Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

برطانیہ نے لندن کے عجائب گھروں میں تمام سیاحوں کا داخلہ مفت رکھنے کا فیصلہ کیوں کیا؟

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق برطانوی عجائب گھر ملکی معیشت میں سالانہ ایک ارب پاؤنڈ سے زائد کا حصہ ڈالتے ہیں (فوٹو: روئٹرز)
انگلینڈ کے تمام قومی عجائب گھروں (میوزیمز) میں غیر ملکی سیاحوں کا داخلہ مفت رہے گا۔
برطانوی نشریاتی ادارے سکائی نیوز کے مطابق برطانوی حکومت نے ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کے لیے بلا معاوضہ داخلے کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہ کرنے کا حتمی فیصلہ کیا ہے۔
یہ فیصلہ حکومت، عجائب گھروں کی انتظامیہ اور سیاحت کے شعبے سے وابستہ ماہرین کے درمیان کئی ماہ تک جاری رہنے والی ان مشاورتی کوششوں کے بعد سامنے آیا ہے جن کا مقصد یہ جائزہ لینا تھا کہ آیا غیر ملکی سیاحوں سے داخلہ فیس وصول کر کے اِن ثقافتی اداروں کی آمدنی میں اضافہ کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟
اس سے قبل مارچ میں وزرا نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ بین الاقوامی سیاحوں پر ٹکٹ لاگو کرنے سے سرکاری مالی معاونت سے چلنے والے اِن اداروں کو ’نمایاں مالی فوائد’ حاصل ہو سکتے ہیں۔
یہ تجویز سابق لیبر وزیر لیڈی مارگریٹ ہوج کی ایک رپورٹ کے بعد پیش کی گئی تھی جس میں نیوزی لینڈ اور سنگاپور کی مثال دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ’مقامی شہریوں کو داخلے کی مفت سہولت دے کر غیر ملکی سیاحوں سے فیس وصول کی جا سکتی ہے۔‘
تاہم، برطانوی شعبہ برائے ڈیجیٹل، کلچر، میڈیا اینڈ سپورٹس نے منگل کو اس بات کی تصدیق کی کہ بلامعاوضہ داخلے کی پالیسی تمام سیاحوں کے لیے بلا تفریق برقرار رہے گی۔
وزارتِ ثقافت کے مطابق، حکومت کا ماننا ہے کہ غیر ملکی سیاحوں پر فیس عائد کرنے سے مقامی سیاحوں کی آمد پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے اور اس فیس کے اثرات و فوائد تمام عجائب گھروں پر یکساں نہیں ہوں گے، اس لیے یہ فیصلہ واپس لیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ انگلینڈ کے 15 قومی عجائب گھروں کی مستقل نمائشوں میں سال 2001 سے دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں سیاحوں کا داخلہ بالکل مفت ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یہ عجائب گھر ملکی معیشت میں سالانہ ایک ارب پاؤنڈ سے زائد کا حصہ ڈالتے ہیں۔ سال 2025 میں ’نیچرل ہسٹری میوزیم‘ نے 71 لاکھ اور ’برٹش میوزیم‘ نے 64 لاکھ سے زائد سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔

سال 2025 میں ’نیچرل ہسٹری میوزیم‘ نے 71 لاکھ اور ’برٹش میوزیم‘ نے 64 لاکھ سے زائد سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کیا (فوٹو: روئٹرز)

ٹکٹوں کی عدم موجودگی میں یہ عجائب گھر خصوصی نمائشوں، تقریبات، رکنیت سازی اور سووینئر شاپس کے ذریعے اپنی آمدن حاصل کرتے ہیں۔
لندن کے میئر صادق خان نے اس فیصلے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’لندن کے میوزیم دنیا بھر میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ برطانوی حکومت کا یہ فیصلہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ثقافت تک رسائی ایک حق ہے، کوئی رعایت نہیں۔‘
ثقافت کی وزیرِ مملکت لیزا نینڈی اور برٹش میوزیم کے ڈائریکٹر نیکولس کلینن نے بھی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ’سال 1753 میں دنیا کے اولین قومی عجائب گھر برٹش میوزیم کی بنیاد ہی ’تمام افراد کے لیے مفت داخلے‘ پر رکھی گئی تھی اور یہ روایت آئندہ بھی جاری رکھی جائے گی۔‘

شیئر: