Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کراچی کے قریب لاپتہ کارگو طیارے کی تلاش،’تیزی سے نیچے آیا اور اچانک اپنا رخ تبدیل کیا‘

ایئر فلیٹس نیٹ ویب سائٹ کے مطابق لاپتہ ہونے والا بوئنگ طیارہ 1999 میں تیار ہوا تھا: فوٹو k2 ویب سائٹ
کراچی کے قریب ایک نجی کمپنی کے لاپتہ ہونے والے بوئنگ کارگو جہاز کی تلاش جاری ہے۔ 
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے حوالے سے بتایا ہے کہ ریڈار پر طیارہ اچانک تیزی سے نیچے آتا ہوا دکھائی دیا، جس کے بعد کراچی سے  تقریباً 155 ناٹیکل میل مغرب میں اس سے تمام مواصلاتی رابطے منقطع ہو گئے۔
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ نجی فضائی کمپنی ’کے ٹو ایئرویز‘ کا کارگو طیارہ متحدہ عرب امارات کے شہر شارجہ سے کراچی آ رہا تھا اور طیارے میں عملے کے پانچ افراد سوار تھے۔
بیان کے مطابق منگل کی شام طیارے نے پرواز کے دوران نیویگیشن سسٹم میں خرابی کی اطلاع دی اور اس کچھ ہی دیر بعد اس سے رابطہ ختم ہو گیا۔
فلائٹ جنرل ڈیکلریشن کے مطابق طیارے میں کیپٹن، فرسٹ آفیسر، فلائٹ انجینیئر اور لوڈ ماسٹر سمیت عملے کے پانچ ارکان سوار تھے۔
فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 نے اپنی ویب سائٹ پر اس واقعے سے متعلق ابتدائی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ’خود کار ٹریکنگ ڈیٹا (ADS-B) کے مطابق طیارے نے پہلے بلندی کھوئی اور پھر کچھ دیر کے لیے دوبارہ بلندی حاصل کی۔‘
’تاہم اس کے فوراً بعد وہ اچانک انتہائی تیزی سے نیچے آنے لگا۔ موصول ہونے والا آخری ڈیٹا یونیورسل ٹائم چار بج کر 21 منٹ (پاکستانی وقت کے مطابق منگل کی رات 9 بج کر 21 منٹ) پر ریکارڈ ہوا۔‘


ریڈار پر طیارہ اچانک تیزی سے نیچے آتا ہوا دکھائی دیا تھا: تصویر کے 2 ویب سائٹ

فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق ’اس وقت طیارہ سطح سمندر سے قریباً 1100 فٹ کی بلندی پر تھا جبکہ اس کی عمودی رفتار 22 ہزار 400 فٹ فی منٹ کی غیر معمولی رفتار سے نیچے کی جانب تھی۔
ایئر فلیٹس نیٹ ویب سائٹ کے مطابق لاپتہ ہونے والا بوئنگ طیارہ 1999 میں تیار ہوا تھا۔ ابتدا میں یہ روس کی ایئرلائن ایروفلوٹ اور انڈونیشیا کی گاروڈا انڈونیشیا کے لیے مسافر طیارے کے طور پر استعمال ہوتا رہا اور اس کے بعد 2012 میں اسے کارگو طیارے میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔
طیارے کی تلاش کی سرگرمیوں میں پاکستانی فضائیہ اور پاکستانی بحریہ بھی حصہ لے رہی ہیں۔
پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن نے بھی اپنا تجارتی جہاز ’لاہور‘ تلاش اور امدادی کارروائیوں میں معاونت کے لیے روانہ کر دیا ہے۔

شیئر: