Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

خاتون ملازمہ کو ہراساں کرنے کا الزام ثابت، نجی کمپنی کے عہدیداروں پر 27 لاکھ روپے جرمانہ

پاکستان کے وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسانی نے ایک خاتون ملازمہ ہراساں کرنے سمیت مختلف الزامات کے تحت ایک نجی کمپنی کے پانچ عہدیداروں پر مجموعی طور پر 27 لاکھ روپے کا جرمانہ کی سزا سنائی ہے۔
وفاقی محتسب نے اسی کیس میں خاتون ملازمہ کو دفتر سے باہر ملاقات کی دعوت دینے، اُس کا ہاتھ چُھونے اور ہراساں کرنے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ نہ کرنے جیسے اقدامات کو غیر قانونی قرار دیا۔
بدھ کو وفاقی محتسب نے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا کہ کام کی جگہ پر ہراسانی اور اس کے بعد ملازمین کے خلاف انتقامی رویہ اختیار کرنا قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے جس کے سخت نتائج سامنے آئیں گے۔
خاتون ملازمہ کے الزامات کیا تھے؟
اردو نیوز کو دستیاب مقدمے کی تفصیلات کے مطابق شکایت گزار خاتون کو ہراساں کرنے اور کام کی جگہ پر تضحیک آمیز رویے کا یہ واقعہ مئی اور جون 2025 کے دوران پیش آیا تھا، جہاں نجی کمپنی کی مینجمنٹ کے اعلیٰ عہدے داروں کی جانب سے خاتون ملازمہ کو ہراساں اور ذہنی دباؤ کا شکار کیا گیا۔ 
کمپنی کے اندر انصاف کی عدم فراہمی اور جبری استعفے کے بعد، متاثرہ خاتون نے قانونی راستہ اختیار کیا اور یہ معاملہ 19 ستمبر 2025 کو وفاقی محتسب کے پاس باقاعدہ سماعت کے لیے دائر ہوا۔
خاتون ملازمہ نے 18 جولائی 2024 کو بطور پروڈکٹ ڈویلپمنٹ ایگزیکٹیو کمپنی جوائن کی تھی اور بہترین کارکردگی پر انہیں 25 فیصد تنخواہ میں اضافے کے ساتھ اسسٹنٹ پروڈکٹ ڈویلپمنٹ مینیجر کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی۔ تاہم، ملازمت کے دوران انہیں مینجمنٹ کے اعلیٰ عہدے داروں کی جانب سے ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔
متاثرہ خاتون نے محتسب میں دائر مقدمہ میں الزام عائد کیا تھا کہ کمپنی میں مختلف عہدوں پر فائز افراد نے ان کے ساتھ نامناسب اور غیر پیشہ ورانہ رویہ اختیار کیا۔
متاثرہ خاتون نے وفاقی محتسب میں موقف اپنایا کہ ’ایک ملزم نے میٹنگ کے دوران ذاتی جملے کسے، مجھے دفتر سے باہر ملاقات کی دعوت دی اور پروڈکٹ سیمپل دکھاتے وقت میرا ہاتھ بھی پکڑا۔‘
’دوسرے ملزم نے میرے نجی پیغامات کی تصاویر لیں اور ٹیم کے سامنے میری توہین کی۔ایک اور عہدیدار نے اس معاملے کو آگے بڑھانے سے روکا اور مجھے ہراساں کرنے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ نہیں کی جو وہ خود دیکھ چکا تھا۔‘
 وفاقی محتسب کے فیصلے کے مطابق دیگر دو عہدے داروں پر خاتون کے خلاف انتقامی کارروائی کرنے، انسدادِ ہراسانی کمیٹی قائم نہ کرنے اور قانونی نوٹس بھیجنے پر فون پر دھمکیاں دینے کا الزام ثابت ہوا۔
خاتون کا کہنا تھا کہ ’اس مسلسل دباؤ اور دشمنی کے ماحول کے باعث میں ملازمت چھوڑنے پر مجبور ہو گئی، جس کے بعد کمپنی نے انتقامی کارروائی کے طور پر میرے کاغذات اور واجبات بھی روک لیے۔‘
