سعودی عرب میں صدی کا طویل ترین مکمل سورج گرہن کب دیکھا جا سکے گا؟
جمعرات 16 جولائی 2026 19:57
مملکت کے جنوبی حصے چھ منٹ کے لیے تاریکی میں ڈوب جائیں گے ( فوٹو: ایس پی اے)
آئندہ سال اگست کی دو تاریخ کو اکیسویں صدی کا طویل ترین سورج گرہن ہوگا جسے مملکت کے اکثر حصوں میں دیکھا جا سکے گا۔
گزشتہ پچھتر برس میں سعودی عرب میں پہلی بار ایسا ہوگا کہ ایک وضع فلکی، جو مملکت میں کبھی کبھی دکھائی دیتی ہے، لوگوں کے سامنے ہوگی اور دن کی روشنی، تاریکی میں بدل جائے گی۔
سعودی سپیس ایجنسی کے مطابق دو اگست 2027 کے سورج گرہن کو مملکت کے مغربی اور جنوبی حصوں میں دیکھا جا سکے گا۔ اس فلکی منظر کے مشاہدے کے لیے سعودی عرب دنیا بھر میں بہترین اور سٹریٹیجک مقام ثابت ہوگا تاہم اِس کسُوف کا دورانیہ مملکت کے ہمسایہ ملک مصر میں زیادہ طویل ہوگا۔
مملکت کے جنوبی حصے جن میں ابھا بھی شامل ہے، چھ منٹ کے لیے تاریکی میں ڈوب جائیں گے۔ جدہ اور مغربی ساحلی علاقوں میں، قُرصِ خورشید کے سیاہ ہونے کا دورانیہ پانچ منٹ اور پچاس سیکنڈ ہوگا۔
اِس وضع فلکی سے محققین اور آسمانی اجرام کا مشاہدہ کرنے کے شوقین افراد کو آفتاب کی بیرونی سطح یا شمسی کورونا کو سٹڈی کرنے کا نایاب موقع ملے گا۔
اگرچہ مغربی حصوں میں مکمل سورج گرہن ہوگا مملکت کے وسطی، مشرقی اور شمالی علاقوں میں سورج جزوی طور پر گہنائے گا۔ اس دوران تاریکی مکمل نہیں ہوگی لیکن سورج کی روشنی اسی فیصد کے قریب تاریکی کے پردے میں چھپی رہے گی۔

اِن اوضاعِ فلکی کے ٹھیک ٹھیک اوقات اور زمین پر اثرات، عرضِ بلد حساب سے مختلف ہوں گے اور جوں جوں سورج گرہن کو دیکھنے کا مقام تبدیل ہوگا، وہاں کسُوف کی وجہ سے جنم لینے والی تاریکی اور اس کا دورانیہ بھی تبدیل ہوتا رہے گا۔
سپیس ایجنسی نے مملکت میں شہریوں سے کہا ہے کہ وہ سورج گرہن کے وقت حفاظتی تدابیر کو ملحوظ رکھیں اور خصوصی چشمے یا فلٹر والی دُوربین کے بغیر آفتاب کو براہِ راست دیکھنے سے گریز کریں۔
