Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

شام کی نئی پارلیمان کے خواتین ارکان: اداکارہ، انجینئر، کرد رہنما اور ایک جنگجو کی بیوہ

شامی کی پارلیمان میں خواتین ارکان اپنی تعداد سے زیادہ اپنے متنوع پس منظر کی وجہ سے توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
شام میں بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد قائم ہونے والی پہلی پارلیمان میں خواتین ارکان اپنی تعداد سے زیادہ اپنے متنوع پس منظر کی وجہ سے توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ ان میں ایک معروف ٹی وی اداکارہ، ایک مسیحی انجینئر، ایک کرد رہنما، ایک ناول نگار اور ایک سخت گیر اسلام پسند کمانڈر کی بیوہ شامل ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق  207  رکنی موجودہ پارلیمان میں خواتین کی تعداد 22 ہے، جو کل نشستوں کا صرف 10 فیصد سے کچھ زیادہ بنتی ہے۔ یہ تناسب سابق صدر بشار الاسد کے دور کی پارلیمان کے تقریباً برابر ہے۔ بشار الاسد کی حکومت 2024 میں ایک دہائی سے زائد عرصے تک جاری خانہ جنگی کے بعد ختم ہو گئی تھی۔
پارلیمان نے جولائی میں اپنا پہلا اجلاس منعقد کیا، اگرچہ اب بھی بعض نشستیں خالی ہیں۔
22  خواتین میں سے 15 کو صدر احمد الشرع نے عبوری آئینی انتظامات کے تحت نامزد کیا۔ مبصرین کے مطابق یہ اقدام نئی حکومت کی جانب سے خواتین اور اقلیتوں کی نمائندگی بڑھانے کے عزم کا اظہار ہے، کیونکہ جنگ کے بعد کے سیاسی عمل میں ان کی کم نمائندگی پر تنقید کی جا رہی تھی۔

ٹی وی اداکارہ

36  سالہ معروف ٹی وی اداکارہ روزینہ لازقانی، جو شامی ڈراموں میں اپنی اداکاری کے لیے شہرت رکھتی ہیں، اس وقت سیاست میں آئیں جب صدر احمد الشرع نے انہیں عبوری پارلیمان کے لیے نامزد کیے گئے 70 ارکان میں شامل کیا۔
دمشق میں ڈرامٹنک آرٹ کی تعلیم حاصل کرنے والی لازقانی نے بتایا کہ انہوں نے کبھی سیاست میں آنے کا تصور بھی نہیں کیا تھا۔ انہیں اپنی تقرری کا علم سرکاری اعلان سے صرف دو روز پہلے ہوا۔
انہوں نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ ’مجھے لگا کہ شاید میرے کسی ساتھی نے میرے ساتھ مذاق کیا ہے۔‘

36  سالہ معروف ٹی وی اداکارہ روزینہ لازقانی شامی ڈراموں میں اپنی اداکاری کے لیے شہرت رکھتی ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)

وسطی شام کے شہر حماہ سے تعلق رکھنے والی لازقانی کا آبائی شہر 1982 کے اس خونریز واقعے کے باعث بدنام ہے، جب سابق صدر حافظ الاسد نے اخوان المسلمون کی بغاوت کچلنے کے لیے بڑے پیمانے پر کارروائی کی تھی۔
اپنے غیر سیاسی اور فنی پس منظر کی وجہ سے ان کی تقرری بہت سے لوگوں کے لیے حیران کن تھی۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ ’میں یقیناً سیاست کی ماہر نہیں ہوں، اس مرحلے پر مجھے مبارک باد سے زیادہ دعاؤں کی ضرورت ہے۔‘

مسیحی ماہرِ تعلیم

38 سالہ میڈونا بشارہ، جو پارلیمان کی نائب سپیکرز میں شامل ہیں، تقرری سے قبل سول انجینئرنگ کی پروفیسر تھیں۔
انہوں نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں خوشی اور ذمہ داری، دونوں کا احساس ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’اگرچہ خواتین کی تعداد شامی معاشرے میں ان کے اصل مقام کی مکمل عکاسی نہیں کرتی، لیکن یہ ایک اچھا آغاز ضرور ہے۔‘

38 سالہ میڈونا بشارہ، جو پارلیمان کی نائب سپیکرز میں شامل ہیں، تقرری سے قبل سول انجینئرنگ کی پروفیسر تھیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)

ان کے مطابق ’اس ایوان میں ہماری موجودگی صرف علامتی نہیں ہونی چاہیے بلکہ اسے قانون سازی اور مؤثر کردار تک پہنچنا چاہیے۔‘
ایک مذہبی مسیحی خاتون ہونے کے ناطے انہوں نے امید ظاہر کی کہ وہ اور ان کے ساتھی شام میں ایسی قانون سازی کریں گے جو 13 سال سے زائد جنگ کے بعد تمام شہریوں کے لیے امن اور تحفظ کی ضمانت بنے۔

کرد رہنما

56  سالہ فصلہ یوسف کو شمال مشرقی صوبے الحسکہ کے انتخابی ادارے نے پارلیمان کے لیے منتخب کیا۔
وہ کردش نیشنل کونسل کی بھی رکن ہیں، جو کرد جماعتوں کا ایک اتحاد ہے۔ یہ اتحاد بشار الاسد کی حکومت کا مخالف رہا، تاہم شمالی اور شمال مشرقی شام میں قائم کرد انتظامیہ کا حصہ نہیں تھا۔

56  سالہ فصلہ یوسف کو شمال مشرقی صوبے الحسکہ سے منتخب ہوئی ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)

فصلہ یوسف نے، جو اپنے پہلے پارلیمانی اجلاس میں روایتی کرد لباس پہن کر آئیں، کہا کہ ’ہم تمام شامی عوام کی نمائندگی کرتے ہیں، لیکن میں کرد برادری کی نمائندہ بھی ہوں، اس لیے میری ذمہ داری دوگنی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ وہ خواتین کے حقوق کے تحفظ اور انہیں آئین میں واضح طور پر شامل کرانے کے لیے بھی کام کرنا چاہتی ہیں۔

ناول نگار

48  سالہ ناول نگار نور جندلی کو صدر احمد الشرع نے حمص کی نمائندگی کے لیے نامزد کیا، جو ماضی میں حکومت مخالف احتجاج کا ایک اہم مرکز رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ پارلیمنٹ تمام شامی شہریوں کے درمیان مکالمے کا پلیٹ فارم بنے۔
بشار الاسد کی طویل عرصے سے مخالف رہنے والی نور جندلی محاصرے اور جلاوطنی کا سامنا کر چکی ہیں اور 20 سے زائد کتابیں لکھ چکی ہیں۔

48  سالہ ناول نگار نور جندلی کو صدر احمد الشرع نے حمص کی نمائندگی کے لیے نامزد کیا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

انہوں نے کہاکہ ’ہم ایک دوسرے سے نئے انداز میں بات کرنا اور ایک دوسرے کو سمجھنا چاہتے ہیں۔‘
ان کے بقول، اسد کے دور میں ارکانِ پارلیمنٹحکومت کے ہاتھوں میں محض ایک آلہ تھے، جبکہ وہ تبدیلی لانے کے لیے پارلیمنٹ میں آئی ہیں۔

نقاب پہننے والی پہلی خاتون رکنِ پارلیمنٹ

مروت طوطو، جنہیں بھی صدر احمد الشرع نے نامزد کیا، تجارت اور معاشیات میں ڈگری رکھتی ہیں اور ادلب میں 13 برس تک تدریس کے شعبے سے وابستہ رہیں۔
وہ شام کی تاریخ کی پہلی خاتون رکنِ پارلیمان ہیں جو مکمل چہرہ ڈھانپنے والا اسلامی نقاب پہنتی ہیں۔
ان کے شوہر ابو عمر سراقب اسلام پسند اور جہادی گروہوں کے ایک اتحاد کے کمانڈر تھے، جس نے 2015 میں ادلب کا کنٹرول سنبھالا تھا۔ وہ اگلے سال ایک فضائی حملے میں مارے گئے۔

شام کی  207  رکنی موجودہ پارلیمان میں خواتین کی تعداد 22 ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

صدر احمد الشرع، جو ماضی میں خود بھی ایک جہادی گروہ سے وابستہ رہے، اس وقت انہی گروہوں میں سے ایک کی قیادت کرتے تھے۔
اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنے ابتدائی ٹی وی انٹرویوز میں الشرع نے کہا تھا کہ دسمبر 2024 میں دمشق میں داخل ہوتے وقت انہیں ابو عمر سراقب یاد آئے تھے۔
گزشتہ سال انہوں نے صدارتی محل میں ایک تقریب کے دوران مروت طوطو کا استقبال بھی کیا تھا، جہاں ’شہداء‘ کے اہلِ خانہ کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
پارلیمان کی ایک اور خاتون رکن عائشہ الدبس ہیں، جو نئی حکومت کی جانب سے سرکاری عہدہ سنبھالنے والی پہلی خاتون تھیں، اگرچہ اب وہ اس منصب پر فائز نہیں ہیں۔
وہ چند ماہ تک خواتین کے امور کے دفتر کی سربراہ رہیں، تاہم زیادہ شہرت انہیں اس بیان کے باعث ملی جس میں انہوں نے خواتین پر زور دیا تھا کہ وہ اپنی خدا داد فطرت کی حدود سے آگے نہ بڑھیں اور خاندان میں اپنے تعلیمی و تربیتی کردار کو پہچانیں، جس پر ملک بھر میں شدید بحث چھڑ گئی تھی۔

شیئر: