Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’ریاض میرا دوسرا گھر ہے‘: نئے ڈبلیو ڈبلیو چیمپیئن سمیع زین

بہت ہی کم لوگوں کو سنیچر کو ریاض میں منعقد کی گئی ڈبلیو ڈبلیو نائٹ آف چیمپیئنز میں اس بات کی امید تھی کہ کوڈی روڈز جب اپنی انڈسپیوٹڈ ڈبلیو ڈبلیو چیمپیئن شپ کا دفاع گنتھر اور سمیع زین کے خلاف کر رہے ہوں گے تو کوڈی روڈز سے ٹائٹل حاصل کرنے والے گنتھر کے بجائے سمیع زین ہوں گے جو اس ’لڑائی‘ میں حال ہی میں ہی شامل ہوئے۔
عرب نیوز کے مطابق سمیع زین کی جیت کو ریسلنگ کی تاریخ کے عظیم ترین اپ سیٹس میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ انہوں نے سب کو حیران کر دیا اور کنگڈم ایرینا میں زبردست جوش پیدا ہو گیا جب انہوں نے کوڈی روڈز کو پِن کر کے وہ بڑا ٹائٹل جیت لیا جس کا وہ کئی سالوں سے انتظار کر رہے تھے۔ 
تین سال قبل اپنے آبائی علاقے مونٹریال میں پہلی مرتبہ سمیع زین نے کچھ ہی سیکنڈوں کے وقفے سے اپنی پہلی چیمپیئن شپ جیتی تھی جہاں انہوں نے 2023 میں ایلیمینیشن چیمبر میں رومن رینز کے خلاف مقابلے لڑا تھا۔
اس کے علاوہ رواں سال جنوری میں ریاض کے کے اے ایف ڈی ایرینا میں کھیلی گئی رائل رمبل مقابلے میں انہوں نے اس وقت کے چیمپیئن ڈریو مککنٹائر کو چلینج کیا تھا تاہم اس لڑائی میں وہ ناکام رہے۔
اس کے تین مہینے بعد تک شامی نژاد کینیڈی ایتھلیٹ کے لیے مشکلات رہیں تاہم وہ اپنے آپ کو اس بات کی مسلسل یقین دہانی کرواتے رہے اور بالآخر وہ ان ڈسپیوٹڈ ڈبلیو ڈبلیو چیمپیئن بن گئے۔
عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے سمیع زین نے کہا کہ ’میں آج صبح اٹھا، میں نے اپنی آنکھیں ملنا شروع کیں اور میں نے کروٹ بدلی تو دیکھا کہ میرے پاس چیمپیئن شپ پڑی ہے۔ بالکل میرے پاس۔ اور تب مجھے سمجھ آئی کہ سچ میں میں جیت گیا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ ایک بہترین نتیجہ تھا جب آپ یہ سوچیں کہ اس بارے میں کوئی بھی بات نہیں کر رہا تھا۔ یہ کوئی ایسی چیز نہیں تھی جس کے بارے میں شائقین بھی پیش گوئی کر رہے تھے۔ اس میں حیرانی والا عنصر بہت زیادہ تھا۔‘
زین سمجھتے ہیں کہ ٹائٹل جیتنے کے لیے اُن کے طویل انتظار اور پچھلی ناکامیوں نے اس کامیابی میں حیرانی کا عنصر زیادہ ڈالا۔

سمیع زین نے کہا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ میں مداحوں کے لیے کچھ اہم، جذباتی اور بڑا کروں‘ (فوٹو: کیج سائڈ سیٹس)

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ بات جھوٹ ہے کہ اگر میں کہوں کہ مجھے یقین تھا کہ ایسا ہی ہوگا۔ ایسے لمحات بھی آئے جب میں نے سوچا کہ اگر میں نہ جیتا تو پھر کیا ہوگا۔‘
نئے ڈبلیو ڈبلیو ای چیمپیئن کہتے ہیں کہ ’مونٹریال میرا گھر ہے اور ریاض بطور عرب اور مسلم دنیا کے دارالحکومت کی وجہ سے میرا دوسرا گھر ہے۔ سچ بتاؤں تو مونٹریال اور ریاض ایسی دو جگہیں ہیں جہاں جیتنے سے زیادہ کوئی بھی چیز بہترین نہیں ہو سکتی۔‘
اس جیت کے بعد سمیع زین رواں سال ہونے والے ڈبلیو ڈبلیو کراؤن جیول میں حصہ لیں گے اور اس کے بعد پھر ریاض میں تاریخی 43ویں ریسل مینیا ہوگی جو شمالی امریکہ سے باہر پہلا ریسل مینیا ایونٹ ہوگا۔
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’سعودی عرب میں ریسل مینیا کا ہونا ہی ایک شاندار احساس ہے۔ لیکن میں اس چیمپیئن شپ کا بوجھ اگلے سال کے لیے اپنے اوپر نہیں ڈالنا چاہتا۔ میرا ہدف اسے کراؤن جیول تک برقرار رکھنا ہے لیکن میں اسے ابھی انجوائے کرنا چاہتا ہوں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ میں مداحوں کے لیے کچھ اہم، جذباتی اور بڑا کروں اور نائٹ آف چیپمپیئن شپس کا ری ایکشن ایسی چیز ہے جو میں کبھی نہیں بھول سکوں گا۔‘

سمیع زین کی جیت کو ریسلنگ کی تاریخ کے عظیم ترین اپ سیٹس میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے (فوٹو: ڈبلیو ڈبلیو ای آن نیٹ فلکس)

سمیع زین نہ صرف ڈبلیو ڈبلیو ای فینز جبکہ عرب اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے متاثر کن شخصیت بن کر ابھرے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’سچ بتاؤں تو یہ میرے لیے خواب نہیں بلکہ تصور تھا۔ 25 سال قبل میں اس کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کیونکہ میرے جیسے لوگ کاروبار میں کامیاب نہیں ہوتے اور میرے لیے خواب تھا کہ ڈبلیو ڈبلیو رِنگ میں قدم رکھ سکوں، جو میں نے حاصل کر لیا۔‘
سمیع زین کہتے ہیں کہ اگر میں گزرے وقت میں جا کر جوان سمیع زین کو بتاؤں کہ کیا کرنا ہے تو میں شاید نہ بتا سکوں کیونکہ میں نے سب گول حاصل کر لیے ہیں، شاید جوانی میں یہ میرے لیے ناقابل یقین تھا۔‘

 

شیئر: