Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کچرے کے پرزوں سے بنا سولر رکشہ کوئٹہ کی سڑکوں پر

کچرے میں پڑے مختلف پرزوں سے تیار کیا گیا ایک رکشہ کوئٹہ کی سڑکوں پر نور محمد کی پہچان بن گیا ہے۔ پاکستانی الیکٹریشن کے لیے اس رکشے کی خاص بات لوگوں کی توجہ حاصل کرنا نہیں بلکہ وہ پٹرول ہے جو ان کے مطابق اب انہیں خریدنا نہیں پڑتا۔
ان کا بنایا ہوا یہ تین پہیوں والا رکشہ بیٹری سے چلتا ہے، جسے چھت پر لگے سولر پینل چارج کرتے ہیں۔ جب دھوپ کم ہو تو وہ بیٹری کو گھر کی بجلی سے چارج کر لیتے ہیں۔ نور محمد اس رکشے میں اپنے تین بچوں کو سکول لے کر جاتے ہیں تاہم انہوں نے اسے کرائے پر مسافروں کو لے جانے کے لیے رجسٹر نہیں کرایا۔
 

شیئر: