Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

لوگ ذاتی جھگڑوں کو بھی توہینِ مذہب کا رنگ دے دیتے ہیں: سینیٹ کمیٹی کو بریفنگ

کمیٹی کو بتایا گیا کہ ’پاکستان میں گذشتہ پانچ برسوں کے دوران توہینِ مذہب کے سینکڑوں کیسز رپورٹ ہوئے‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان مین گذشتہ پانچ برسوں کے دوران چاروں صوبوں میں توہینِ مذہب کے سینکڑوں کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
بدھ کو سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ ان میں سے کچھ مقدمات جعلی بھی پائے گئے جبکہ بعض کیسز نامعلوم افراد کے خلاف بھی درج ہوئے ہیں۔
سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کی زیرِصدارت اجلاس میں چاروں صوبوں کے سیکرٹریز داخلہ اور ایڈیشنل آئی جیز نے شرکت کر کے توہینِ مذہب کے مقدمات اور ملزمان کے بارے میں بریفنگ دی۔
حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ توہینِ رسالت اور قرآن کی بے حرمتی جیسے حساس معاملات کی تفتیش ایس پی رینک سے کم کا کوئی افسر نہیں کرتا اور ایسے مقدمات کی تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دے کر انہیں ترجیحی بنیادوں پر دیکھا جاتا ہے۔
اجلاس میں پیش کیے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ پانچ سال کے دوران پنجاب میں توہینِ رسالت کے 116 مقدمات درج ہوئے۔
صوبہ بلوچستان میں ان کیسز کی تعداد 28 جبکہ خیبر پختونخوا میں 90 سے زائد رہی۔ اسی طرح سندھ میں توہینِ رسالت یعنی دفعہ 295C کے 29 اور دفعہ 295B یعنی قرآن کی بے حرمتی کے 96 مقدمات رپورٹ ہوئے۔
’ماب لنچنگ‘ کی روک تھام کے لیے پنجاب پولیس کے اقدامات
کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے پنجاب کے سیکریٹری داخلہ اور ایڈیشنل آئی جی کا کہنا تھا کہ توہینِ مذہب کے مقدمات سے نمٹنے کے لیے ایک مخصوص طریقہ کار وضع کیا گیا ہے، جس کے تحت واقعے کی اطلاع ملتے ہی فوری طور پر ایف آئی آر درج کر لی جاتی ہے۔
صوبائی حکام نے ہجوم کی جانب سے قانون ہاتھ میں لیے جانے کے واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ ماضی میں عام طور پر پولیس ایسے واقعات کے بعد صلح صفائی یا معاملے کو رفع دفع کرنے کی کوشش کرتی تھی۔
’اس کے نتیجے میں کوئی نہ کوئی شہری مشتعل ہجوم کے ہاتھوں قتل ہو جاتا تھا۔ حکام کے مطابق اب یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ایسے واقعات میں صلح صفائی کے بجائے فوری طور پر نامزد یا نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی، جس کے بعد ماب لنچنگ کے واقعات میں کمی دیکھی گئی ہے۔‘
کمیٹی کو بریفنگ میں سندھ کے ایڈیشنل آئی جی نے کمیٹی کو بتایا کہ صوبے میں 2023 سے جُون 2026 تک توہینِ رسالت (دفعہ 295C) کے 29 مقدمات درج ہوئے، جن میں سے 22 کا چالان عدالتوں میں پیش کیا جا چکا ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ’توہینِ مذہب جیسے معاملات کی تفتیش ایس پی رینک کا افسر کرتا ہے‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

ان کا کہنا تھا کہ ان کیسز میں سے دو زیرِ تفتیش ہیں اور تین نامعلوم افراد کے خلاف درج ہیں، جبکہ باقی مقدمات کو ’سی کلاس‘ (تکنیکی یا قانونی طور پر غلط ہونے کی بنا پر) منسوخ کیا جا چکا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ قرآن کی بے حرمتی 295B کے 96 مقدمات میں سے 69 کا چالان پیش ہوا، 6 زیرِ تفتیش ہیں، 4 منسوخ ہوئے جبکہ 17 مقدمات نامعلوم افراد کے خلاف درج ہیں۔
بریفنگ کے دوران مختلف صوبوں کے محکمہ داخلہ کے حکام نے تسلیم کیا کہ بعض کیسز میں الزامات ثابت نہیں ہوتے اور بعد میں شواہد نہ ہونے کی بنیاد پر اُنہیں جُھوٹا قرار دے کر خارج کر دیا جاتا ہے۔
خیبر پختونخوا کے ڈائریکٹر پراسیکیوشن ذیشان آفریدی نے کمیٹی کو ایک واقعے ایسے واقعے کے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ صوبے میں ایک ایسا کیس بھی رپورٹ ہوا جہاں گھریلو جھگڑے کے بعد بچوں نے اپنے ہی والد پر توہینِ مذہب کا الزام لگا دیا۔ 
انہوں نے وضاحت کی کہ اس مخصوص واقعے میں گھر میں لڑائی کے بعد والد نے غصے میں آکر مبینہ طور پر بے حُرمتی کی تھی، جس پر بچے نے تھانے جا کر شکایت درج کروائی۔
سرکاری حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ایسے کیسز بھی سامنے آتے ہیں جہاں لوگ اپنے ذاتی جھگڑوں اور باہمی لڑائی کو توہینِ مذہب کا رنگ دیتے ہیں۔ 

صوبائی حکام کے مطابق ’بعض کیسز میں شواہد نہ ہونے پر اُنہیں جُھوٹا قرار دے کر خارج کر دیا جاتا ہے‘ (فائل فوٹو: پِکس ہیئر)

تاہم حکام نے واضح کیا کہ توہینِ مذہب کے تمام کیسز کو انتہائی حساس اور سنجیدہ سمجھا جاتا ہے، اور ان کی تفتیش کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی طرح ایک مخصوص ٹیم بنائی جاتی ہے جس کی نگرانی ایس پی لیول کے افسر کرتے ہیں۔
سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ انٹرنیٹ پر توہین آمیز مواد کی نگرانی کے لیے ایک خصوصی سینٹر قائم کیا گیا ہے، جس نے صرف محرم کے دوران پی ٹی اے کو قریباً تین ہزار شکایات ریفر کی ہیں۔
اجلاس میں پنجاب کے سیکریٹری داخلہ نے کمیٹی کو مطلع کیا کہ صوبائی حکومتِ نے توہینِ مذہب کے کیسز کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی ہے، جس کے اب تک دو اجلاس ہو چکے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ایسے مقدمات میں پراسیکیوشن (استغاثہ) کو مضبوط بنانے اور قانونی کارروائی کو مزید مؤثر کرنے کے لیے مختلف اداروں کے درمیان باہمی تعاون کا ایک نیا نظام بھی وضع کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے ترمیمی طریقہ کار پر تفصیلی بریفنگ طلب
اجلاس کے دوران چیئرپرسن سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے توہینِ مذہب کے مقدمات میں ایف آئی آر کے اندراج کے نظرِ ثانی شدہ طریقہ کار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس پر آئندہ اجلاس میں تفصیلی بریفنگ طلب کر لی ہے۔
انہوں نے حکام کو ہدایت کی کہ کمیٹی کو اس طریقہ کار کے ہر مرحلے سے آگاہ کیا جائے تاکہ قانون کے غلط استعمال کو روک کر شفاف تفتیش اور بے گناہ افراد کا تحفظ ہر قیمت پر یقینی بنایا جا سکے۔

شیئر: