کشمیری شادی کی 600 سال قدیم روایتی دعوت، بدلتے وقت کے بدلتے انداز
14ویں صدی میں وسطی ایشیا سے کشمیر آنے والا ’وازوان‘ آج بھی کشمیری شادیوں کا اہم حصہ ہے۔(فوٹو:رائٹرز)
موسم خزاں کی آمد کے ساتھ ہی انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں شادیوں کی تقریبات کے لیے روایتی کھانے ’وازوان‘ کی تیاریاں شروع ہوجاتی ہیں، جہاں گوشت کو لکڑی کے ڈنڈوں سے کوٹنے کی مخصوص آواز سنائی دیتی ہے اور باورچی مختلف اقسام کے مٹن کے پکوان تیار کرتے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق 14ویں صدی میں وسطی ایشیا سے کشمیر آنے والا ’وازوان‘ آج بھی کشمیری شادیوں کا اہم حصہ ہے۔ اس دور میں حکمران ماہر باورچیوں کے ساتھ قالین اور شال بافی سے وابستہ کاریگروں کو بھی وادی میں لائے تھے۔

سری نگر کے قدیم شہر سے تعلق رکھنے والے 74 سالہ غلام نبی بابا ان روایتی باورچیوں میں شامل ہیں جو اپنے خاندان کا تعلق وسطی ایشیا سے آنے والے انہی باورچیوں سے جوڑتے ہیں۔

ان کے آباؤ اجداد ’وازپورہ‘ کے نام سے مشہور باورچیوں کی برادری کا حصہ تھے۔

غلام نبی بابا کے مطابق ’اس وقت گوشت کے صرف سات پکوان ہوتے تھے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ان میں اضافہ ہوتا گیا اور اب تقریباً 20 پکوان تیار کیے جاتے ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ شادی میں پیش کیے جانے والے پکوانوں کی تعداد اور تیار کیے جانے والے گوشت کی مقدار اکثر خاندان کی مالی حیثیت کی عکاسی کرتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ’40 سال پہلے شمالی کشمیر کے ڈیلینا گاؤں میں ایک شادی کے لیے میں نے 4 ہزار 500 کلو گوشت پکایا تھا۔ وہ بہت بڑی شادی تھی۔ عام طور پر ایک شادی میں ہم تقریباً 200 کلو گوشت پکاتے ہیں۔‘

وازوان کے پکوانوں میں اگرچہ وقت کے ساتھ اضافہ ہوا ہے، تاہم اسے تیار کرنے کا روایتی طریقہ آج بھی بڑی حد تک برقرار ہے۔ ہلکے مصالحوں کے ساتھ گوشت کو ہاتھ سے کوٹنے کے بعد لکڑی کی آگ پر دھیمی آنچ میں پکایا جاتا ہے۔

بابا نے بتایا کہ ’میں نے 15 سال کی عمر میں اپنے والد کے ساتھ یہ کام سیکھنا شروع کیا تھا اور اب تقریباً چھ دہائیوں سے کشمیری شادیوں میں وازوان پکا رہا ہوں۔‘

تاہم نئی نسل نے شادیوں میں باورچی کے طور پر کام کرنے کی اس روایت کو اسی انداز میں آگے نہیں بڑھایا۔ غلام نبی بابا کے بیٹے نے اپنا ریسٹورنٹ کھول لیا ہے۔

غلام نبی بابا کے مطابق ’ہمارے بچوں نے شادیوں میں کھانا پکانے کی روایت جاری نہیں رکھی کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ یہ کام بہت مصروف اور تھکا دینے والا ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ریسٹورنٹ میں کام کے اوقات نسبتاً بہتر ہوتے ہیں، جبکہ شادیوں میں باورچیوں کو تقریباً دن رات کام کرنا پڑتا ہے۔

بابا کا کہنا ہے کہ وہ مختلف ماحول میں اپنے خاندان کی صدیوں پرانی کھانوں کی روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