کیا پنجاب میں دُکان دار اب شاپنگ بیگز کے اضافی پیسے وصول نہیں کر سکیں گے؟
کیا پنجاب میں دُکان دار اب شاپنگ بیگز کے اضافی پیسے وصول نہیں کر سکیں گے؟
بدھ 8 جولائی 2026 10:33
رائے شاہنواز -اردو نیوز، لاہور
پنجاب کے کسی بھی بڑے شاپنگ مال، برینڈڈ سٹور یا مشہور ریسٹورنٹ میں چلے جائیں، ایک منظر اب عام ہے۔
ہزاروں روپے کی خریداری کے بعد جب آپ کاؤنٹر پر پہنچتے ہیں، تو کیشیئر نہایت اِنکساری سے پوچھتا ہے ’سر! شاپنگ بیگ لیں گے، اِس کے 40 روپے الگ سے ہوں گے؟‘
مجبوری میں گاہک ہامی بھر لیتا ہے، لیکن جب وہ شاپر ہاتھ میں تھامتا ہے تو اس پر اسی سٹور کے برینڈ کا بڑا سا لوگو چمک رہا ہوتا ہے۔
یعنی اس شاپنگ بیگ کی قیمت تو صارف نے ادا کی لیکن ’مشہوری‘ اس کمپنی کی ہو رہی ہے جس سے اس سے سامان کے ساتھ وہ شاپر خریدا ہے۔
یہ وہ تضاد تھا جس نے ایک طویل عرصے سے صارفین کو ذہنی کوفت میں مبتلا کیے رکھا۔ تاہم اب محکمہ تحفظ ماحول پنجاب نے اس روِش کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ایک تاریخی حکم نامہ جاری کیا ہے جس کے بعد اب دکان داروں کے لیے پلاسٹک بیگز کی مد میں اضافی پیسے بٹورنا ممکن نہیں رہے گا۔
اس حوالے سے ڈائریکٹر جنرل ادارہ برائے تحفظِ ماحول پنجاب، ڈاکٹر عمران حامد شیخ کی جانب سے باقاعدہ آرڈر جاری کیا گیا ہے، جس کا اطلاق 6 ستمبر 2026 سے ہوگا۔
پنجاب انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایکٹ 1997 اور سنگل یوز پلاسٹک ریگولیشنز 2023 کے تحت جاری اس حکم نامے کے مطابق صوبے بھر میں کوئی بھی دُکان، ریٹیل سینٹر، شاپنگ مال، ہوٹل یا ریسٹورنٹ اپنی مصنوعات کی فروخت کے وقت پلاسٹک شاپنگ بیگز کی کوئی قیمت یا فیس وصول نہیں کر سکے گا۔
البتہ اگر وہ پلاسٹک کے علاوہ کسی ایسے ماحول دوست مواد سے بنے بیگز فراہم کرتے ہیں جو دوبارہ استعمال یا ری سائیکل ہو سکتے ہوں، تو صرف اُن کی قیمت وصول کرنے کی اجازت ہوگی۔ سوشل میڈیا مہم اور صارفین کا دیرینہ گِلہ: تشہیر برینڈ کی، خرچہ گاہک کا؟
ماہرین کے نزدیک محکمہ تحفظ ماحول کا یہ فیصلہ ابھی پہلی سیڑھی ہے اور اس عوامی آواز کے بعد سامنے آیا ہے جو برسوں سے سوشل میڈیا پر اٹھائی جا رہی تھی۔
اگر آپ فیس بُک، ایکس یا انسٹاگرام کے مقامی صفحات پر نظر دوڑائیں، تو صارفین اکثر اس ناانصافی کے خلاف مہم چلاتے دکھائی دیتے تھے۔
انٹرنیٹ پر بحث کا موضوع ہمیشہ یہ نکتہ رہا ہے کہ جب ایک صارف 30 سے 50 روپے کا شاپر خریدتا ہے، تو اس پر اس مخصوص کمپنی یا برینڈ کا نام اور اشتہار کیوں پرنٹ ہوتا ہے؟
ایک صارف 30 سے 50 روپے کا شاپر خریدتا ہے تو اس پر برینڈ کا نام اور اشتہار کیوں پرنٹ ہوتا ہے؟ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
یعنی اگر برینڈ اپنے نام کی تشہیر کے لیے گاہک کو ایک متحرک اشتہاری بورڈ کے طور پر استعمال کر رہا ہے، تو اس تشہیر کی قیمت گاہک کو کیوں ادا کرنی چاہیے؟
اصولی طور پر تو ایسی صورت میں شاپر بالکل مفت ہونا چاہیے، یا پھر پیسے لینے کی صورت میں وہ بالکل سادہ ہونا چاہیے۔
ادارہ برائے تحفظِ ماحول نے اپنے آرڈر میں بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ریٹیلرز کی جانب سے پلاسٹک بیگز کی منہ مانگی قیمتیں وصول کرنے سے پلاسٹک کی پیداوار میں اضافہ ہو رہا تھا۔
ادارے کے مطابق ’یہ عمل ماحول دوست متبادل کی حوصلہ شکنی کا باعث بھی بن رہا تھا۔‘حکومت کے اس نئے اقدام نے کارپوریٹ سیکٹر کی اس پالیسی کو بڑا دھچکہ پہنچایا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر رائج طریقے: دنیا کیا کر رہی ہے؟
اگر ہم عالمی منظرنامے پر نظر ڈالیں، تو دنیا بھر میں پلاسٹک کے استعمال کو کم کرنے اور شاپنگ بیگز کی قیمتوں کے حوالے سے مختلف اور مربوط قوانین رائج ہیں۔
ترقی یافتہ ممالک میں ’آلودگی پھیلانے والا ادائیگی کرے‘ کا اُصول تو موجود ہے، لیکن وہاں کا طریقہ کار پاکستان کے حالیہ منظرنامے سے یکسر مختلف ہے۔
یورپی یونین، برطانیہ اور کینیڈا جیسے ممالک میں پلاسٹک بیگز پر ٹیکس یا لیوی عائد ہے، جس کا مقصد گاہک کو اپنا کپڑے کا تھیلا ساتھ لانے پر راغب کرنا ہے۔
تاہم وہاں سب سے بڑا فرق یہ ہے کہ برینڈز ان بیگز سے منافع نہیں کما سکتے، بلکہ وہ رقم حکومتی ماحولیاتی فنڈز میں جمع ہوتی ہے۔
6 ستمبر سے پنجاب میں دکان داروں کے لیے پلاسٹک بیگز کی مد میں اضافی پیسے بٹورنا ممکن نہیں رہے گا (فائل فوٹو: روئٹرز)
اس کے ساتھ ہی دنیا بھر میں یہ رُجحان تیزی سے مقبول ہو رہا ہے کہ اگر کوئی سٹور کاغذ یا کپڑے کا بیگ فراہم کرتا ہے اور اس کی قیمت وصول کرتا ہے، تو وہ برینڈنگ سے پاک ہوتا ہے یا پھر وہ ایسے مواد سے بنا ہوتا ہے جو مٹی میں خود بخود حل ہو جائے۔
کئی ممالک میں برینڈڈ شاپرز پر پابندی ہے تاکہ کمپنیاں گاہکوں کے پیسوں پر اپنی مفت تشہیر نہ چمکائیں۔ پنجاب حکومت کا یہ تازہ قانون بھی اب پاکستان کو اسی عالمی صف میں کھڑا کرنے کی ایک کڑی ہے جہاں پلاسٹک کے تجارتی پھیلاؤ کو روکا جا رہا ہے۔
تاہم پاکستان میں جو برینڈڈ کپڑے یا دیگر ماحول دوست میٹیریئل سے شاپنگ بیگ بناتے ہیں اور اس پر اپنی برینڈنگ بھی کرتے ہیں وہ اس حکم نامے سے مستثنیٰ ہوں گے۔
ترجمان ای پی اے کے مطابق ’یہ حکم نامہ خالصتاً پلاسٹک کو کنٹرول کرنے کے ہمارے اختیارات کے تحت دیا گیا ہے۔‘
ان کے مطابق ’کپڑے کے تھیلوں پر برینڈنگ اور پیسے وصول کرنا ہمارے دائرۂ اختیار میں نہیں اور صارفین کو اس کے لیے متعلقہ اداروں سے رجوع کرنا ہو گا۔‘ پلاسٹک سے پاک پنجاب مہم کا ہدف اور اب تک کے اقدامات
یہ نیا حکم نامہ حکومتِ پنجاب کی وسیع تر ’پلاسٹک مینجمنٹ سٹریٹجی‘ اور ’پلاسٹک سے پاک پنجاب‘ مہم کا ایک اہم حصہ ہے۔
اب پنجاب میں ریٹیلرز کی سطح پر پلاسٹک بیگز فروخت کرنے پر 50 ہزار روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
اس مہم کا بنیادی ہدف صوبے میں ایک بار استعمال ہونے والے پلاسٹک کے فضلے کو بتدریج ختم کرنا ہے، جو نکاسیٔ آب کے نظام کو بلاک کرنے، زیرِ زمین پانی کو آلودہ کرنے اور شہری و دیہی علاقوں میں ماحولیاتی تباہی پھیلانے کا سب سے بڑا سبب ہے۔
ترجمان ای پی اے کے مطابق ’حکومت کا ہدف ایک ایسا پائیدار نظام بنانا ہے جہاں تیار کنندگان اور صارفین دونوں اپنی ماحولیاتی ذمہ داریوں کو سمجھیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے حالیہ مہینوں کے دوران کئی اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔
’پنجاب انوائرنمنٹل پروٹیکشن (پروڈکشن اینڈ کنزمپشن آف سنگل یوز پلاسٹک پروڈکٹس) ریگولیشنز 2023 کے تحت پلاسٹک بنانے والی فیکٹریوں کی سطح پر مانیٹرنگ سخت کر دی گئی ہے۔‘
ترجمان ای پی اے کا مزید کہنا ہے کہ ’اس کے علاوہ مخصوص مائیکرون سے کم موٹائی والے غیر معیاری شاپرز کی تیاری اور فروخت پر چھاپے بھی مارے جا رہے ہیں۔‘
’اب ریٹیلرز کی سطح پر پلاسٹک بیگز کی فروخت پر یہ نئی پابندی عائد کر کے حکومت نے براہِ راست صارفین کی سطح پر پلاسٹک کی طلب کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔‘
جو بھی تجارتی ادارہ 6 ستمبر کے بعد اس قانون کی خلاف ورزی کرے گا، اسے بھاری جُرمانوں اور قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا اور انہیں 5 سے 50 ہزار روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
اب گیند برینڈز اور شاپنگ مالز کی کورٹ میں ہے کہ وہ کس طرح ماحول دوست متبادل طریقہ کار اپنا کر قانون پر عمل درآمد یقینی بناتے ہیں۔