Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

باجوڑ میں سکیورٹی کمپاؤنڈ پر دہشت گرد حملے میں 9 سکیورٹی اہلکار جان سے گئے

کالعدم تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے (فائل فوٹو: روئٹرز)
حکام کے مطابق شدت پسندوں نے شمال مغربی پاکستان میں بارود سے بھرا ٹرک سکیورٹی کمپائونڈ سے ٹکرانے کے بعد فائرنگ کر دی جس میں کم از کم نو نیم سکیورٹی اہلکار جان سے گئے۔
خبر رساں ادارے اے اہف پی کے مطابق جمعرات کو باجوڑ میں پیش آنے والا یہ واقعہ اُس علاقے میں حالیہ مہلک حملوں کے بعد سامنے آیا ہے، جہاں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران کار بم اور مارٹر حملوں میں 21 افراد جان سے جا چکے ہیں۔ یہ شورش زدہ علاقہ افغانستان کی سرحد کے قریب واقع ہے۔
پشاور میں ایک سینیئر سکیورٹی اہلکار نے کہا کہ ’اس حملے میں نو سکیورٹی اہلکار جان سے گئے جبکہ 10 شدت پسند بھی ہلاک ہوئے۔‘
ان کے مطابق حملہ آور دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی کمپاؤنڈ کے مرکزی دروازے سے ٹکرا کر اندر لے گئے۔
اہلکار نے مزید بتایا کہ ’سکیورٹی فورسز کے ساتھ طویل فائرنگ کے تبادلے کے بعد حملہ آور فرار ہوگئے، جبکہ اس حملے میں کم از کم 35 سکیورٹی اہلکار زخمی بھی ہوئے۔‘
باجوڑ کے ایک اور سینیئر سرکاری افسر نے بھی ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔
اس علاقے میں سرگرم شدت پسند تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔
دوسری جانب حکام کے مطابق باجوڑ کے علاقے عنایت کلی میں دہشت گردی کے ایک الگ واقعے کے دوران مارٹر کا گولہ فرنٹیئر کور کے ایک اور کیمپ میں گرنے سے تین سکیورٹی اہلکار زخمی ہو گئے۔
باجوڑ میں یہ حالیہ پرتشدد واقعہ اتوار کو بنوں کے علاقے فتح خیل میں ہونے والے کار بم حملے کے بعد پیش آیا ہے جس میں 15 افراد جان سے گئے تھے۔ اسی طرح سات مئی کو ضلع ہنگو کے علاقے تھل میں ایک بازار پر مارٹر حملے میں چھ افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔
پاکستان کا موقف ہے کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں، تاہم افغانستان اس الزام کی تردید کرتا ہے۔
دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات حالیہ مہینوں میں مزید بگڑ گئے ہیں اور متعدد مہلک جھڑپوں کا سبب بنے ہیں، جن میں افغانستان کے شہروں پر پاکستان کی فضائی کارروائیاں بھی شامل ہیں۔

شیئر: