امریکہ کی ریاست ٹینیسی کی جیل میں 30 ستمبر کو سزائے موت کے عمل سے بچ جانے والی امریکی خاتون کرسٹا پائیک کے وکلا نے منگل کو بتایا کہ وہ اب ہوش میں آ گئی ہیں اور بات چیت بھی کر رہی ہیں۔ گذشتہ ہفتے انہیں مہلک انجیکشن کے ذریعے سزائے موت دینے کی کوشش ناکام ہو گئی تھی جب انہیں دوا پینٹوباربیٹل کی دو خوراکیں دی گئی تھیں جسے جان لیوا سمجھا جاتا ہے۔ مزید دیکھیے اس ویڈیو رپورٹ میں





