Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

 وژن 2030 کے تحت دس سال میں 93 فیصد اہداف حاصل کر لیے: سعودی ولی عہد کا شوریٰ کونسل سے خطاب

شوریٰ کونسل کے نویں سیشن کے تیسرے سال کی کارروائی کا افتتاح کیا ( فوٹو: ایس پی اے)
 شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی نیابت کرتے ہوئے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے بدھ  کو شوریٰ کونسل کے نویں سیشن کے تیسرے سال کی کارروائی کا افتتاح کیا ہے۔
ایس پی اے کے مطابق شوریٰ کونسل سے سالانہ خطاب میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ’ریاست آئندہ یوم تاسیس پر اپنے قیام کے 300 برس مکمل کر رہی ہے۔‘
’مملکت اپنے تمام ادوار میں کتاب اللہ اور سنت نبوی ﷺ پر قائم رہی ہے۔ توحید اور عدل و انصاف کو اپنا اصول بناتے ہوئے اسی راستے پرگامزن ہے۔ ہم اس وراثت اور اقدار کا تحفظ جاری رکھیں گے جو وقت کے ساتھ مزید مضبوط اور گہری ہوتی جارہی ہیں۔ یہی وہ بنیاد ہے جس نے شہریوں کے اندر اپنے خالص عقیدے اور مضبوط قومی شناخت سے وابستگی کو مزید مستحکم کیا ہے۔‘
ولی عہد کا کہنا تھا ’اللہ نے مملکت کو حرمین شریفین کی خدمت، اس کی تعمیر و ترقی اور زائرین کی دیکھ بھال کے عظیم شرف سے نوازا ہے۔ اس پر ہمیں فخر ہے۔‘
شہزادہ محمد بن سلمان نے مزید کہا ’وژن 2030 کے دس برس بھرپور کامیابیوں سے عبارت ہیں۔ اس دوران 93 فیصد اہداف حاصل کیے گئے۔ یہ کامیابی رب کریم کے فضل اور سعودی شہریوں کی محنت اور کارکردگی کی بدولت ممکن ہوئی ہے۔‘
 ’نان آئل برآمدات میں 2016 کے مقابلے میں 155 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ملکی معیشت میں نجی شعبے کا حصہ 51 فیصد تک پہنچ گیا۔ ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کے نظام نے سپلائی چینز میں آنے والی تبدیلیوں سے نمٹنے اوراشیا و سروسز کی ترسیل کو مستقل بنیادوں پر رواں رکھنے کے حوالے سے اپنی صلاحیت ثابت کی۔‘
ان کا کہنا تھا ’پبلک انویسٹمنٹ فنڈ نے آئندہ 5 برس کے لیے اپنی حکمت عملی پرعمل درامد شروع کردیا ہے جس میں مقامی اقتصادی نظام کی تعمیر، نجی شعبے کے ساتھ کلیدی شراکت داری، اقتصادی تبدیلی کے لیے مقامی مواد میں اضافہ اور بیک وقت پائیدار مالی منافع کا حصول ترجیح ہے۔‘
’قومی ترقیاتی فنڈ بھی متعدد شعبوں کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے جسے سالانہ مالی معاونت حاصل ہے تاکہ متعلقہ اہداف حاصل کیے جاسکیں۔‘
شہزادہ محمد بن سلمان نے مزید کہا ’مملکت کئی عالمی انڈیکیٹرز میں نمایاں مقام پر ہے۔ ڈیجیٹل تیاری، ٹیلی کمیونیکیشن اور سائبر سکیورٹی انڈیکس میں سرفہرست جبکہ ڈیجیٹل گورنمنٹ کے انڈیکس میں مملکت دوسرے نمبر پر ہے۔ کان کنی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے حوالے سے مملکت دنیا کے دس سب سے زیادہ پرکشش ممالک میں شامل ہے۔‘
انہوں نے کہا ’سال 2026 کو ہم نے مصنوعی ذہانت کا سال قرار دیا ہے تاکہ اس عزم کی تجدید کی جاسکے کہ مملکت مصنوعی ذہانت کی ایپلی کیشنز اورسلوشن تیار کرنے، ان سے پیداواری صلاحیت بڑھانے، سروسز کے معیار کو بہتر بنانے اور سعودی صلاحیتوں کو تربیت دینے میں عالمی سطح پر قائدانہ کردار ادا کرے۔‘
موجودہ صورتحال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ولی عہد کا کہنا تھا ’علاقائی صورتحال نے یہ ثابت کیا کہ طویل المدتی منصوبہ بندی کا مطلب جمود نہیں بلکہ بدلتے حالات کے ساتھ خود کو ڈھالنے کی صلاحیت ضروری ہے۔‘

 

شیئر: