔
کمپنی شہریوں کو بنیادی طور پر مختلف ’باکسز‘ خریدنے کی آفر کرتی تھی، جن کی قیمت دو ہزار روپے سے لے کر لاکھوں روپے تک تھی۔
کمپنی کی جانب سے ان باکسز کو خریدنے پر بونس دیا جاتا تھا، جبکہ صارفین ان باکسز کو ری سیل کر کے مناسب منافع بھی کماتے تھے۔
گذشتہ ایک ڈیڑھ سال سے یہ سلسلہ باقاعدگی سے چلتا رہا اور لوگ لاکھوں روپے کے 'انویسٹمنٹ باکسز‘خریدتے رہے، جس پر انہیں بروقت منافع بھی ملتا رہا۔
تاہم فراڈ کا آغاز اس وقت ہوا جب گذشتہ ایک ڈیڑھ ماہ کے دوران شہریوں نے بڑے بھروسے کے ساتھ مزید بھاری مالیت کے باکسز خریدنا شروع کیے، لیکن کمپنی نے اس بار صارفین کو ان کا طے شدہ کمیشن یا منافع دینا بند کر دیا۔
جب مسلسل ایک سے ڈیڑھ ماہ تک منافعے کی ادائیگی نہ ہوئی، تو صارفین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی اور انہیں احساس ہوا کہ وہ دھوکہ دہی کا شکار ہو چکے ہیں۔
صارفین کے خدشات اس وقت حقیقت میں بدل گئے جب کمپنی نے ادائیگیوں کے مطالبے پر پہلے ’تکنیکی خرابیوں‘کا بہانہ بنایا اور پھر اچانک اپنا مکمل ڈیجیٹل سسٹم بند کر کے روپوش ہونے کی کوشش کی۔ 
تاہم صورت حال کو بھانپتے ہوئے متاثرین نے کمپنی کے مالکان کو بھاگنے کا موقع نہ دیا اور بڑی تعداد میں ان کے دفتر پہنچ گئے اور پھر ان کی شکایت پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی میں کروڑوں روپے کے مالیاتی فراڈ کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔
کمپنی کے خلاف آن لائن انویسٹمنٹ کے نام پر شہریوں سے دھوکہ دہی کرنے پر این سی سی آئی نے کروڑوں روپے کی مالیاتی فراڈ کا مقدمہ درج کر لیا ہے، جس میں کمپنی کے چینی مالکان اور اعلیٰ عہدیداروں کو نامزد کیا گیا ہے۔
سائبر تحقیقاتی ایجنسی نے کارروائی کرتے ہوئے تین چینی باشندوں سمیت ایک خاتون کو گرفتار کیا ہے، جن کا جمعے کو عدالت سے جسمانی ریمانڈ بھی منظور کروا لیا گیا ہے۔
اردو نیوز کو اسی کمپنی کے ایک متاثرہ شہری عمر خان (فرضی نام) نے بتایا کہ ان سمیت دیگر شہریوں کے ساتھ لاکھوں روپے کا فراڈ ہوا اور مجموعی طور پر کمپنی نے پاکستان بھر سے لوگوں کو اربوں روپے کا چونا لگایا ہے۔
کمپنی کا طریقۂ واردات کیا تھا؟
کمپنی میں سرمایہ کاری کرنے والے دیگر متاثرہ شہریوں نے اردو نیوز کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ یہ بنیادی طور پر ایک ای کامرس طرز کی کمپنی تھی، جس نے اپنا نیٹ ورک پھیلانے کے لیے باقاعدہ موبائل ایپلی کیشنز اور ویب سائٹس تیار کر رکھی تھیں۔
اُن کے مطابق کمپنی کی جانب سے شہریوں کو ’بلائنڈ باکس‘ جیسے پُرکشش انویسٹمنٹ پلانز کا لالچ دیا جاتا اور یہ دعویٰ کیا جاتا کہ ان ایپس کے ذریعے رقم جمع کروانے پر روزانہ کی بنیاد پر بھاری منافع ملے گا اور ابتدائی عرصے میں صارفین کو یہ منافع ملتا بھی رہا۔
کمپنی کے طریقۂ واردات کے حوالے سے انکشاف ہوا کہ شروع میں سرمایہ کاروں کو اعتماد میں لینے کے لیے ایپ کے ’ڈیجیٹل والٹ‘ میں فرضی منافع بڑھتا ہوا دکھایا جاتا تھا۔
اس کا مقصد یہ تھا کہ لوگ متاثر ہو کر نہ صرف مزید رقم لگائیں بلکہ اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو بھی اس نیٹ ورک کا حصہ بنائیں، تاہم جب شہریوں نے کروڑوں روپے جمع کروا دیے، تو کمپنی نے اچانک رقم کی واپسی روک دی۔ 
کسی بھی شکایت کی صورت میں ’تکنیکی خرابی‘  یا ’سسٹم اپ گریڈ‘ کے بہانے بنا کر وقت ٹالا جاتا رہا اور آخرکار ویب سائٹ سمیت تمام ایپلی کیشنز مکمل طور پر بند کر دی گئیں۔
متاثرہ شہریوں کے مطابق جب انہیں یہ اطلاع ملی کہ کمپنی اپنا سامان سمیٹ کر یہاں سے فرار ہونے کی تیاری کر رہی ہے، تو تمام متاثرین فوری طور پر اسلام آباد سٹاک ایکسچینج ٹاور میں واقع کمپنی کے دفتر پہنچ گئے۔
وہاں انہوں نے ملزمان کو دفتر چھوڑ کر جانے سے روک دیا اور موقعے پر ہی پولیس و متعلقہ حکام کو مطلع کیا۔ بعد ازاں متاثرین نے اپنی مدعیت میں این سی سی آئی اے کو باقاعدہ درخواست دی، جس کے بعد اس بڑے مالیاتی سکینڈل کا مقدمہ درج کیا گیا۔
ایف آئی آر میں 271 متاثرین سے 13 کروڑ 40 لاکھ روپے سے زائد کی رقم ہتھیانے کا معاملہ لکھا گیا ہے، جس میں ایک شہری محمد ایاز خان (مرکزی مدعی) سے 59 لاکھ روپے وصول کیے گئے، تاہم اردو نیوز کو معلوم ہوا ہے کہ اصل میں کمپنی نے اس سے کہیں زیادہ اربوں روپے کی دھوکہ دہی کی ہے۔
نامزد ملزمان میں چینی باشندے ہانگ روئی فینگ (مالک)، ژانگ ٹنگ (سی ایف او) اور لیو موہان سمیت دیگر مقامی ساتھی بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب گولڈ باکس سکینڈل کے متاثرین اسلام آباد میں سراپا احتجاج بھی ہیں۔ جمعرات کو متاثرین کی بڑی تعداد نے تھانہ کوہسار اور این سی سی آئی اے کے دفاتر کے باہر احتجاج کیا۔
 مظاہرین کا کہنا ہے کہ حکومت اور متعلقہ حکام فوری مداخلت کریں تاکہ انہیں ان کی جمع پونجی اور لگائی گئی رقوم واپس دلائی جا سکیں۔
سائبر سکیورٹی اور آن لائن انویسٹمنٹ کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی کمپنیاں لوگوں کی نفسیات سے کھیلتی ہیں۔
اسلام آباد میں مقیم سائبر سکیورٹی اور آن لائن فراڈ کے ایکسپرٹ عمر قریشی کے خیال میں یہ کمپنیاں کوئی حقیقی کاروبار نہیں کرتیں بلکہ نئے آنے والے سرمایہ کاروں کا پیسہ پرانے سرمایہ کاروں کو منافع کے طور پر دے دیتی ہیں، اس طرح کے بہت سے کیسز پہلے بھی آچکے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایسی ایپس کے سرور اکثر بیرونِ ملک ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ویب سائٹ بند ہونے کے بعد ڈیٹا تک رسائی اور ملزمان کا سراغ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسی کمپنیوں کی رجسٹریشن سے پہلے متعلقہ اداروں کو نہ صرف ان کی کڑی نگرانی کرنی چاہیے بلکہ ان کے کاروباری ماڈل کی مکمل چھان بین بھی ضروری ہے، تاکہ مستقبل میں شہریوں کو کسی بڑے مالیاتی دھوکے سے بچایا جا سکے اور لوگ مکمل اطمینان کے بعد ہی اپنی سرمایہ کاری کر سکیں۔
 

شیئر: