Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مُکمل سورج گرہن بدھ کو، سعودی عرب میں نظر نہیں آئے گا

جُزوی گرہن مراکش، الجزائر، تیونس، موریطانیہ اور لیبا میں دیکھا جا سکے گا( فوٹو: اے پی)
اس سال بدھ 12 اگست کو ہونے والا مُکمل سورج گرہن سعودی عرب میں نظر نہیں آئے گا۔
جدہ فلکیاتی سوسائٹی کے سربراہ ماجد ابو زہرہ نے کہا کہ ’مکمل سورج گرہن روس، گرین لینڈ، آئس لینڈ، شمالی سپین اور پرتگال کے کچھ حصوں میں نظر آئے گا جس کا زیادہ سے زیادہ دورانیہ دو منٹ اور 18 سیکنڈ ہوگا۔‘
عالمی سطح پر گرہن کا آغاز 15 بجکر 34 منٹ (جی ایم ٹی) پر ہو گا۔ مکمل گرہن 16 بجکر 58 منٹ شروع  ہو کر 17 بجکر 46 منٹ کو اپنے عروج  پر پہنچے گا۔
جبکہ جُزوی سورج گرہن عالمی سطح پر 19 بجکر 57 منٹ( جی ایم ٹی) پر اختتام پذیر ہوگا۔
ابو زہرہ نے کہا ’مکمل سورج گرہن سعودی عرب یا کسی عرب ملک میں مکمل طور پر نظر نہیں آئے گا تاہم جُزوی گرہن مراکش، الجزائر، تیونس، موریطانیہ اور لیبا کے بعض حصوں کے علاوہ شمالی اور مغربی افریقہ کے دیگر علاقوں میں دیکھا جا سکے گا۔‘
گرہن کیا ہے؟
گرہن اس وقت ہوتا ہے جب چاند سورج اور زمین کے درمیان سے گزرتا ہے اور زمین پر ایک تنگ سایہ ڈال دیتا ہے۔

اس دوران ایک عجیب سا شفق پیدا ہوتا ہے، درجہ حرارت کم ہو جاتا ہے، سائے غیر معمولی زاویوں پر پڑتے ہیں اور کچھ جانور سو جاتے ہیں۔
قدیم تہذیبیں ان مظاہر کو قیامت کی نشانی یا خداؤں کا پیغام سمجھتی تھیں۔
ناسا کے مطابق یہ دراصل ایک ’کائناتی اتفاق ہے۔ اگرچہ سورج چاند سے تقریباً 400 گنا بڑا ہے، لیکن وہ اتنا ہی دور بھی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ صحیح جگہ پر کھڑے لوگوں کے لیے چاند سورج کو مکمل طور پر ڈھانپ لیتا ہے اور سورج کا بیرونی ماحول، جسے کورونا کہتے ہیں، ظاہر ہو جاتا ہے۔

 

شیئر: