دارۃ الملک عبدالعزیز سعودی ورثے کے تحفظ کے لیے کوشاں
تاریخی اور دستاویزی مواد کی تعداد 3.4 ملین سے تجاوز کر چکی ہے (فوٹو: ایس پی اے)
تاریخی دستاویزات، مسودے اور تصاویر قوموں کی اجتماعی یادداشت کو محفوظ رکھنے اور اُن کے تہذیبی اور تعمیری سفر کا ریکارڈ بنانے کے لیے لازمی ہوتے ہیں۔
یہ تمام دستاویزات اِس لحاظ سے بھی اہمیت اختیار کر جاتی ہیں کہ ان میں نہ صرف کسی قوم کی زندگی کے اہم واقعات کا اندارج ہوتا ہے بلکہ یہ قوموں کو پیش آنے والی بنیادی تبدیلیوں، معلومات کے ذرائع اور قومی شناخت کو مضبوط بناتی ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق دنیا بھر میں آرکائیوز کا عالمی دن 9 جون کو منایا جاتا ہے اور یہ اُن کوششوں کو اجاگر کرنے کا ایک موقع ہوتا ہے جن کے تحت اقوام کی میراث اور تاریخی واقعات کو دستاویزی شکل میں محفوظ کیا جاتا ہے۔
ساتھ ہی یہ دن آرکائیوز کے قومی اور انسانیت کی مجموعی یادداشت کو محفوظ رکھنے کے بنیادی کردار کے بارے میں آگہی پیدا کرتا ہے۔
کنگ عبدالعزیز فاؤنڈیشن فار ریسرچ اینڈ آرکائیوز جسے دارۃ الملک عبدالعزیز بھی کہتے ہیں، طرح طرح کے خصوصی پروگراموں اور مراکز کے ذریعے سعودی تاریخ کے ذرائع تک رسائی کو آسان بنانے کی کوششوں میں لگی رہتی ہے۔

یہ ادارہ اِن معلومات کو جمع کرنے، محفوظ کرنے، اُن کی بحالی اور اُنھیں ڈیجیٹل شکل دینے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہا ہے تاکہ مملکت کے دستاویزی ورثے کو محفوظ بنانے میں تعاون کر سکے اور اُس کے تاریخی اور فکری مواد کو بہتر سے بہتر اور مستند بنایا جا سکے۔
’دارہ‘ میں موجود تاریخی اور دستاویزی مواد کی تعداد 3.4 ملین سے تجاوز کر چکی ہے۔ سنہ 2025 میں ادارے نے 2 لاکھ 13 ہزار دستاویزات حاصل کر کے اپنے مواد کی تعداد کو مزید وسعت دی جو مستقبل کی نسلوں کے لیے قومی تاریخ کے اہم وسائل کو محفوظ کرنے کی کوششوں کا ایک اظہار ہے۔
بین الاقوامی طور پر ’دارہ‘ نے دنیا کے 23 ممالک کے آرکائیول اور اِس فن سے وابستہ سپیشلائزڈ اداروں کے ساتھ شراکت داریوں اور تعاون کے معاہدوں کے ذریعے اپنی موجودگی کو مزید مضبوط کر لیا ہے۔

تعاون کے اِن معاہدوں کی وجہ سے مہارتوں کے تبادلوں کو پروان چڑھایا جا رہا ہے جبکہ ڈیجیٹائیزیشن کے طریقوں کو جدید خطوط پر اُستوار کیا جا رہا ہے جس سے ممکت کی تاریخ سے متعلق اہم ذرائع تک رسائی بہتر ہوئی ہے۔
دارۃ الملک عبدالعزیز نے عوام پر زور دیا کہ وہ تاریخی دستاویزات، تصاویر، یادداشتوں اور ریکارڈ کو محفوظ بنائیں اور انھیں ڈیجیٹائز کریں۔
ادارے نے اہم مواد رکھنے والے اداروں کے مالکوں سے بھی کہا ہے کہ وہ ممکت کی قومی میراث کو مالا مال کرنے میں متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔
