کراچی کے قریب ایک نجی کمپنی کے لاپتہ ہونے والے بوئنگ کارگو جہاز کی تلاش جاری ہے۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے حوالے سے بتایا ہے کہ ریڈار پر طیارہ اچانک تیزی سے نیچے آتا ہوا دکھائی دیا، جس کے بعد کراچی سے تقریباً 155 ناٹیکل میل مغرب میں اس سے تمام مواصلاتی رابطے منقطع ہو گئے۔
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ نجی فضائی کمپنی ’کے ٹو ایئرویز‘ کا کارگو طیارہ متحدہ عرب امارات کے شہر شارجہ سے کراچی آ رہا تھا اور طیارے میں عملے کے پانچ افراد سوار تھے۔
مزید پڑھیں
بیان کے مطابق منگل کی شام طیارے نے پرواز کے دوران نیویگیشن سسٹم میں خرابی کی اطلاع دی اور اس کچھ ہی دیر بعد اس سے رابطہ ختم ہو گیا۔
فلائٹ جنرل ڈیکلریشن کے مطابق طیارے میں کیپٹن، فرسٹ آفیسر، فلائٹ انجینیئر اور لوڈ ماسٹر سمیت عملے کے پانچ ارکان سوار تھے۔
فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 نے اپنی ویب سائٹ پر اس واقعے سے متعلق ابتدائی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ’خود کار ٹریکنگ ڈیٹا (ADS-B) کے مطابق طیارے نے پہلے بلندی کھوئی اور پھر کچھ دیر کے لیے دوبارہ بلندی حاصل کی۔‘
’تاہم اس کے فوراً بعد وہ اچانک انتہائی تیزی سے نیچے آنے لگا۔ موصول ہونے والا آخری ڈیٹا یونیورسل ٹائم چار بج کر 21 منٹ (پاکستانی وقت کے مطابق منگل کی رات 9 بج کر 21 منٹ) پر ریکارڈ ہوا۔‘












