پاکستان کے افغانستان پر ’منصوبہ بند اور محتاط‘ فضائی حملے، ’22 ہشت گرد مارے گئے‘
جمعرات 1 اکتوبر 2026 8:15
پاکستان کی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ ’آپریشن غضب للحق کے تحت افغانستان میں دہشت گرد تنظیوں کے ٹھکانوں کو منصوبہ بندی کے تحت محتاط طور پر فضائی حملوں کا نشانہ بنایا جن میں متعدد دہشت گرد ہلاک ہوئے۔‘
جمعے کی صبح وزارت داخلہ کے ایکس اکاؤنٹ پر کی گئی پوسٹ کے مطابق ’باوثوق انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر افغانستان میں دو مقامات پر فتنہ الخواج اور فتنہ الہندوستان اور ان کے معاون گروہوں سے تعلق رکھنے والے دو مقامات کو نشانہ بنایا گیا، کارروائی بالکل درستی کے ساتھ کی گئی اور اہداف کو تباہ کیا گیا، جن میں ابتدائی معلومات کے مطابق 22 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔‘
بیان کے مطابق ان ٹھکانوں پر ذخیرہ کیے گئے بڑی مقدار میں ہتھیاروں اور گولہ بارود بھی بھی تباہ کیا گیا۔
اسی بارے میں فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستانی حکام نے پڑوسی ملک افغانستان پر فضائی حملوں کی تصدیق کی ہے جہاں ان کے مطابق شدت پسند موجود ہیں اور حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ’مںصوبہ بندی کے تحت محتاط انداز‘ میں کیے گئے۔
پاکستانی وزارت داخلہ کی پوسٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے تاہم شہریوں کا تحفظ اور سلامتی اولین ترجیح ہے۔
بیان کے مطابق ’یہ امر تشویشناک ہے کہ افغانستان بدستور دہشت گردی کا مرکز بنا ہوا ہے اور پاکستان کو لاحق دہشت گردی کے خطرات افغانستان سے نکلتے ہیں۔ یہ کارروائی اسی تناظر میں کی گئی اور دہشت گردوں کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔‘
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’کارروائی کے دوران انتہائی احتیاط سے کام لیا گیا اور اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ کسی قسم کا ضمنی نقصان نہ ہو۔‘
حالیہ برسوں کے دوران پاکستان کی پولیس اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جبکہ دونوں ممالک کے درمیان فروری سے اب تک ہونے والی جھڑپوں میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، پاکستان کی جانب سے فضائی حملوں کے بعد افغانستان نے بھی جوابی کارروائیاں شروع کی تھیں۔
اسلام آباد کے حکام تشدد کا زیادہ تر ذمہ دار پاکستانی طالبان (ٹی ٹی پی) اور اس سے وابستہ عسکریت پسندوں کے گروہوں کو قرار دیتے ہیں، پاکستانی طالبان 2021 میں اقتدار میں آنے والے افغان طالبان سے الگ تنظیم ہے تاہم ان کو افغان طالبان کا اتحادی سمجھا جاتا ہے۔