’ملزمان کا دفاع اور محتسب کے ریمارکس‘
وفاقی محتسب کی جانب سے جاری فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ مقدمے کی سماعت کے دوران ملزمان نے تمام الزامات کو جُھوٹا قرار دیا اور اپنا دفاع شکایت گزار خاتون کی شخصیت، ان کے لباس اور نجی زندگی پر مرکوز کرنے کی کوشش کی۔
تاہم وفاقی محتسب نے دستیاب شواہد، گواہوں کے بیانات اور ملزمان کے اپنے بیانات میں تضادات کی بنیاد پر یہ نتیجہ نکالا کہ ہراسانی اور انتقامی کارروائی کا جُرم ثابت ہوتا ہے۔
اپنے فیصلے میں وفاقی محتسب نے اہم قانونی نکتہ واضح کرتے ہوئے لکھا کہ کسی خاتون ملازمہ کی شخصیت، لباس یا سماجی رویہ ہراسانی کے مقدمے کا حصہ نہیں ہو سکتے۔ کام کی جگہ پر کسی خاتون کی خوش اخلاقی کو رضامندی ہرگز نہیں سمجھا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ملازمت جاری رکھنے کی مجبوری یا خوف کے باعث شکایت درج کرانے میں تاخیر سے مقدمہ کمزور نہیں ہوتا۔
جُرمانوں اور سزا کی تفصیل کیا ہے؟
وفاقی محتسب نے اس مقدمے میں مجموعی طور پر ملزمان کو 27 لاکھ روپے جُرمانے کی سزا سنائی ہے۔ اس رقم میں سے 21 لاکھ 60 ہزار روپے متاثرہ خاتون کو بطور معاوضہ ادا کیے جائیں گے جبکہ باقی 5 لاکھ 40 ہزار روپے سرکاری خزانے میں جمع ہوں گے۔
نجی کمپنی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 15 دن کے اندر خاتون کو اُن کا تجربہ نامہ، کلیئرنس اور تمام بقایا واجبات ادا کرے۔
کمپنی کو یہ حکم بھی دیا گیا ہے کہ وہ 30 روز کے اندر ادارے میں ’انسدادِ ہراسانی کمیٹی‘ کو قانون کے مطابق نئے سرے سے تشکیل دے۔
وفاقی محتسب کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ اس قانونی اصول کو مزید مضبوط کرتا ہے کہ پاکستان میں خواتین کو کام کی جگہ پر محفوظ، باعزت اور غیر جانبدار ماحول فراہم کرنا آجر کی ذمہ داری ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی غفلت قانون کے تحت قابلِ سزا ہے۔
پاکستان کے وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسانی نے خاتون ملازمہ کو دفتر سے باہر ملاقات کی دعوت دینے، اُس کا ہاتھ چُھونے اور ہراساں کرنے کا سی سی ٹی وی ریکارڈ محفوظ نہ کرنے جیسے اقدامات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ایک نجی کمپنی کے پانچ عہدیداروں پر مجموعی طور پر 27 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔
پاکستان کے وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسانی نے ایک خاتون ملازمہ ہراساں کرنے سمیت مختلف الزامات کے تحت ایک نجی کمپنی کے پانچ عہدیداروں پر مجموعی طور پر 27 لاکھ روپے کا جرمانہ کی سزا سنائی ہے۔
وفاقی محتسب نے اسی کیس میں خاتون ملازمہ کو دفتر سے باہر ملاقات کی دعوت دینے، اُس کا ہاتھ چُھونے اور ہراساں کرنے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ نہ کرنے جیسے اقدامات کو غیر قانونی قرار دیا۔
دیتے ہوئے ایک نجی کمپنی کے پانچ عہدیداروں پر مجموعی طور پر 27 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔

شیئر: