Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان کے افغانستان پر ’منصوبہ بند اور محتاط‘ فضائی حملے، ’22 دہشت گرد مارے گئے‘

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات پچھلے چند ماہ سے سخت کشیدگی کا شکار ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ ’آپریشن غضب للحق کے تحت افغانستان میں دہشت گرد تنظیوں کے ٹھکانوں کو منصوبہ بندی کے تحت محتاط طور پر فضائی حملوں کا نشانہ بنایا جن میں متعدد دہشت گرد ہلاک ہوئے۔‘
جمعرات کی صبح وزارت داخلہ کے ایکس اکاؤنٹ پر کی گئی پوسٹ کے مطابق ’باوثوق انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر افغانستان میں دو مقامات پر فتنہ الخواج اور فتنہ الہندوستان اور ان کے معاون گروہوں سے تعلق رکھنے والے دو مقامات کو نشانہ بنایا گیا، کارروائی بالکل درستی کے ساتھ کی گئی اور اہداف کو تباہ کیا گیا، جن میں ابتدائی معلومات کے مطابق 22 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔‘
 بیان کے مطابق ان ٹھکانوں پر ذخیرہ کیے گئے بڑی مقدار میں ہتھیاروں اور گولہ بارود بھی بھی تباہ کیا گیا۔ یہ حملے ’منصوبہ بندی کے تحت محتاط انداز‘ میں کیے گئے۔
دوسری جانب افغان حکومت کا کہنا ہے کہ ہلمند اور کنڑ میں ہونے والے حملوں میں نو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
یہ حملے پچھلے ہفتے کیے گئے فضائی حملوں کے بعد کیے گئے ہیں، اس وقت اسلام آباد کا کہنا تھا کہ ڈرون حملوں کے جواب میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایکس پر بیان میں لکھا کہ ’ہم اس کارروائی کی مذمت کرتے ہیں اور اسے تمام مسلمہ اصولوں کی خلاف ورزی اور جارحیت قرار دیتے ہیں۔‘
فریقین کی جانب سے ہلاکتوں کے حوالے سے کیے گئے دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
 پاکستانی وزارت داخلہ کی پوسٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے تاہم شہریوں کا تحفظ اور سلامتی اولین ترجیح ہے۔
بیان کے مطابق ’یہ امر تشویشناک ہے کہ افغانستان بدستور دہشت گردی کا مرکز بنا ہوا ہے اور پاکستان کو لاحق دہشت گردی کے خطرات افغانستان سے نکلتے ہیں۔ یہ کارروائی اسی تناظر میں کی گئی اور دہشت گردوں کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔‘
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’کارروائی کے دوران انتہائی احتیاط سے کام لیا گیا اور اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ کسی قسم کا ضمنی نقصان نہ ہو۔‘
تازہ کارروائی سے قبل بھی دونوں ممالک نورستان میں ہونے والی لڑائی کے حوالے سے ایک دوسرے پر الزامات لگا چکے ہیں۔
حالیہ کارروائیوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان قریباً تین ماہ سے جاری نسبتاً پرسکون فضا ختم ہو گئی ہے۔
پڑوسی ممالک کے تعلقات میں اس وقت کشیدگی بڑھتی دیکھی گئی جب پاکستان میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے حملوں کا سلسلہ بڑھا۔
اسلام آباد کابل پر الزام لگاتا ہے کہ افغان حکومت اس گروپ کے ارکان کو پناہ دیتی ہے جبکہ کابل اس کی تردید کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ پاکستان میں عسکریت پسندی اس کا اندرونی مسئلہ ہے۔
ٹی ٹی پی جس کو پاکستانی طالبان بھی کہا جاتا ہے، 2021 میں اقتدار میں آنے والے افغان طالبان سے الگ تنظیم ہے تاہم ان کو افغان طالبان کا اتحادی سمجھا جاتا ہے۔

شیئر: