Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان میں مسلسل دوسرے سال کیمبرج پیپر لِیک، کیا طلبہ کا مستقبل داؤ پر ہے؟

’ہم نے پورا سال دن رات ایک کر کے امتحانات کی تیاری کی تھی، لیکن عین امتحان سے قبل معلوم ہوا کہ پرچہ لیک ہو چکا ہے اور اب اسے ری شیڈول کر دیا گیا ہے۔‘
شایان حسین نے اپنے اضطراب کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا ’اگر پرچہ لیک ہو چکا ہے تو پھر اب ہمارے مستقبل کا کیا ہوگا؟ کیا ہم یونہی غیر یقینی کا شکار رہیں گے؟ ہماری سال بھر کی محنت اور والدین کی جمع پونجی سے ادا کی گئی بھاری فیسوں کے ضیاع کا ذمہ دار کون ہے؟‘
یہ بے چینی اور ذہنی کرب سے بھرپور تاثرات اسلام آباد میں اے لیول کے طالب علم شایان حسین کے ہیں، جو ریاضی کا پرچہ لیک ہونے پر شدید تشویش اور پریشانی کا شکار ہیں۔
پاکستان کے کسی مقامی بورڈ کے  امتحانات سے قبل پرچہ لیک ہونا شاید معمول کی خبر سمجھی جاتی ہو، مگر اب مسلسل دوسرے سال انٹرنیشنل بورڈ 'کیمبرج' کے پرچے لیک ہونے کے واقعات نے سب کو حیران کر دیا ہے۔
پیپر لیک ہونے کے ان واقعات سے نہ صرف ہزاروں طلبہ کا مستقبل متاثر ہوا ہے بلکہ کیمبرج کے عالمی امتحانی نظام کی ساکھ پر بھی سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔
کب کون سا پرچہ لیک ہوا؟ 
رواں سال پاکستان میں اب تک کیمبرج کے ایک ہی مضمون (ریاضی) کے دو پرچے باقاعدہ لیک ہو چکے ہیں جبکہ تیسرے کے حوالے سے شدید خدشات پائے جاتے ہیں
پیور میتھمیٹکس ون (پی ون) یہ پرچہ 29 اپریل 2026 کو شیڈول تھا، لیکن امتحان سے قبل ہی اس کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے ٹھوس ثبوت ملے، جس کی تصدیق بعد ازاں کیمبرج حکام اور آئی بی سی سی نے بھی کی۔
بعد ازاں مکینکس  ریاضی کا دوسرا پرچہ 12 مئی کو ہونا تھا مگر یہ بھی وقت سے پہلے سوشل میڈیا کی زینت بن گیا اور طلبہ تک پہنچ گیا۔
پیور میتھمیٹکس تھری (پی تھری) کیمرج یہ پرچہ 15 مئی کو شیڈول تھا، تاہم مسلسل دو لیکس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال اور خدشات کے پیشِ نظر بورڈ نے اسے ملتوی کر دیا۔ اب اطلاعات ہیں کہ یہ تمام متاثرہ پرچے 9 جون کو دوبارہ لیے جائیں گے۔
کیمبرج کا موقف اور حکومتی ایکشن
کیمبرج اسسمنٹ انٹرنیشنل ایجوکیشن نے پرچہ لیک ہونے کے ان واقعات کی باقاعدہ تحقیق کا آغا کیا ہے اور اسے  ایک ’مجرمانہ کارروائی‘ اور امتحانی مواد کی ’چوری‘ قرار دیا ہے۔
بورڈ کا کہنا ہے کہ متاثرہ پرچوں کی بنیاد پر رزلٹ تیار نہیں کیے جائیں گے کیونکہ اس سے شفافیت متاثر ہو گی۔
دوسری جانب، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر تعلیم کی ہدایت پر وزارتِ داخلہ نے ایکشن لیتے ہوئے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو تحقیقات کا حکم دیا ہے۔وزارت داخلہ کے مطابق  کیمبرج کے ساتھ مل کر ان مجرمانہ گروہوں کا سراغ لگایا جائے گا جنہوں نے یہ مواد چوری کر کے سوشل میڈیا پر پھیلایا۔
وزارتِ داخلہ نے برطانوی ہائی کمیشن اور کیمبرج حکام پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے امتحانی نظام میں موجودں کو فوری طور پر ختم کریں۔ یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ مستقبل میں ایسے واقعات کے تدارک کے لیے کیمبرج اپنے سسٹم کی استعداد کار کو بڑھائے گا اور تحقیقات کے نتائج کو شفاف طریقے سے عوام کے سامنے لایا جائے گا
واضح رہے کہ کیمبرج (جسے مکمل طور پر 'کیمبرج یونیورسٹی پریس اینڈ اسیسمنٹ' کہا جاتا ہے) برطانیہ کی مشہور کیمبرج یونیورسٹی کے تحت کام کرنے والا ایک عالمی امتحانی بورڈ ہے، جو دنیا کے 160 سے زائد ممالک میں او لیول، اے لیول اور آئی جی سی ایس ای جیسے امتحانات منعقد کرواتا ہے
 پاکستان میں یہ براہِ راست کام کرنے کے بجائے برٹش کونسل  کے ذریعے اپنا نظام چلاتا ہے، جو کہ ایک انتظامی شراکت دار کے طور پر امتحانی مراکز کا انتظام، پرچوں کی ترسیل اور نگرانی کی ذمہ دار ہوتی ہے۔
 کیمبرج پاکستان کو اپنے مخصوص جغرافیائی ’زون فور‘ میں رکھتا ہے تاکہ وقت اور سکیورٹی کے لحاظ سے امتحانات کی یکسانیت برقرار رہے۔ طلبہ نجی طور پر یا کیمبرج سے الحاق شدہ اسکولوں کے ذریعے رجسٹریشن کرواتے ہیں اور ان کے حل شدہ پرچے جانچ کے لیے برطانیہ بھیجے جاتے ہیں، جس کے بعد کیمبرج بین الاقوامی معیار کے مطابق نتائج جاری کرتا ہے۔
پرچہ لیک ہونے پر نگران ادارے کا موقف کیا ہے؟
پاکستان میں کیمبرج سمیت تمام غیر ملکی بورڈز کو ریگولیٹ کرنے والے ادارے آئی بی سی سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام علی ملاح کا کہنا ہے کہ ’ہم نے کیمبرج سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔‘ 
اُنہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہم ان کے ریگولیٹر ہیں اور اگرچہ ہم براہِ راست جرمانہ نہیں کر سکتے لیکن کسی بھی بورڈ کے پاکستان میں کام کرنے کے جو ایس او پیز ہیں، ان پر عمل درآمد کروانا ہماری ذمہ داری ہے۔
کیمبرج کو اسی سیزن کے دوران ری ٹیک لینے کا کہا ہے تاکہ طلبہ کا وقت ضائع نہ ہو۔ ڈاکٹر غلام علی ملاح کے مطابق اب تک باقاعدہ طور پر ریاضی کے دو پرچوں کے لیک ہونے کی تصدیق کی ہے۔
’سوشل میڈیا پر دیگر مختلف مضامین کے پرچے آؤٹ ہونے کے حوالے سے جو خبریں گردش کر رہی ہیں، وہ فی الحال غیر تصدیق شدہ ہیں اور ان میں کوئی صداقت سامنے نہیں آئی۔‘
ڈاکٹر غلام علی ملاح نے واضح کیا کہ وزارتِ تعلیم اور آئی بی سی سی نے اس صورتحال کا سخت نوٹس لیا ہے، کیونکہ یہ براہِ راست ہزاروں طلبہ کے مستقبل اور ان کے کیریئر کا معاملہ ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ابھی تک اس بات کی قطعی تصدیق نہیں ہو سکی کہ پرچہ درحقیقت کس مقام سے لیک ہوا، کیونکہ پاکستان جس ’زون‘ میں شامل ہے اس میں دیگر کئی ممالک بھی آتے ہیں۔
ڈاکٹر غلام علی ملاح کا کہنا تھا کہ ہم نے کیمبرج حکام سے ان تمام پہلوؤں پر تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے کہ جب گزشتہ سال بھی اسی طرح کا واقعہ پیش آیا تھا تو اس بار دوبارہ حفاظتی اقدامات میں کوتاہی کیوں ہوئی؟ ہمیں فی الحال ان کے جواب کا انتظار ہے۔
ہم نے اس معاملے پر مزید وضاحت کے لیے ہیڈ اسٹارٹ اسکول اسلام آباد میں 'رجسٹرار کیمبرج کولابریشن اینڈ کمپلائنس' عارفین ہاشمی سے گفتگو کی۔
اُنہوں نے اردو نیوز کو بتایا کہ پاکستان بنیادی طور پر کیمبرج کے ’زون فور‘ میں آتا ہے، جس میں بھارت اور نیپال سمیت دیگر کئی ممالک شامل ہیں ان کا کہنا تھا کہ کیمبرج پاکستان میں دو سیشنز (اکتوبر/نومبر اور مئی/جون) میں امتحانات منعقد کرتا ہے۔ 
عارفین ہاشمی کے مطابق  جو پرچہ 15 مئی کو ہونا تھا، اسے اب ملتوی کر دیا گیا ہے اور 22 مئی تک تمام اسکولوں اور کالجوں کو نئی تاریخوں سے آگاہ کر دیا جائے گا۔
انہوں نے طلبہ کی تشویش دور کرتے ہوئے واضح کیا کہ کیمبرج ان پرچوں کے لیے دوبارہ کوئی فیس وصول نہیں کرے گا، اور اس بار یہ اشارہ بھی دیا گیا ہے کہ متاثرہ طلبہ کے لیے مارکنگ کے عمل میں قدرے نرمی برتی جائے گی۔
دوسری جانب، گزشتہ 29 برسوں سے تعلیم کے شعبے سے وابستہ ماہرِ تعلیم سدرہ خرم نے اس صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ان کے خیال میں پرچہ لیک ہونے کی مکمل ذمہ داری کیمبرج پر عائد ہوتی ہے اور بدقسمتی یہ ہے کہ عالمی ادارہ اس معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہا۔
سدرہ خرم نے پرچہ لیک ہونے کی دو بنیادی وجوہات بیان کیں ہیں جن میں ایک امتحانی مراکز پر سیکیورٹی کے ناقص انتظامات اور دوسری مختلف ممالک میں 'ٹائم زون' کے فرق کا خیال نہ رکھنا ہے جس کا فائدہ اٹھا کر پرچے وائرل کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیمبرج اس سینٹر کی رجسٹریشن فوری منسوخ کیوں نہیں کرتا جہاں سے پرچہ لیک ہوتا ہے؟ ان کا مزید کہنا تھا کہ کیمبرج کو چاہیے کہ ہر ٹائم زون کے لیے الگ الگ پرچے بنائے تاکہ ایک جگہ ہونے والا لیک دوسرے زون کو متاثر نہ کر سکے۔
سدرہ خرم کے نزدیک سب سے بڑا مسئلہ طلبہ کی ذہنی صحت ہے ’جب ایک محنتی بچے کو پتہ چلتا ہے کہ اس کا پرچہ لیک ہو گیا ہے، تو وہ شدید ذہنی دباؤ اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو جاتا ہے۔‘
اُن کے مطابق تعلیمی عمل میں تاخیر اور بھاری فیسوں کا ضیاع الگ مسائل ہیں جنہیں کیمبرج محسوس نہیں کر رہا۔
انہوں نے اس  پہلو کی طرف بھی اشارہ کیا کہ ’اربوں روپے ملک سے باہر جا رہے ہیں۔”پاکستان میں سالانہ 70 سے 90 ہزار طلبہ کیمبرج (او اور اے لیولز اور آئی جی سی ایس ای) کے امتحانات دیتے ہیں۔‘
اُن کے خیال میں او لیول کا ایک طالب علم اوسطاً 9 سے 15 پرچے جبکہ اے لیول میں 3 سے 5 مضامین کے امتحانات دیتا ہے جبکہ فی پرچہ فیس 26 سے 35 ہزار روپے کے لگ بھگ ہے، جس کا مطلب ہے کہ سالانہ اربوں روپے کا زرِ مبادلہ پاکستان سے باہر جا رہا ہے۔
مقامی بورڈز کی مضبوطی کا مطالبہ
سدرہ خرم نے حکومت اور ریگولیٹرز کو مشورہ دیا کہ اگر کیمبرج اپنا سسٹم بہتر نہیں کرتا تو اسے پاکستان میں اس وقت تک بین کر دینا چاہیے جب تک وہ کوئی فول پروف متبادل نہیں لاتے۔
انہوں نے انڈیا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں کے مقامی بورڈز اتنے مضبوط ہو چکے ہیں کہ وہاں اب انٹرنیشنل بورڈز پر انحصار کم ہو گیا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اپنے مقامی بورڈز، خاص طور پر فیڈرل بورڈ کو اس قابل بنائے کہ وہ عالمی معیار کا مقابلہ کر سکیں اور طلبہ کو بیرونِ ملک کے بجائے اپنے سسٹم پر اعتماد ہو۔

 

شیئر: