Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی ولی عہد کا علاقائی خطرات سے خبردار کرتے ہوئے مشترکہ خلیجی سکیورٹی پر زور

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے علاقائی خطرات سے خبردار کرتے ہوئے مشترکہ خلیجی سکیورٹی پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا  ’سعودی عرب علاقائی کشیدگی کو کم کرنے اور سفارتی حل کی کوششیں جاری رکھے گا۔ خلیج کی سلامتی و استحکام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔‘
شوری کونسل کے نویں اجلاس کے تیسرے سال کے افتتاح کے موقع  پر بدھ کو سالانہ خطاب میں سعودی ولی عہد نے کہا ’ہم کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل کی سپورٹ کے لیے ہرممکن کوشش کررہے ہیں، تاہم  اپنی سلامتی کے تحفظ میں کسی قسم کی غفلت نہیں برتیں گے۔ کسی بھی خطرے یا حملے کا فیصلہ کن جواب دینے سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔‘
’خلیجی تعاون کونسل کے تمام ممالک کو نشانہ بنانے والے حملے اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ خلیج کی سلامتی و استحکام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور انہیں تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔ ہم اپنے برادر ممالک کے ساتھ مل کر خلیجی سلامتی کے تحفظ، سٹریٹیجک تعاون، اقتصادی انضمام کے فروغ اور خادم حرمین شریفین کے وژن کے مطابق مشترکہ اقدامات کو جاری رکھنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔‘
سعودی ولی عہد کا کہنا تھا ’خطے کے استحکام کے فروغ، اسے کشیدگی اور تنازعات کے اثرات سے محفوظ رکھنے اور کوششوں میں ہم آہندگی سلسلے میں ’مکہ دفاعی اتحاد‘ سعودی عرب، جمہوریہ ترکیہ اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے درمیان قائم کیا گیا ہے۔‘
’یہ اقدام خطے میں سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے ہماری مشترکہ ذمہ داری کے تحت کیا گیا۔ اس سلسلے میں ہم برادر اور دوست ممالک کی جانب سے سعودی عرب ساتھ کھڑے ہونے اور سلامتی و استحکام کے فروغ کے حوالے سے ان کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا’ آج دنیا کو ایک ایسی توانائی کی کھلی اور غیریقینی بحران کی صورتحال کا سامنا ہے جس میں سعودی عرب عالمی توانائی کے تحفظ کا ضامن بنا ہوا ہے۔ مملکت نے کشیدگی کے باوجود عالمی منڈیوں کو تیل کی فراہمی کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے اپنی صلاحیت کو ثابت کیا ہے۔‘
’اسی طرح مملکت نے بین الاقوامی بحری گزرگاہوں میں بحری سلامتی اور مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے ’کثیر القومی بحری دفاعی اتحاد‘ قائم کرنے میں پہل کی تاکہ ان گزرگاہوں کو سیاسی یا اقتصادی دباو کے لیے استعمال کرنے کی مخالفت کی جاسکے۔ ہم اپنے شراکت داروں کے ساتھ بین الاقوامی تعاون، سلامتی کے تحفظ ، کشیدگی میں کمی اور تناو کے خاتمے کےلیے تمام کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ علاقائی اور عالمی استحکام حاصل کیا جاسکے۔‘
ولی عہد نے غزہ کے حوالے سے اپنے خطاب میں کہا ’ہم غزہ میں اپنے فلسطینی بھائیوں کے خلاف قابض حکام کے مسلسل وحشیانہ حملوں اور مسجد الاقصی کی متعدد خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کرتے ہیں۔ عالمی برادری اور بالخصوص سلامتی کونسل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنا مطلوبہ کردار ادا کرے تاکہ مستقل سیاسی حل تک پہنچا جاسکے۔‘
’فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے سعودی عرب کا عزم ایک مستقل موقف ہے اور ہماری کوششیں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک فلسطینی عوام اپنے جائز حقوق حاصل نہیں کرلیتے، جن میں بین الاقوامی اصولوں اور قراردادوں کے مطابق اپنی آزاد ریاست کا قیام شامل ہے۔
 یمن کے حوالے سے خطاب میں کہا’برادر ملک یمن کے حوالے سے مملکت اپنے جامع حمایت کے موقف کی توثیق کرتی ہے۔ سعودی عرب یمنی حکومت کی حمایت کے لیے قائم اتحاد کے ذریعے پورے ملک میں حکومت کی بحالی، وہاں استحکام کو لانے اور حوثی ملیشیاوں کے حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے کام کررہا ہے۔
 سوڈان کی وحدت اور استحکام، اس کے قانونی اداروں کے تحفظ اور اس کے عوام کو جنگ وتباہی سے محفوظ رکھنے کے لیے اپنے مستقل اور معاون موقف کی بھی توثیق کرتے ہیں۔

 

شیئر: