پاکستان کی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ ’آپریشن غضب للحق کے تحت افغانستان میں دہشت گرد تنظیوں کے ٹھکانوں کو منصوبہ بندی کے تحت محتاط طور پر فضائی حملوں کا نشانہ بنایا جن میں متعدد دہشت گرد ہلاک ہوئے۔‘
جمعرات کی صبح وزارت داخلہ کے ایکس اکاؤنٹ پر کی گئی پوسٹ کے مطابق ’باوثوق انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر افغانستان میں دو مقامات پر فتنہ الخواج اور فتنہ الہندوستان اور ان کے معاون گروہوں سے تعلق رکھنے والے دو مقامات کو نشانہ بنایا گیا، کارروائی بالکل درستی کے ساتھ کی گئی اور اہداف کو تباہ کیا گیا، جن میں ابتدائی معلومات کے مطابق 22 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔‘
مزید پڑھیں
بیان کے مطابق ان ٹھکانوں پر ذخیرہ کیے گئے بڑی مقدار میں ہتھیاروں اور گولہ بارود بھی بھی تباہ کیا گیا۔ یہ حملے ’منصوبہ بندی کے تحت محتاط انداز‘ میں کیے گئے۔
دوسری جانب افغان حکومت کا کہنا ہے کہ ہلمند اور کنڑ میں ہونے والے حملوں میں نو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
یہ حملے پچھلے ہفتے کیے گئے فضائی حملوں کے بعد کیے گئے ہیں، اس وقت اسلام آباد کا کہنا تھا کہ ڈرون حملوں کے جواب میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایکس پر بیان میں لکھا کہ ’ہم اس کارروائی کی مذمت کرتے ہیں اور اسے تمام مسلمہ اصولوں کی خلاف ورزی اور جارحیت قرار دیتے ہیں۔‘
*1st October, 2026;*
In continuation of operation Ghazab lil Haq and Pakistan’s resolve to eliminate terrorists, their networks and supporters, well planned and calibrated aerial strikes against the hideouts and safe havens of terrorists organisations of Fitna al Khwarij and…
— Ministry of Information & Broadcasting (@MoIB_Official) October 1, 2026












