لوگ ذاتی جھگڑوں کو بھی توہینِ مذہب کا رنگ دے دیتے ہیں: سینیٹ کمیٹی کو بریفنگ
بدھ 8 جولائی 2026 19:38
صالح سفیر عباسی، اسلام آباد
پاکستان مین گذشتہ پانچ برسوں کے دوران چاروں صوبوں میں توہینِ مذہب کے سینکڑوں کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
بدھ کو سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ ان میں سے کچھ مقدمات جعلی بھی پائے گئے جبکہ بعض کیسز نامعلوم افراد کے خلاف بھی درج ہوئے ہیں۔
سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کی زیرِصدارت اجلاس میں چاروں صوبوں کے سیکرٹریز داخلہ اور ایڈیشنل آئی جیز نے شرکت کر کے توہینِ مذہب کے مقدمات اور ملزمان کے بارے میں بریفنگ دی۔
حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ توہینِ رسالت اور قرآن کی بے حرمتی جیسے حساس معاملات کی تفتیش ایس پی رینک سے کم کا کوئی افسر نہیں کرتا اور ایسے مقدمات کی تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دے کر انہیں ترجیحی بنیادوں پر دیکھا جاتا ہے۔
اجلاس میں پیش کیے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ پانچ سال کے دوران پنجاب میں توہینِ رسالت کے 116 مقدمات درج ہوئے۔
صوبہ بلوچستان میں ان کیسز کی تعداد 28 جبکہ خیبر پختونخوا میں 90 سے زائد رہی۔ اسی طرح سندھ میں توہینِ رسالت یعنی دفعہ (295-C کے 29 اور دفعہ (295-B) یعنی قرآن کی بے حرمتی کے 96 مقدمات رپورٹ ہوئے۔
’ماب لنچنگ‘ کی روک تھام کے لیے پنجاب پولیس کے اقدامات
کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے پنجاب کے سیکریٹری داخلہ اور ایڈیشنل آئی جی کا کہنا تھا کہ توہینِ مذہب کے مقدمات سے نمٹنے کے لیے ایک مخصوص طریقہ کار وضع کیا گیا ہے، جس کے تحت واقعے کی اطلاع ملتے ہی فوری طور پر ایف آئی آر درج کر لی جاتی ہے۔
صوبائی حکام نے ہجوم کی جانب سے قانون ہاتھ میں لیے جانے کے واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ ماضی میں عام طور پر پولیس ایسے واقعات کے بعد صلح صفائی یا معاملے کو رفع دفع کرنے کی کوشش کرتی تھی۔
’اس کے نتیجے میں کوئی نہ کوئی شہری مشتعل ہجوم کے ہاتھوں قتل ہو جاتا تھا۔ حکام کے مطابق اب یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ایسے واقعات میں صلح صفائی کے بجائے فوری طور پر نامزد یا نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی، جس کے بعد ماب لنچنگ کے واقعات میں کمی دیکھی گئی ہے۔‘
کمیٹی کو بریفنگ میں سندھ کے ایڈیشنل آئی جی نے کمیٹی کو بتایا کہ صوبے میں 2023 سے جُون 2026 تک توہینِ رسالت (دفعہ 295-C) کے 29 مقدمات درج ہوئے، جن میں سے 22 کا چالان عدالتوں میں پیش کیا جا چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کیسز میں سے دو زیرِ تفتیش ہیں اور تین نامعلوم افراد کے خلاف درج ہیں، جبکہ باقی مقدمات کو ’سی کلاس‘ (تکنیکی یا قانونی طور پر غلط ہونے کی بنا پر) منسوخ کیا جا چکا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ قرآن کی بے حرمتی (295-B) کے 96 مقدمات میں سے 69 کا چالان پیش ہوا، 6 زیرِ تفتیش ہیں، 4 منسوخ ہوئے جبکہ 17 مقدمات نامعلوم افراد کے خلاف درج ہیں۔
بریفنگ کے دوران مختلف صوبوں کے محکمہ داخلہ کے حکام نے تسلیم کیا کہ بعض کیسز میں الزامات ثابت نہیں ہوتے اور بعد میں شواہد نہ ہونے کی بنیاد پر اُنہیں جُھوٹا قرار دے کر خارج کر دیا جاتا ہے۔
خیبر پختونخوا کے ڈائریکٹر پراسیکیوشن ذیشان آفریدی نے کمیٹی کو ایک واقعے ایسے واقعے کے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ صوبے میں ایک ایسا کیس بھی رپورٹ ہوا جہاں گھریلو جھگڑے کے بعد بچوں نے اپنے ہی والد پر توہینِ مذہب کا الزام لگا دیا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اس مخصوص واقعے میں گھر میں لڑائی کے بعد والد نے غصے میں آکر مبینہ طور پر بے حُرمتی کی تھی، جس پر بچے نے تھانے جا کر شکایت درج کروائی۔
سرکاری حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ایسے کیسز بھی سامنے آتے ہیں جہاں لوگ اپنے ذاتی جھگڑوں اور باہمی لڑائی کو توہینِ مذہب کا رنگ دیتے ہیں۔
تاہم حکام نے واضح کیا کہ توہینِ مذہب کے تمام کیسز کو انتہائی حساس اور سنجیدہ سمجھا جاتا ہے، اور ان کی تفتیش کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی طرح ایک مخصوص ٹیم بنائی جاتی ہے جس کی نگرانی ایس پی لیول کے افسر کرتے ہیں۔